حدیث نمبر: 3477
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: نا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً، وَلَا يَجِدُونَ قُوَّةً فَيَتْبَعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي» وَقَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ «خِلَافَ سَرِيَّةٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے مومنوں پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں کبھی بھی اللہ کی راہ میں جہاد پر نکلنے والی کسی سریہ (فوجی مہم) سے پیچھے نہ رہتا۔ لیکن (اس وقت) میرے پاس اتنی وسعت نہیں، اور نہ ہی وہ (یعنی صحابہ) طاقت رکھتے ہیں کہ میرے ساتھ نکلیں، اور ان کے دل یہ گوارا نہیں کرتے کہ وہ میرے پیچھے بیٹھے رہیں۔“ اور ابن ابی الزناد رحمہ اللہ نے روایت کے آخر میں کہا: ”خلاف سریہ“ (یعنی جہاد کے کسی لشکر سے پیچھے رہنا خلاف طبیعت و شوق تھا)۔
وضاحت:
عبد الرحمن بن أبي الزناد – صدوق، لیکن کبار محدثین کے نزدیک ان کی روایت میں کچھ ضعف ہے خاص طور پر مدینہ سے باہر کی روایات میں۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں: ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں: ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
حدیث نمبر: 3478
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ، فَقَالَ: أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفَعَلَ، ثُمَّ قَالَ: «وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو سعید! جو شخص اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان لے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ ابو سعید نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایک اور عمل ہے جس کی بدولت بندے کو جنت میں سو درجے بلند کیے جاتے ہیں، جن کے درمیان فاصلہ ایسا ہوتا ہے جیسا آسمان و زمین کے درمیان ہوتا ہے۔“ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! وہ عمل کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد، اللہ کی راہ میں جہاد، اللہ کی راہ میں جہاد۔“
حدیث نمبر: 3479
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شَيْبَةَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» وَايْمُ اللَّهِ لَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي قُلْتُ: فَأَيُّ الذُّنُوبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، وَهُوَ خَلَقَكَ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ» قَالَ: فَمَا مَكَثْنَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِصْدَاقَهَا {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68]
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کون سا عمل سب سے افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقت پر نماز پڑھنا۔“ میں نے پوچھا: ”پھر کون سا؟“ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک۔“ میں نے پوچھا: ”پھر کون سا؟“ فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد۔“ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”قسم بخدا! اگر میں مزید پوچھتا تو آپ مزید بتاتے۔“ میں نے پوچھا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟“ فرمایا: ”تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا۔“ میں نے پوچھا: ”پھر کون سا؟“ فرمایا: ”تو اپنے بچے کو اس خوف سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا۔“ میں نے پوچھا: ”پھر کون سا؟“ فرمایا: ”تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہم زیادہ دیر نہ بیٹھے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرما دی: «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ» ترجمہ: اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اور نہ کسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا، اور نہ زنا کرتے ہیں۔ [الفرقان: 68]“
حدیث نمبر: 3480
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ بُعِثَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جس حالت پر مرے گا، قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3481
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا زَعِيمٌ - وَالزَّعِيمُ: الْحَمِيلُ - لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ، وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا، وَلَا لِلشَّرِّ مَهْرَبًا، يَمُوتُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ يَمُوتَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایمان لایا، اسلام قبول کیا، ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، میں اس کے لیے جنت میں تین گھروں کا ضامن ہوں۔“
حدیث نمبر: 3482
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أُدْرِكُ بِهِ عَمَلَ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: «كَمْ مَالُكَ؟» قَالَ: سِتَّةُ آلَافِ دِينَارٍ، فَقَالَ: «لَوْ أَنْفَقْتَهَا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَمْ تَبْلُغْ غُبَارَ شِرَاكِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أُدْرِكُ بِهِ عَمَلَ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: «لَوْ قُمْتَ اللَّيْلَ وَصُمْتَ النَّهَارَ لَمْ تَبْلُغْ نَوْمَ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”میں کس عمل سے مجاہدین کے عمل کو پا سکتا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سارا مال خرچ کر دو، تب بھی مجاہد کے جوتے کے تسمے کے غبار کو نہیں پہنچ سکتے۔“
حدیث نمبر: 3483
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ: «الْإِسْلَامُ بَيْتٌ وَاسِعٌ مَنْ دَخَلَ فِيهِ وَسِعَهُ، وَالْهِجْرَةُ بَيْتٌ وَاسِعٌ مَنْ دَخَلَ فِيهِ وَسِعَهُ، وَالْجِهَادُ بَيْتٌ وَاسِعٌ مَنْ دَخَلَ فِيهِ وَسِعَهُ، فَمَنْ أَسْلَمَ وَهَاجَرَ وَجَاهَدَ فَلَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا إِلَّا طَلَبَهُ وَلَا لِلشَّرِّ مَهْرَبًا إِلَّا هَرَبَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اسلام ایک کشادہ گھر ہے، ہجرت ایک کشادہ گھر ہے، جہاد ایک کشادہ گھر ہے، جو ان سب میں داخل ہوا، اس کے لیے ہر خیر موجود ہے۔“
وضاحت:
سند میں انقطاع (قطع) ہے کیونکہ "بلَغني" کا مطلب ہوتا ہے: روایت مرسل یا منقطع ہے۔ تابعی کا "بلغني" یا "يُقال" کہہ کر روایت کرنا حجت نہیں ہوتا جب تک وہ اسے متصل سند کے ساتھ بیان نہ کرے۔یہ اثر سنداً ضعیف (منقطع) ہے، کیونکہ بکر بن سوادة نے اسے بلاغاً روایت کیا ہے، یعنی واسطہ مجہول ہے۔
متن کا حکم: اثر کا معنی صحيح اور حکیمانہ ہے کہ: اسلام، ہجرت، اور جہاد وہ عظیم دروازے ہیں جن سے داخل ہو کر خیر کی تلاش اور شر سے فرار ممکن ہے۔ یہ بات دیگر صحیح نصوص سے بھی موافق ہے۔
متن کا حکم: اثر کا معنی صحيح اور حکیمانہ ہے کہ: اسلام، ہجرت، اور جہاد وہ عظیم دروازے ہیں جن سے داخل ہو کر خیر کی تلاش اور شر سے فرار ممکن ہے۔ یہ بات دیگر صحیح نصوص سے بھی موافق ہے۔
حدیث نمبر: 3484
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: نا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ} [التوبة: 120] الْآيَةَ كُلَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَوْلَا ضُعَفَاءُ النَّاسِ مَا كَانَتْ سَرِيَّةٌ إِلَّا كُنْتُ فِيهَا»
مظاہر امیر خان
جب یہ آیت نازل ہوئی: «مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ»، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، اگر کمزور لوگ نہ ہوتے تو میں ہر لشکر میں شریک ہوتا۔“
وضاحت:
یہ متصل سند ہے اور اس میں کوئی ضعف نہیں۔ چونکہ صحابی کا نام ذکر نہیں کیا گیا، لیکن چونکہ صحابہ کرام سب عدول ہیں، اس لیے یہ صحیح الاسناد روایت ہے۔ سند صحیح ہے، اور متن بھی شواہد سے مؤید ہے۔
حدیث نمبر: 3485
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: نا الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَنْزِعُ هَذِهِ الْآيَةَ {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} [فاطر: 32] أَلَا إِنَّ سَابِقَنَا: أَهْلُ جِهَادِنَا، أَلَا وَإِنَّ مُقْتَصِدَنَا: أَهْلُ حَضَرِنَا، إِلَّا وَإِنَّ ظَالِمَنَا: أَهْلُ بَدْوِنَا، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا نَزَعَ هَذِهِ الْآيَةَ قَالَ: «إِلَّا إِنَّ سَابِقَنَا سَابِقٌ، وَمُقْتَصِدَنَا نَاجٍ، وَظَالِمَنَا مَغْفُورٌ لَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے آیت «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا» تلاوت کرتے ہوئے فرمایا: ”ہمارے سابقین اہل جہاد ہیں، مقتصدين شہری لوگ ہیں، اور ظالمین دیہاتی لوگ ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمارا سابق نجات پا چکا، مقتصد بھی نجات پا گیا، اور ظالم بخشا گیا۔“
حدیث نمبر: 3486
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ رَهْبَانِيَّةً، وَإِنَّ رَهْبَانِيَّةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کی ایک رہبانیت ہوتی ہے اور میری امت کی رہبانیت اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔“
حدیث نمبر: 3487
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْنَا مَسِيرًا، وَقَطَعْنَا وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَنَا فِيهِ حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر نکلے، اور فرمایا: ’مدینہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ ہم جس سفر میں چلے، اور جس وادی سے گزرے، وہ بھی ہمارے ساتھ شمار ہوتے ہیں، انہیں بیماری نے (سفر سے) روک لیا تھا۔‘“