کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: جہاد کی فضیلت کا بیان، اور یہ کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ، ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا أَشْهَدُ، وَأَشْهَدُ لَا يَشْهَدُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے کہ صحابہ نے پوچھا: ”کون سا عمل افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان، اس کی راہ میں جہاد، اور حج مبرور۔“ پھر ایک آواز آئی: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں بھی گواہی دیتا ہوں، اور جو دل سے یہ کہے وہ شرک سے بری ہے۔“
حدیث نمبر: 3516
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، قَالَ: نا مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جِهَادُ النِّسَاءِ الْحَجُّ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کا جہاد حج ہے۔“
وضاحت:
اگرچہ صالح بن موسى الطلحي کی روایت ضعیف جداً ہے، مگر چونکہ یہ مضمون بخاری و مسلم اور دیگر صحاح و سنن میں صحیح اسناد سے مروی ہے، اس لیے یہ روایت مضموناً صحیح ہے۔
شواہد سے تقویت: اصل حدیث "جهاد النساء الحج" صحیح الاسناد دیگر طرق سے یوں مروی ہے: ❖ صحیح بخاری (2784): «عن عائشة رضي الله عنها، أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: لكنَّ أفضلَ الجهاد حجٌّ مبرورٌ»
شواہد سے تقویت: اصل حدیث "جهاد النساء الحج" صحیح الاسناد دیگر طرق سے یوں مروی ہے: ❖ صحیح بخاری (2784): «عن عائشة رضي الله عنها، أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: لكنَّ أفضلَ الجهاد حجٌّ مبرورٌ»
حدیث نمبر: 3517
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کون سا عمل افضل ہے؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان، اللہ کی راہ میں جہاد، اور حج مبرور۔“
حدیث نمبر: 3518
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نا مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، قَالَتْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سيبلِ اللَّهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کون سا عمل افضل ہے؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان، اللہ کی راہ میں جہاد، اور حج مبرور۔“
وضاحت:
سند میں کوئی راوی مجروح یا متروک نہیں ہے، راویوں کا مجموعی معیار "حسن" درجے کی روایت کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا: یہ روایت سندًا حسن ہے۔ اور چونکہ یہ مضمون صحیحین (بخاری و مسلم) میں متعدد صحیح اسناد سے بھی آیا ہے (جیسے: روایت سیدہ عائشہ، ابن عباس، ابو ذر، ابوہریرہ وغیرہ سے)، اس لیے یہ حدیث شواہد و متابعات کی بنا پر "صحیح" درجہ رکھتی ہے۔
حدیث نمبر: 3519
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي افْتَرَضْتُ عَلَى نَفْسِيَ الْجِهَادَ، وَإِنِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلِيلٌ لَا قُوَّةَ لِي فِي نَفْسِي وَلَا ذَاتِ يَدِي، فَقَالَ: " هَلُمَّ إِلَى جِهَادٍ لَا شَوْكَةَ فِيهِ: الْحَجِّ "
مظاہر امیر خان
ایک انصاری شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”میں نے اپنے اوپر جہاد فرض کر لیا ہے، لیکن میں بوڑھا اور کمزور ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ ایک ایسے جہاد کی طرف جس میں کانٹے نہیں: حج۔“
حدیث نمبر: 3520
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى جِهَادٍ لَا شَوْكَةَ فِيهِ؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «حَجُّ الْبَيْتِ»
مظاہر امیر خان
ایک عورت روایت کرتی ہیں: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا جہاد نہ بتاؤں جس میں کانٹے نہ ہوں؟“ کہا: ”ضرور۔“ فرمایا: ”بیت اللہ کا حج۔“
حدیث نمبر: 3521
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ _ إِنْ كَانَ قَالَهُ _ «جِهَادُ الْكَبِيرِ وَالضَّعِيفِ وَالْمَرْأَةِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اگر فرمایا): ”بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔“
وضاحت:
یہ حدیث سنداً صحیح ہے، تمام رواۃ ثقہ اور مشہور ہیں، کسی پر کوئی جرح معروف نہیں۔ البتہ حدیث کے متن میں الفاظ ہیں: "إن كان قاله" یعنی "اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو"، جو کہ حدیث میں تردد کی علامت ہے، یعنی راوی کو یقین نہیں کہ یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔ یہ تعبیر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں کبھی کبھار آتی ہے، جب انہیں الفاظ میں تردد ہوتا ہے۔ بعض محدثین اس وجہ سے اسے تعلیق یا وقف سمجھتے ہیں، لیکن اگر سند صحیح ہو (جیسا کہ یہاں ہے)، تو متن قابل قبول ہوتا ہے، خاص طور پر جب مفہوم دوسرے صحیح متون سے بھی تائید پاتا ہو۔ متن کا مفہوم: «بزرگ، کمزور اور عورت کا جہاد، حج اور عمرہ ہے» یہ مفہوم دوسری صحیح روایات سے بھی ثابت ہے، جیسے: عن عائشة رضی اللہ عنہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جهادكن الحج» (سنن ابن ماجہ، حدیث: 2901، صحیح)