کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: بچہ ماں اور باپ دونوں کے درمیان ہو تو ان میں سے کون اس کی پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہے؟
حدیث نمبر: 3446
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَبْصَرَ عُمَرُ ابْنَهُ عَاصِمًا مَعَ جَدَّتِهِ، وَكَانَ عُمَرُ جَابَذَهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: «خَلِّ عَنْهَا» فَمَا رَاجَعَهُ الْكَلَامَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عاصم کو اپنی دادی کے ساتھ دیکھا تو سختی سے جھٹکا، تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ اور عمر خاموش ہو گئے۔
حدیث نمبر: 3447
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُمَرَ خَاصَمَ امْرَأَتَهُ أُمَّ عَاصِمٍ بِنْتَ عَاصِمٍ فِي ابْنِهِ مِنْهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: «ادْفَعْهُ إِلَيْهَا» فَمَا رَاجَعَهُ الْكَلَامَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی (عاصم کی ماں) سے بچے کے بارے میں جھگڑا کیا، تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا: ”بچے کو ماں کے حوالے کر دو۔“ اور عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر بحث نہ کی۔
حدیث نمبر: 3448
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ عُمَرَ خَاصَمَ امْرَأَتَهُ أُمَّ عَاصِمٍ فِي ابْنِهِ مِنْهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ _ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا _ فَقَضَى أَبُو بَكْرٍ لِأُمِّهِ، ثُمَّ قَالَ: «عَلَيْكَ نَفَقَتُهُ حَتَّى يَبْلُغَ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی ام عاصم سے ان کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا کیا اور معاملہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بچے کو اس کی ماں کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا، اور پھر فرمایا: ”اس (بچے) کا خرچ تمہارے ذمہ ہے جب تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 3449
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَضَى بِهِ لِأُمِّهِ، وَقَالَ: " رِيحُهَا، وَشَمُّهَا، وَلُطْفُهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْكَ
مظاہر امیر خان
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بچے کا فیصلہ اس کی ماں کے حق میں دیا اور فرمایا: ”اس کی خوشبو، اس کا اسے چومنا، اور اس کی نرمی و محبت تیرے مقابلے میں (یعنی باپ کے مقابلے میں) بچے کے حق میں بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 3450
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَضَى بِهِ لِأُمِّهِ، وَقَالَ: إِنَّ رِيحَهَا وَحِجْرَهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْكَ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بچے کا فیصلہ اس کی ماں کے حق میں کیا اور فرمایا: ”اس کی خوشبو اور اس کی گود تیرے مقابلے میں (یعنی باپ کے مقابلے میں) بچے کے لیے بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 3451
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، أَقْسَمَ عَلَى عُمَرَ «لَيَدَعِ الْغُلَامَ عِنْدَ أُمِّهِ» فَتَرَكَهُ عِنْدَهَا
مظاہر امیر خان
حضرت عطا رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قسم دے کر کہا کہ ”لڑکے کو اس کی ماں کے پاس رہنے دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ماں کے پاس چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 3452
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکے کو اس کے باپ اور ماں کے درمیان اختیار دیا۔
حدیث نمبر: 3453
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ، أنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ شِئْتُمَا خَيَّرْتُمَاهُ»، وَأَقَامَ الْأَبَ فِي نَاحِيَةٍ وَالْأُمَّ فِي نَاحِيَةٍ، ثُمَّ خَيَّرَ الْغُلَامَ، فَانْطَلَقَ نَحْوَ أُمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اهْدِهِ» فَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ
مظاہر امیر خان
عثمان البتی رحمہ اللہ، عبدالحمید بن سلمہ انصاری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم دونوں (ماں اور باپ) چاہو تو بچے کو اختیار دے دو۔“ چنانچہ باپ کو ایک طرف رکھا گیا اور ماں کو ایک طرف، پھر بچے کو اختیار دیا گیا، تو وہ اپنی ماں کی طرف چلا گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اسے ہدایت دے۔“ تو بچہ اپنے باپ کی طرف واپس آ گیا۔
حدیث نمبر: 3454
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَبَيْنَ أُمِّهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عبدالرحمن بن غنم رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک کم سن بچے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ اور ماں میں سے جس کے ساتھ چاہے رہنے کا انتخاب کر لے۔
حدیث نمبر: 3455
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي غُلَامٍ يَتِيمٍ، فَخَيَّرَهُ فَاخْتَارَ أُمَّهُ، وَتَرَكَ عَمَّهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «أَمَا إِنَّ جَدْبَ أُمِّكَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ خِصْبِ عَمِّكَ» قَالَ الصَّائِغُ بِالدَّالِ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یتیم بچے کا معاملہ لایا گیا، تو انہوں نے بچے کو اختیار دیا، چنانچہ اس نے اپنی ماں کو منتخب کیا اور چچا کو چھوڑ دیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یقیناً تمہاری ماں کی فقر اور تنگ دستی تمہارے لیے تمہارے چچا کی خوشحالی اور سکت سے بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 3456
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ الْجَرْمِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ الْجَرْمِيِّ، " أَنَا الَّذِي خَيَّرَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَ أُمِّهِ وَعَمِّهِ
مظاہر امیر خان
حضرت عمارہ بن الجرمیا رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے میری ماں اور چچا کے درمیان اختیار دیا تھا کہ میں جس سے چاہوں رہوں۔“
حدیث نمبر: 3457
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ أُمِّهِ «أَنَّ خَالَتُهُ خَاصَمَتْهَا عَصَبَةُ وَلَدِهَا إِلَى شُرَيْحٍ فِي بِنْتٍ وَابْنٍ لَهَا، فَاخْتَارَتِ الِابْنَةُ أُمَّهَا وَاخْتَارَ الْغُلَامُ عَمَّهُ»
مظاہر امیر خان
ایک عورت نے اپنے بھتیجے اور بھانجی کے سلسلے میں قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس مقدمہ دائر کیا، تو لڑکی نے ماں کو اختیار کیا اور لڑکے نے چچا کو۔
وضاحت:
خلاصہ: یہ روایت صحابۂ کرام کی سنت کی اتباع اور عدل و حکمت پر مبنی فیصلوں کی ایک زندہ مثال ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بچہ بالغ نہ ہونے کے باوجود اسے والدین کے درمیان انتخاب کی اجازت دی، جو کہ عدل، مصلحت اور شفقت کا امتزاج ہے۔
حدیث نمبر: 3458
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَابْنُ عَوْنٍ، وَهِشَامٌ، وَأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: «الْأَبُ أَحَقُّ وَالْأُمُّ أَرْفَقُ»
مظاہر امیر خان
حضرت قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باپ کا حق زیادہ ہے اور ماں زیادہ شفقت کرنے والی ہے۔“
حدیث نمبر: 3459
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: «الصِّبْيَةُ مَعَ أُمِّهَا مَا كَانَتْ وَمَعَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ مَا يُشْبِعُهُمْ، فَإِذَا افْتَرَقَتِ الدَّارُ فَالْأَوْلِيَاءُ أَحَقُّ»
مظاہر امیر خان
حضرت قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بچہ ماں کے پاس رہے گا جب تک کہ اس کے مال سے اس کا خرچہ چلتا ہے، جب دونوں الگ ہو جائیں تو اولیاء زیادہ حق دار ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 3460
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: جِيءَ بِصِبْيَانٍ مِنَ السَّوَادِ مَاتَ أَبُوهُمْ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: «خَيِّرُوهُمْ، فَلْيَكُونُوا مَعَ مَنْ أَحَبُّوا»
مظاہر امیر خان
حضرت قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب ایک باپ فوت ہو جائے تو بچوں کو اختیار سے رہنا چاہئیے کہ وہ جیسے چاہیں رہوں۔“
حدیث نمبر: 3461
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: اخْتَصَمَتْ أُمٌّ وَجَدَّةٌ إِلَى شُرَيْحٍ فَقَالَتِ الْجَدَّةُ: ¤ [البحر الهزج] ¤ أَبَا أُمَيَّةَ أَتَيْنَاكَ ... وَأَنْتَ الْمَرْءُ نَأْتِيهِ ¤ أَتَاكَ ابْنِي وَأُمَّاهُ ... وَكِلْتَانَا نُفَدِّيهِ ¤ ثُمَّ تَزَوَّجَتِ فَهَاتِيهِ ... وَلَا يَذْهَبْ بِكَ التِّيهُ ¤ فَلَوْ كُنْتِ تَأَيَّمْتِ ... لَمَا نَازَعْتُكُمْ فِيهِ ¤ أَلَا يَا أَيُّهَا الْقَاضِي ... فَهَذِهِ قِصَّتِي فِيهِ ¤ فَقَالَتِ الْأُمُّ: ¤ أَلَا يَا أَيُّهَا الْقَاضِي ... قَدْ قَالَتْ لَكَ الْجَدَّهْ ¤ مَقَالًا فَاسْتَمِعْ مِنِّي ... وَلَا تَنْظُرْ فِي رَدِّهْ ¤ أُعَزِّي النَّفْسَ عَنِ ابْنِي ... وَكَبِدِي حَمَلَتْ كَبِدَهْ ¤ فَلَمَّا كَانَ فِي حِجْرِي ... يَتِيمًا ضَائِعًا وَحْدَهْ ¤ تَزَوَّجْتُ رَجَاءَ الْخَيْرِ ... مَنْ يَكْفِينِي فَقْدَهْ ¤ وَمَنْ يَكْفُلُ لِي رِفْدَهْ ... وَمَنْ يُظْهِرُ لِي وُدَّهْ ¤ فَقَالَ شُرَيْحٌ: ¤ [البحر الرمل] ¤ قَدْ سَمِعَ الْقَاضِي مَا قُلْتُمَا ... وَقَضَى بَيْنَكُمَا ثُمَّ فَصَلْ ¤ بِقَضَاءٍ بَيِّنٍ بَيْنَكُمَا ... وَعَلَى الْقَاضِيَ جَهْدٌ إِنْ عَقَلْ ¤ فَقَالَ لِلْجَدَّةِ بِينِي بِالصَّبِيِّ ... وَخُذِي ابْنَكِ مِنْ ذَاتِ الْعِلَلْ ¤ إِنَّهَا لَوْ صَبَرَتْ كَانَ لَهَا ... قَبْلَ دَعْوَاهَا تَبْغِيهَا الْبَدَلْ " ¤
مظاہر امیر خان
حضرت قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک ماں اور دادی کا جھگڑا آیا، دونوں نے اپنے دعوے شاعری کے ذریعے بیان کیے، اور قاضی نے بچے کو ماں کے حوالے کر دیا۔
حدیث نمبر: 3462
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ، «جَبَرَ عُصْبَةَ صَبِيٍّ أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهِ الرِّجَالُ دُونَ النِّسَاءِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بچوں کے اولیاء کو حکم دیا کہ بچے پر مرد حضرات خرچ کریں، عورتیں نہیں۔
حدیث نمبر: 3463
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «غَرَّمَ ثَلَاثَةً كُلُّهُمْ يَرِثُ الصَّبِيَّ أَجْرَ رَضَاعِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تین افراد پر بچے کے دودھ پلانے کا خرچ واجب کیا، کیونکہ وہ سب بچے کے وارث تھے۔
حدیث نمبر: 3464
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: « إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِكُمْ » .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی سے ہے، پس اپنی کمائی میں سے کھاؤ۔“
حدیث نمبر: 3465
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ نَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ [7/145] عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « أَوْلَادُكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِ أَوْلَادِكُمْ » .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری اولاد تمہاری کمائی سے ہے، پس اپنی اولاد کے مال میں سے کھاؤ۔“
وضاحت:
یہ سند تابعی طریق سے مرسل نہیں بلکہ متصل ہے، اور الأعمش اگرچہ مدلس ہیں، لیکن یہاں "أبو معاوية" جیسے ثقہ راوی کے ذریعہ نقل ہے، اور اس متن کو دیگر روایات تقویت دیتی ہیں۔
حدیث نمبر: 3466
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَمْ يَذْكُرْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسا ہی مروی ہے، مگر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا گیا۔
حدیث نمبر: 3467
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ لِأَبِي مَالًا وَعِيَالًا، وَلِي مَالٌ وَعِيَالٌ، وَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِيَ فَيُنْفِقَهُ عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”میرے پاس بھی مال ہے اور میرے والد کے پاس بھی مال اور اہل و عیال ہیں، لیکن والد میرا مال اپنے خرچ میں لینا چاہتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے۔“
حدیث نمبر: 3468
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ أَبَاهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي يَأْخُذُ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ»
مظاہر امیر خان
ایک انصاری نے اپنے والد کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ کیا کہ میرا باپ میرا مال لے لیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 3469
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَلِأَبِي مَالٌ وَوَلَدٌ، يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي إِلَى مَالِهِ وَوَلَدِهِ، فَقَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”میرے اور میرے والد دونوں کے پاس مال اور اولاد ہیں، اور وہ میرا مال اپنے مال اور اپنی اولاد پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 3470
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلٌّ أَحَقُّ بِمَالِهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص اپنے مال میں اپنی اولاد، اپنے والد اور سب لوگوں سے زیادہ حق دار ہے۔“
وضاحت:
سند: مرسل (ضعیف از خود)، مگر شواہد کی وجہ سے حسن لغيره، حدیث کے یہ الفاظ: «أنت ومالك لأبيك» کئی اسانید سے مختلف صحابہ سے مروی ہیں: جابر بن عبد الله (صحیح ابن ماجہ، رقم: 2291) عبد الله بن عمرو (سنن أبي داود، رقم: 3530) عبد الله بن مسعود (الطبراني) سعد بن أبي وقاص
امام ترمذی نے بعض اسانید کو "حسن صحيح" کہا ہے۔
امام ترمذی نے بعض اسانید کو "حسن صحيح" کہا ہے۔
حدیث نمبر: 3471
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى أَبَا الشَّعْثَاءِ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي يَمْنَعُنِي مَالَهُ، فَقَالَ: «خُذْ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيكَ بِالْمَعْرُوفِ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے سیدنا ابو الشعثاء رحمہ اللہ سے شکایت کی کہ میرا بیٹا میرا مال نہیں دیتا، تو انہوں نے فرمایا: ”اس کے مال سے بقدر ضرورت معروف طریقے سے لے لو۔“
حدیث نمبر: 3472
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاللَّهِ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَدُ مِنْ كَسْبِ الْوَالِدِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا محارب بن دثار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اولاد والد کی کمائی سے ہے۔“
وضاحت:
اس مضمون کی حدیث دیگر کتب میں بھی موجود ہے: سنن أبي داود (3530) مسند أحمد (20125) ابن ماجه (2291) وغیرہ۔