کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اس شخص کے بارے میں بیان جس نے کسی مجاہد کو سامانِ سفر دیا یا اس کے اہلِ خانہ کی نگہداشت کی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں مجاہد کو سازوسامان دیا یا اس کے اہل میں اچھا سلوک کیا، گویا اس نے خود جہاد کیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لِحْيَانَ: «لِيَخْرُجَ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ» ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ: «أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْخَارِجِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو لحیان کے لیے حکم دیا: ہر دو میں سے ایک نکلے، اور قاعد کو کہا: جو اہل میں خیر کا معاملہ کرے گا، اسے آدھا اجر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَاشَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُجَهِّزْ غَازِيًا، وَلَمْ يَخْلُفْهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ، لَمْ يَمُتْ حَتَّى تُصِيبَهُ قَارِعَةٌ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زندہ رہا اور نہ خود جہاد کیا، نہ کسی مجاہد کو سامان دیا، نہ اس کے گھر والوں کی خبر لی، اس پر کوئی مصیبت آئے گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَهَّزَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، أَوْ غَازِيًا، أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، أَوْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حاجی، معتمر یا مجاہد کو سازوسامان دیا یا اس کے اہل میں خیر کیا یا روزہ دار کو افطار کرایا، اس کو ان سب کے برابر اجر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَغْزُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا، أَوْ يَخْلُفُهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى تُصِيبَهُ قَارِعَةٌ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں نہ جہاد کرے، نہ مجاہد کو سازوسامان دے، نہ اس کے اہل کا خیال رکھے، وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَنَا أُرِيدُ الْغَزْوَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أَخِيَ مَاتَ، وَأَوْصَى بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ يُتَصَدَّقُ بِهِ، وَقَالَ: لَا تَقْضِ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَفِي أَيِّ شَيْءٍ تَرَى أَنْ نَجْعَلَهُ؟ قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ يُجْعَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَلَمْ أَقُمْ مِنْ ثَمَّةَ إِلَّا بِصُرَّةٍ , قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَعْدَ الشِّبَعِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا کہ بھائی نے وصیت کی ہے صدقہ کرنے کی، ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سب سے بہتر مصرف اللہ کی راہ ہے۔“ اور فرمایا: ”جو موت کے وقت غلام آزاد کرے، وہ ایسے ہے جیسے پیٹ بھر کر تحفہ دے۔“