حدیث نمبر: 3473
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ النُّمَيْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا شُؤْمَ، وَالْيُمْنُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی کچھ نہیں ہے، برکت عورت، سواری اور گھر میں ہے۔“
حدیث نمبر: 3474
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَسْتَرْضِعَ الرَّجُلُ لِوَلَدِهِ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ وَالْفَاجِرَةَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”اگر کوئی شخص اپنے بچے کے لیے یہودیہ، نصرانیہ یا فاجرہ دودھ پلانے والی عورت رکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 3475
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْفَاجِرَةَ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے، مگر فاجرہ کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3476
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ أُرَاهُ عُتْوَارِيًّا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لِي: مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لَا، وَلَكِنَّهُمْ أَرْضَعُونِي، فَقَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّبَنَ يُشَبَّهُ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص، جو کنانہ قبیلے سے تھا (اور راوی کو غالب گمان تھا کہ وہ عتواری ہے)، بیان کرتا ہے: ”میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ’کیا تم فلاں قبیلے سے ہو؟‘ میں نے جواب دیا: ’نہیں، لیکن انہوں نے مجھے دودھ پلایا ہے۔‘ تو انہوں نے فرمایا: ’میں نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: دودھ (کی وجہ سے رشتہ داری) میں شبہ ہو سکتا ہے۔‘“