کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: گھر سے صرف جہاد کے لیے نکلنے کا حکم
حدیث نمبر: 3488
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، أَوْ تَضَمَّنَ اللَّهُ، أَوِ انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ، وَالْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَتَصْدِيقًا بِهِ إِنْ تَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى بَيْتِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اس شخص کے لیے ضمانت دی ہے — یا فرمایا: اللہ نے اس کی کفالت لی، یا فرمایا: اللہ نے اسے منتخب کیا — جو اس کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا، صرف اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اس کی تصدیق کرنے کے جذبے سے نکلا، کہ اگر وہ (جہاد میں) وفات پا گیا تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور اگر وہ لوٹا تو اپنے گھر واپس آئے گا اس حال میں کہ وہ اجر یا غنیمت حاصل کر چکا ہوگا۔“
وضاحت:
عبد الرحمن بن أبي الزناد – صدوق، لیکن کبار محدثین کے نزدیک ان کی روایت میں کچھ ضعف ہے خاص طور پر مدینہ سے باہر کی روایات میں۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں: ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3488
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيره
تخریج حدیث «إسناده حسن لغيره، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 36، 237، 2785، 2787، 2797، 2803، 2972، 3123، 5533، 7226، 7227، 7457، 7463، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1876، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1616، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4610، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3098، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1619، 1656، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2436، 2450، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2753، 2795، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2300، 2311، 2312، 2320، 2551، 2571، 2572،وأحمد فى «مسنده» برقم: 7278، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1069، 1070، 1118، 1119، 1120، 1123، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19659، 19660»
حدیث نمبر: 3489
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقٌ بِكَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے اس کے لیے ضمانت دی ہے جو صرف اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا اور اس کی بات کی تصدیق کی کہ یا تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا گھر واپس کرے گا اجر یا غنیمت کے ساتھ۔“
وضاحت:
عبد الرحمن بن أبي الزناد – صدوق، لیکن کبار محدثین کے نزدیک ان کی روایت میں کچھ ضعف ہے خاص طور پر مدینہ سے باہر کی روایات میں۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں: ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3489
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيره
تخریج حدیث «إسناده حسن لغيره، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 36، 237، 2785، 2787، 2797، 2803، 2972، 3123، 5533، 7226، 7227، 7457، 7463، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1876، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1616، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4610، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3098، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1619، 1656، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2436، 2450، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2753، 2795، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2300، 2311، 2312، 2320، 2551، 2571، 2572،وأحمد فى «مسنده» برقم: 7278، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1069، 1070، 1118، 1119، 1120، 1123، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19659، 19660»
حدیث نمبر: 3490
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: «مَا غَزَتْ غَازِيَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَصَابَتْ غَنِيمَةً إِلَّا عُجِّلَ لَهَا ثُلُثَا أَجْرِهَا مِنْ آخِرَتِهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ غَنِيمَةٌ تَمَّ الْأَجْرُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو لشکر اللہ کی راہ میں غزوہ کرتا اور غنیمت حاصل کرتا ہے، اس کا دو تہائی اجر دنیا ہی میں دیا جاتا ہے، اور اگر غنیمت نہ ہو تو پورا اجر ملتا ہے۔“
وضاحت:
حافظ ابن حجر اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: قاضی عیاض نے نقل کیا کہ بعض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ یہ حمید بن ہانئ کی روایت ہے اور وہ مشہور نہیں۔
لیکن امام ابن حجر فرماتے ہیں: "یہ بات رد کی جاتی ہے، کیونکہ وہ ثقہ ہیں، امام مسلم نے ان سے حجت پکڑی ہے، امام نسائی، ابن یونس اور دیگر نے ان کی توثیق کی ہے، اور کسی نے بھی ان پر جرح نقل نہیں کی۔"
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3490
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1906، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2427، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3125، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4318، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2497، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2785، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2313، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 18624، 18625، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6688، والطبراني فى«الكبير» برقم: 14661، 14662»
قال ابن حجر: حكاه عياض وذكر أن بعضهم أجاب عنه بأنه ضعف لأنه من رواية حميد بن هانئ وليس بمشهور وهذا مردود لأنه ثقة يحتج به عند مسلم وقد وثقه النسائي وابن يونس وغيرهما ولا يعرف فيه تجريح لأحد، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (6 / 10)