کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اس شخص کے بارے میں بیان جسے کوئی چیز دی جائے تاکہ وہ اسے اللہ کی راہ میں (جہاد وغیرہ میں) استعمال کرے۔
حدیث نمبر: 3534
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ قَالَ: " أَرَدْتُ الْغَزْوَ فَتَجَهَّزْتُ بِمَا فِي يَدِي، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ رَجُلٌ بِمَعُونَةٍ سِتِّينَ دِينَارًا، فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقُلْتُ: أَدَعُ لِأَهْلِي بِقَدْرِ مَا أَنْفَقْتُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ إِذَا بَلَغْتَ رَأْسَ الْمَغْزَى فَهُوَ كَهَيْئَةِ مَالِكَ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ سَعِيدٍ "
مظاہر امیر خان
ایک شخص غزوہ کے لیے نکلا، کسی نے اسے ساٹھ دینار مدد کے طور پر دیے، اس نے پوچھا: ”کیا میں اپنے اہل کے لیے کچھ رکھ سکتا ہوں؟“ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نہیں، جب میدان جنگ میں پہنچو تو یہ مال تمہارا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3535
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي الرَّجُلِ يُعْطَى الشَّيْءَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ: «إِذَا بَلَغَ رَأْسَ الْمَغْزَى فَهُوَ كَسَائِرِ مَالِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو مال جہاد کے لیے دیا جائے، جب میدان میں پہنچو تو وہ تمہارے اپنے مال کی طرح ہے۔“
حدیث نمبر: 3536
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا حَمَلَ عَلَى الْبَعِيرِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ لَهُ: " إِذَا أَرَادَ الشَّامَ إِذَا جِئْتَ وَادِيَ الْقُرَى مِنْ طَرِيقِ الشَّامِ فَاصْنَعْ بِهِ مَا تَصْنَعُ بِمَالِكَ، فَإِذَا أَرَادَ مِصْرَ قَالَ: إِذَا جِئْتَ سُقْيَا مِنْ طَرِيقِ مِصْرَ فَاصْنَعْ بِهِ مَا تَصْنَعُ بِمَالِكَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی اونٹ کو اللہ کی راہ میں دیتے تو کہتے: ”جب شام کے راستے پر وادی القریٰ پہنچو تو اپنے مال کی طرح برتاؤ کرو۔“
حدیث نمبر: 3537
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقْبَلُ مَا أُعْطِيَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَغَيْرِهِ " قَالَ بَكْرٌ: وَمَا رَأَيْنَا أَحَدًا يُنْكِرُ ذَلِكَ، وَلَا يُغَيِّرُهُ قَالَ بَكْرٌ: وَأَخْبَرَنِي يَسَارٌ عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا لَقِيَهُ، فَقَالَ: «أَغَازٍ أَنْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمْسِكْ هَذِهِ الْخَمْسَةَ الدَّنَانِيرَ فَاقْبَلْهَا» قَالَ بَكْرٌ: وَتَصْنَعُ فِيمَا أُعْطِيتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا كُنْتَ صَانِعًا بِمَالِكَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راہِ خدا میں دیے جانے والے مال کو قبول کرتے تھے اور اس میں کوئی برائی نہیں سمجھتے تھے۔
وضاحت:
پہلا حصہ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول): ✔️ ثقہ رواة سے مروی ہے، اثرِ صحیح ہے۔ دوسرا حصہ (شیخ انصاری کا واقعہ): ❌ سند میں مجہول شیخ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ تاہم بکر بن سوادہ کے اپنے تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ: "فی سبیل اللہ دی گئی چیز پر انسان ذاتی تصرف کا حق رکھتا ہے، جب وہ اس کے سپرد ہو جائے"