کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اُس شخص کا بیان جو جہاد کے لیے نکلا حالانکہ اس کے ماں باپ راضی نہ تھے۔
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي خَرَجْتُ إِلَى الْهِجْرَةِ، وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”میں ہجرت کے لیے نکلا اور اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ آیا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور جس طرح انہیں رلایا ہے اسی طرح ہنسا دو۔“
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ لَهُ: «هَلْ مِنْ وَالِدٍ أَوْ وَالِدَةٍ؟» فَقَالَ: أُمِّي حَيَّةٌ، قَالَ: «فَانْطَلِقْ فَبِرَّهَا» فَانْطَلَقَ يَتَخَلَّلُ الرِّكَانَ يَحْمَدُ اللَّهَ "
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟“ اس نے کہا: ”میری ماں زندہ ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اس کی خدمت کرو۔“
حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي هَاجَرْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ هَجَرْتَ الشِّرْكَ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ، هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟» قَالَ: أَبَوَايَ، قَالَ: «أَذِنَا لَكَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَارْجِعْ، فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا»
مظاہر امیر خان
ایک یمنی شخص نے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”میں نے ہجرت کی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے شرک سے ہجرت کی ہے، لیکن کیا یمن میں تمہارے والدین ہیں؟“ عرض کیا: ”جی ہاں۔“ فرمایا: ”کیا انہوں نے اجازت دی؟“ کہا: ”نہیں۔“ فرمایا: ”واپس جاؤ، ان سے اجازت لو، اگر اجازت دیں تو جہاد کرو، ورنہ ان کی خدمت کرو۔“
وضاحت:
دراج أبو السمح اگرچہ کچھ محدثین نے ان کے بارے میں نرمی کا اظہار کیا، لیکن جب وہ "ابو الهيثم" سے روایت کرے تو اس کی روایت ضعیف قرار دی گئی ہے۔ امام احمد، امام نسائی، ابن حبان، دارقطنی وغیرہ نے واضح طور پر اس سلسلۂ سند کو منکر یا غیر محفوظ کہا ہے۔ امام ترمذی نے بھی اس سند کے ساتھ آئی ہوئی احادیث کو اکثر غریب یا لیس بالقوی کہا ہے۔
حدیث نمبر: 3512
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ , قَالَ: «فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟» قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا , قَالَ: «فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «ارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”میں ہجرت اور جہاد کروں گا اللہ کا اجر حاصل کرنے کے لیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟“ کہا: ”دونوں۔“ فرمایا: ”جاؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔“
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ " أَيَغْزُو الرَّجُلُ وَأَبَوَاهُ كَارِهَانِ، أَوْ أَحَدُهُمَا؟ قَالَ: «لَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: ”کیا آدمی اپنے والدین یا کسی ایک کی ناراضگی کے ساتھ جہاد کر سکتا ہے؟“ کہا: ”نہیں۔“
حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ طَلْحَةَ، أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَتْهُ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُطِيعَ أُمَّهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَيْضًا فِي زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى عُثْمَانَ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَأَمَرَهُ عُثْمَانُ أَنْ يَجْلِسَ فَقَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَمَرَنِي وَلَمْ يُجْبِرْنِي، فَقَالَ: «لَكِنِّي أُجْبِرُكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ رکھتے تھے، ان کی ماں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ماں کی اطاعت کا حکم دیا۔ پھر وہی معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تمہیں روک رہا ہوں۔“