حدیث نمبر: 3406
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَابْنُ عُمَرَ يَكْرَهَانِ الْعَزْلَ، وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ مَسْعُودٍ يَعْزِلَانِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عزل کو ناپسند کرتے تھے، جبکہ سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما عزل کرتے تھے۔
وضاحت:
وضاحت: روایات الزهري عن الصحابة زیادہ تر مرسل نوعیت کی ہوتی ہیں، مگر مقبول عند المحدثین۔ چونکہ یہاں صرف اقوالِ صحابہ نقل ہوئے ہیں (کوئی مرفوع حدیث نہیں)، لہٰذا مرسل روایت کا ضعف مضر نہیں – اور فقہی استدلال کے لیے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 3407
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " كَانَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ يَكْرَهَانِ الْعَزْلَ، وَيَقُولَانِ: مَنْ جَامَعَ فَأَكْسَلَ فَعَلَيْهِ الْغُسْلُ، وَكَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يَرَوْنَ بِالْعَزْلِ بَأْسًا، وَيَقُولُونَ: مَنْ جَامَعَ ثُمَّ أَكْسَلَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما عزل کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے: ”اگر جماع کے بعد انزال ہو تو غسل لازم ہے۔“ جبکہ انصار کے بعض لوگ عزل میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور کہتے تھے: ”اگر انزال نہ ہو تو غسل واجب نہیں۔“
وضاحت:
? یہ سابقہ اثر (2229) کی توسیع و تائید ہے
? ثابت ہوتا ہے کہ عزل کے مسئلے میں اختلافِ اجتہاد صحابہ کے درمیان موجود تھا
? ثابت ہوتا ہے کہ عزل کے مسئلے میں اختلافِ اجتہاد صحابہ کے درمیان موجود تھا
حدیث نمبر: 3408
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ «أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لَهُ، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ، فَعَرَفَ الشَّبَهَ، فَأَقَرَّ بِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنی باندی سے عزل کرتے تھے، لیکن جب بچہ پیدا ہوا تو مشابہت دیکھ کر اسے اپنا بیٹا تسلیم کیا۔
حدیث نمبر: 3409
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، نا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ ضَرَبَ بَعْضَ وَلَدِهِ عَلَى الْعَزْلِ، وَكَانَ يَكْرَهُهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی بیٹے کو عزل کرنے پر مارا تھا، اور وہ اسے ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3410
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عَبَّاسٍ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ، وَكَانَ يَطَؤُهَا، وَيَعْزِلُ عَنْهَا، وَيَجْعَلُ مَاءَهُ فِي خِرْقَةٍ، وَيُرِيهَا إِيَّاهَا .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ ان کی ایک سیاہ فام باندی تھی، اور وہ اس سے مباشرت کرتے تھے، اور عزل کرتے تھے، اور اپنا منی کپڑے میں جمع کر کے اسے دکھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 3411
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: « كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُهُ، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا » .
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: ”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے ناپسند کرتے تھے، اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 3412
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ حُصَيْنٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ وَلَدٍ لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا « كَانَ يَعْزِلُ عَنْهَا » .
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جس سے وہ عزل کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3413
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ « أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ » .
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عزل کیا تھا۔
حدیث نمبر: 3414
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا هُشَيْمٌ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ أَيَعْزِلُ عَنْهَا مَخَافَةَ الْوَلَدِ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اپنی بیوی جو حائضہ تھی، کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ عزل کرے تاکہ حمل نہ ہو، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے اس کی اجازت دے دی۔
حدیث نمبر: 3415
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا هُشَيْمٌ، أَنَا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: « يَسْتَأْمِرُ الْحُرَّةَ وَلَا يَسْتَأْمِرُ الْأَمَةَ » .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”آزاد عورت سے اجازت لینا ضروری ہے، لیکن باندی سے اجازت لینا ضروری نہیں۔“
حدیث نمبر: 3416
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا هُشَيْمٌ، أَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا کہ ”آزاد عورت سے اجازت لینا ضروری ہے۔“
حدیث نمبر: 3417
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا هُشَيْمٌ، أَنَا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: « مَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَحْبِسُوا ذَلِكَ » .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے کہا: ”اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم عزل کر لو۔“
حدیث نمبر: 3418
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: « يَعْزِلُ عَنِ الْأَمَةِ، وَيَسْتَأْمِرُ الْحُرَّةَ » .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”باندی سے عزل کرنا جائز ہے، اور آزاد عورت سے اجازت لینا ضروری ہے۔“
حدیث نمبر: 3419
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا - أُرَاهُ سُفْيَانَ، نا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: «كَانَ سَعْدٌ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَعْزِلَانِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: ”سیدنا سعد اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما عزل کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 3420
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنَّ خَادِمًا لِي تَسَنَّى عَلَى نَاقَةٍ لِي، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فَحَمَلَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ [7/132] صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « مَا قَدَّرَ اللهُ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ » .
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”میرے ایک خادم نے میری ایک اونٹنی پر سوار ہو کر اس پر عزل کیا، لیکن وہ حاملہ ہو گئی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ نے مقدر کیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور وہ حاملہ ہو کر ہی رہنے والی تھی۔“
وضاحت:
فقہی فائدہ: یہ حدیث عزل کی تاثیر اور قضا و قدر کے مسئلے کو واضح کرتی ہے۔
اصل پیغام: عزل بچاؤ کا طریقہ ہو سکتا ہے، مگر تقدیرِ الٰہی کے مقابلے میں مؤثر نہیں۔
جو بچہ مقدر ہو، وہ پیدا ہو کر رہے گا، خواہ عزل کیا جائے یا نہ کیا جائے۔
? دیگر احادیث کی تائید: صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: "العزل لا يمنع شيئا قدره الله"
(عزل اللہ کی طرف سے جو مقدر ہو، اُسے روک نہیں سکتا)
اصل پیغام: عزل بچاؤ کا طریقہ ہو سکتا ہے، مگر تقدیرِ الٰہی کے مقابلے میں مؤثر نہیں۔
جو بچہ مقدر ہو، وہ پیدا ہو کر رہے گا، خواہ عزل کیا جائے یا نہ کیا جائے۔
? دیگر احادیث کی تائید: صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: "العزل لا يمنع شيئا قدره الله"
(عزل اللہ کی طرف سے جو مقدر ہو، اُسے روک نہیں سکتا)
حدیث نمبر: 3421
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنَّ خَادِمًا لِي تَسَنَّى عَلَى نَاقَةٍ لِي، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فَحَمَلَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قَدَّرَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انصار کے ایک شخص نے عرض کیا کہ میرا خادم میری اونٹنی پر چڑھا اور میں اس سے عزل کرتا تھا، پھر بھی وہ حاملہ ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ نے طے کیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔“
حدیث نمبر: 3422
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي نَثْرِ السُّكَّرِ قَالَ: «كَانَ يَأْخُذُونَهُ لِلصِّبْيَانِ» أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَرِهَهُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”لوگ بچوں کے لیے چینی گراتے تھے، لیکن ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اسے مکروہ سمجھا۔“
حدیث نمبر: 3423
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَطْمِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى فِي مُلَاءٍ، فَجَاءُوا بِسُكَّرٍ، فَأَرَادُوا أَنْ يَنْثُرُوهُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: «ضَعُوهُ، ثُمَّ اقْتَسِمُوهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے کہا: ”چینی کو رکھو اور آپس میں بانٹ لو، نہ کہ اسے نچھاور کرو۔“
حدیث نمبر: 3424
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ سَأَلُوهُ عَنْ نَثْرِ السُّكَّرِ قَالَ إِنْ وَضَعُوهُ وَضْعًا فَخُذُوهُ , وَإِنْ نَثَرُوهُ فَلَا تَأْخُذُوهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر چینی رکھی جائے تو لے لو، اگر نچھاور کی جائے تو نہ لو۔“
حدیث نمبر: 3425
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، أنا هُشَيْمٌ، أنا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَانَا وَكَانَا جَالِسَيْنِ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَ أَمَةً لَهُ مِنْ غُلَامٍ لَهُ وَكَانَ يُخَالِفُ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ أَمَتُكَ فُلَانَةُ؟ فَقَالَ: زَوَّجْتُهَا مِنْ غُلَامٍ لِي قَالَ: «فَهَلْ تَنَالُ مِنْهَا؟» فَأَوْمَى إِلَيْهِ الْقَوْمُ مِنْ خَلْفِ عُمَرَ: أَنْ قُلْ: لَا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَوْ قُلْتَ: نَعَمْ لَجَعَلَكَ نَكَالًا لِلْعَالَمِينَ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَوْ قُلْتَ: نَعَمْ لَرَجَمَكَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی سے پوچھا: ”تم نے اپنی باندی کا نکاح اپنے غلام سے کیا ہے، کیا تم خود بھی اس سے تعلق رکھتے ہو؟“ اگر اس نے ہاں کہہ دی ہوتی تو عمر رضی اللہ عنہ اسے سخت سزا دیتے۔
حدیث نمبر: 3426
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ شُرَيْحٌ: «إِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أَطَأَ امْرَأَةً لَوْ وَجَدْتُ مَعَهَا رَجُلًا لَمْ أُقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ»
مظاہر امیر خان
حضرت قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے ایسی عورت سے جماع کرنا ناپسند ہے کہ اگر اس کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو حد قائم نہ کر سکوں۔“
حدیث نمبر: 3427
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سُئِلَ شُرَيْحٌ عَنِ الْأَمَةِ إِذَا كَانَ لَهَا زَوْجٌ، فَقَالَ: «سَيْفَيْنِ فِي غِمْدٍ وَاحِدٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت قاضی شریح رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر باندی کا شوہر ہو تو؟ انہوں نے کہا: ”یہ دو تلواریں ایک نیام میں رکھنے کے مترادف ہے (یعنی ناجائز ہے)۔“
حدیث نمبر: 3428
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، اشْتَرَى مِنِ امْرَأَتِهِ جَارِيَةً، فَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ: إِنْ هُوَ بَاعَهَا فَهِيَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ، فَسَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «لَا تَقْرَبْهَا وَلِأَحَدٍ فِيهَا شَرْطٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے ایک باندی خریدی اور شرط لگائی کہ اگر وہ اسے بیچے گا تو بیوی کو خریدنے کا حق ہو گا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو فرمایا: ”جب تک کسی اور کا شرط باقی ہو، اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“
وضاحت:
فقہی مسئلہ: لونڈی کی ملکیت مکمل نہ ہو جب تک اس پر کسی دوسرے کا شرط یا حق باقی ہو۔ نکاح (یا وطی) کا جواز اسی وقت ہے جب ملکیت مکمل اور بلاشرط ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ جب تک شرط ختم نہ ہو جائے، باندی کے ساتھ مباشرت نہ کی جائے۔ ? فقہاء کا موقف: مالک کو اپنی ملک میں صرف اسی وقت وطی (تعلق) کی اجازت ہے، جب کہ ملکیت مکمل اور آزاد از شرط ہو۔ اگر کوئی شرط ہو کہ "فروخت پر فلاں کو ترجیح حاصل ہوگی" تو یہ شرط تملک میں نقص شمار ہو گی، اور تعلق رکھنا ناجائز ہوگا۔
حدیث نمبر: 3429
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: اشْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ مِنِ امْرَأَتِهِ جَارِيَةً، وَاشْتَرَطَتْ خِدْمَتَهَا، فَسَأَلَ عُمَرَ فَقَالَ: «لَيْسَ مِنْ مَالِكَ مَا كَانَ فِيهِ شَرْطٌ لِغَيْرِكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیوی سے ایک باندی خریدی اور بیوی نے اس کی خدمت کی شرط رکھی، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو فرمایا: ”جس مال میں کسی غیر کا حق ہو، وہ تیرا مال نہیں۔“
وضاحت:
فقہی نکتہ: اگر کوئی چیز (لونڈی یا غلام) بیچی جائے اور اس پر کسی اور کے لیے شرط باقی رکھی جائے، مثلاً: خدمت کی شرط، واپس خریدنے کی شرط، وغیرہ تو وہ مکمل نفی ملک کرتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک زریں قاعدہ بیان فرمایا: «لَيْسَ مِنْ مَالِكَ مَا كَانَ فِيهِ شَرْطٌ لِغَيْرِكَ» "جس میں کسی دوسرے کا مشروط حق ہو، وہ تمہارا مال شمار نہیں ہوتا۔"
حدیث نمبر: 3430
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْأَمَةَ عَلَى أَنْ لَا تُبَاعَ وَلَا تُوهَبَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غلامی کی ایسی خریداری کو ناپسند کرتے تھے جس میں شرط ہو کہ وہ باندی نہ بیچی جائے اور نہ دی جائے۔
وضاحت:
فقہی نکتہ: بیع میں ایسی شرط لگانا جو مالک کے تصرف کو محدود کرے (کہ نہ بیچے نہ ہبہ کرے)، اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ: بیع ایک معاہدۂ نقل ملکیت ہے۔ اگر آپ کسی کو چیز بیچیں لیکن اس پر ایسی پابندی عائد کر دیں کہ وہ نہ بیچ سکے نہ ہبہ کرے، تو یہ دراصل ناقص ملکیت بنتی ہے، اور شرعاً مکروہ یا فاسد قرار دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3431
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُمَا قَالَا: «يَجُوزُ الْبَيْعُ وَيَبْطُلُ الشَّرْطُ»
مظاہر امیر خان
حسن اور ابراہیم رحمہما اللہ نے فرمایا: ”بیع جائز ہے، شرط باطل ہے۔“
حدیث نمبر: 3432
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ذُكِرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: «وَدِدْتُ أَنْ أَجِدَ جَارِيَةً اشْتَرِيهَا عَلَى هَذَا الشَّرْطِ، وَأَجْعَلَ لَهَا الْعِتْقَ»
مظاہر امیر خان
اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ نے کہا: ”میں چاہتا کہ ایسی شرط کے ساتھ باندی خریدوں اور پھر اسے آزاد کر دوں۔“
حدیث نمبر: 3433
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: " ابْتَعْتُ جَارِيَةً وَاشْتُرِطَ عَلَيَّ أَنْ لَا أَبِيعَ وَلَا أَهَبَ وَلَا أُمْهِرَ، فَإِذَا مُتُّ فَهِيَ حُرَّةٌ، فَسَأَلْتُ عَطَاءً - أَوْ سُئِلَ - فَكَرِهَهُ، وَسَأَلْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ قَالَ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَسَأَلْتُ مَكْحُولًا، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، فَقُلْتُ: أَتَخَافُ عَلَيَّ فِيهِ مَأْثَمًا؟ قَالَ: بَلْ أَرْجُو لَكَ فِيهِ أَجْرًا، وَسَأَلْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ، فَقَالَ: هَذَا فَرْجُ سُوءٍ، وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: الْبَيْعُ جَائِزٌ وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ، وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ عَنِ ابْتِيَاعِهِ مِنِ امْرَأَتِهِ جَارِيَةً عَلَى إِنْ بَاعَهَا فَهِيَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ، فَقَالَ عُمَرُ: «لَا تَطَأْ فَرْجًا وَفِيهِ شَرْطٌ لِغَيْرِكَ»
مظاہر امیر خان
حضرت امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے ایک باندی خریدی جس پر یہ شرط تھی کہ نہ بیچوں، نہ ہبہ کروں، نہ نکاح میں دوں اور مرنے پر آزاد ہو جائے، جب علماء سے پوچھا تو بعض نے ناپسند کیا، بعض نے اجازت دی، اور بعض نے کہا کہ تمہارے لیے اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 3434
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النُّعْمَانِ بِجَارِيَتِهَا، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ عِنْدِي فِي ذَلِكَ خَبَرًا شَافِيًا أُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتِ أَذِنْتِ لَهُ ضَرَبْتُهُ مِائَةً، وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَأْذَنِي لَهُ رَجَمْتُهُ» فَقَالَ لَهَا النَّاسُ: زَوْجُكِ وَأَبُو وَلَدِكِ يُرْجَمُ قُولِي: قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَهُ، وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ الْغَيْرَةُ قَالَ: فَضَرَبَهُ مِائَةً
مظاہر امیر خان
حضرت حبیب بن سالم رحمہ اللہ، جو سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، بیان کرتے ہیں: ایک عورت اپنی باندی کو لے کر سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی۔ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرے پاس اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک واضح حدیث موجود ہے، میں تمہیں وہ سنا دیتا ہوں: اگر تم نے اس (مرد) کو اجازت دی ہے، تو میں اسے سو کوڑے ماروں گا، اور اگر تم نے اجازت نہیں دی، تو میں اسے رجم (سنگسار) کروں گا۔“ لوگوں نے اس عورت سے کہا: ”تمہارا شوہر ہے، تمہارے بچوں کا باپ ہے، اسے رجم کر دیا جائے گا؟ (ایسا نہ ہونے دو!) کہہ دو کہ تم نے اسے اجازت دی تھی۔“ تو عورت نے کہا: ”ہاں، میں نے اجازت دی تھی، بس غیرت کی وجہ سے انکار کیا تھا۔“ چنانچہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اس مرد کو سو کوڑے مارے۔
حدیث نمبر: 3435
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُدْرِكُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عُقْبَةَ أَنَّ مَوْلَاةً لَهُمْ أَتَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَزَعَمَتْ أَنَّ زَوْجَهَا وَقَعَ بِجَارِيَتِهَا، فَقَالَ: «إِنْ تَكُونِي صَادِقَةً رَجَمْنَا زَوْجَكِ، وَإِنْ تَكُونِي كَاذِبَةً نَجْلِدْكِ ثَمَانِينَ»
مظاہر امیر خان
ایک باندی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر شکایت کی کہ اس کا شوہر باندی سے زنا کر بیٹھا، تو فرمایا: ”اگر تو سچی ہے تو ہم تیرے شوہر کو سنگسار کریں گے، اور اگر جھوٹی ہے تو تجھے اسی کوڑے ماریں گے۔“
حدیث نمبر: 3436
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ حَرْقُوصِ بْنِ بَشِيرٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: " رُفِعَ رَجُلٌ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: هِيَ امْرَأَتِي، وَمَالُهَا مَالِي، فَدَرَأَ عَنْهُ الْحَدَّ، وَقَالَ: أَمَا إِنْ عُدْتَ "
مظاہر امیر خان
حرقوص بن بشیر ضبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک مرد نے باندی سے زنا کیا، لیکن کہا کہ یہ میری بیوی کا مال ہے اور میرا مال ہے، تو حد ساقط کر دی گئی، مگر ڈرایا گیا کہ اگر دوبارہ کیا تو سخت سزا دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3437
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ، وَجَلَدَهُ مِائَةً "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک اعرابی پر جو اپنی بیوی کی باندی سے زنا میں ملوث تھا، رجم نہیں کیا بلکہ اسے سو کوڑے مارے۔
حدیث نمبر: 3438
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ فِي سَفَرٍ، فَمَرِضَ فَعَالَجَتْهُ، فَكَأَنَّهَا اطَّلَعَتْ مِنْهُ، فَاشْتَرَاهَا مِنْ نَفْسِهِ، ثُمَّ أَصَابَهَا، فَلَمَّا قَدِمَ انْطَلَقَتِ امْرَأَتُهُ، فَأَخْبَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ لِلرَّجُلِ: «ابْتَعْتَ إِحْدَى يَدَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى، لَا تَنْفَلِتُ مِنِّي مِنْ أَحَدِ الْحَدَّيْنِ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے سفر میں اپنی بیوی کی باندی خریدی اور جماع کیا، جب واپس آیا تو بیوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تُو نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے خریدا ہے، حد سے نہیں بچ سکے گا۔“
حدیث نمبر: 3439
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: نا الْحَسَنُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِي سَفَرٍ، فَبَعَثَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ بِخَادِمٍ لَهَا تَخْدُمُهُ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فِي سَفَرِهِ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتَ اسْتَكْرَهْتَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْكَ مِثْلُهَا لِمَوْلَاتِهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْكَ فَهِيَ أَمَةٌ وَعَلَيْكَ مِثْلُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا سلمہ بن محبق ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر باندی کو مجبور کیا ہے تو وہ آزاد ہے اور اس کی مثل باندی ادا کرو، اور اگر اس نے خود راضی ہو کر کیا ہے تو وہ باندی ہے اور بدلہ دینا ہو گا۔“
وضاحت:
فقہی اثر: اس حدیث سے شرعی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا: کیونکہ: سند مرسل ہے (الحسن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک واسطہ منقطع) متن پر محدثین نے جرح کی روایت میں اشکال ظاہر کیا ہے: غلام کا باندی سے تعلق، اور غلام کا تاوان دینا؟ (تفصیل موجود نہیں)
امام ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" میں سلمہ بن المحبق سے حسن بصری کی روایت ذکر کی ہے، لیکن سماع کی تصریح نہیں کی۔
مسند احمد (جلد 4، حدیث 17836) میں حسن بصری، سلمہ بن المحبق رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں، لیکن وہاں بھی سماع کی وضاحت نہیں۔
ابن حجر نے تہذیب التهذیب میں صرف روایت کی نشاندہی کی ہے، سماع کے ثبوت یا انقطاع پر کچھ نہیں کہا۔
نتیجہ: اگرچہ حسن بصری رحمہ اللہ اور سلمہ بن المحبق رضی اللہ عنہ کے درمیان زمانہ ملا ہوا ہے، مگر سماع کی تصریح نہ ہونے کی وجہ سے محدثین کے نزدیک ان کی روایت "مرسل صحابی" کے درجے میں شمار ہوگی،
امام ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" میں سلمہ بن المحبق سے حسن بصری کی روایت ذکر کی ہے، لیکن سماع کی تصریح نہیں کی۔
مسند احمد (جلد 4، حدیث 17836) میں حسن بصری، سلمہ بن المحبق رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں، لیکن وہاں بھی سماع کی وضاحت نہیں۔
ابن حجر نے تہذیب التهذیب میں صرف روایت کی نشاندہی کی ہے، سماع کے ثبوت یا انقطاع پر کچھ نہیں کہا۔
نتیجہ: اگرچہ حسن بصری رحمہ اللہ اور سلمہ بن المحبق رضی اللہ عنہ کے درمیان زمانہ ملا ہوا ہے، مگر سماع کی تصریح نہ ہونے کی وجہ سے محدثین کے نزدیک ان کی روایت "مرسل صحابی" کے درجے میں شمار ہوگی،
حدیث نمبر: 3440
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، وَأَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلًا جَرِيئًا، وَكَانَ يَرَى عَلَيْهِ الرَّجْمَ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک جری انسان تھے اور اگر کوئی باندی پر زنا کرتا تو آپ رجم کا حکم دیتے۔“
وضاحت:
سند میں "أبو حرة"، حسن سے عن سے روایت کر رہے ہیں اور حسن بصری کا سیدنا علی سے سماع ثابت نہیں ہے اس لیے روایت ضعیف ہے، اگرچہ متن معروف اور مؤید بالآثار ہے۔اس اثر کا مفہوم متواتر فقہی موقف سے موافق ہے، یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ زانی محصن پر رجم کے قائل تھے۔
ابن حجر نے بھی واضح کیا: "و لم یثبت له سماع من علي" (تهذيب التهذيب 2/263)
ابن حجر نے بھی واضح کیا: "و لم یثبت له سماع من علي" (تهذيب التهذيب 2/263)
حدیث نمبر: 3441
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُصَيْنٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «اسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ، وَتُبْ إِلَى اللَّهِ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَشْتَرِيَهَا وَتُعْتِقَهَا فَافْعَلْ» وَلَمْ يَرَ عَلَيْهِ حَدًّا
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے پوچھا کہ اس نے اپنی بیوی کی باندی سے جماع کیا، تو فرمایا: ”اللہ کے پردے میں چھپ جا، توبہ کر، اور اگر ہو سکے تو باندی کو خرید کر آزاد کر دے۔“
حدیث نمبر: 3442
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، نا مَسْرُوقٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَارُهُ مُمْتَلِئَةٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ يَسْأَلُ عَنْ فَرِيضَةٍ أَوْ أَمْرٍ نَزَلَ بِهِ مِنْ حُكُومَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَلْيَتَنَحَّ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ جَاءَ لِيُطْلِعَنَا عَلَى أَمْرٍ قَدْ أَسَرَّهُ فَلْيُسِرَّ التَّوْبَةَ كَمَا أَسَرَّ الْخَطِيئَةَ؛ فَإِنَّا لَا نَمْلِكُ إِلَّا اللِّعَانَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتَهُ وَإِنَّهَا مُشْتَبِكَةُ النَّسَبِ فِي الْحَيِّ، وَإِنَّهَا كَانَتْ تَسْتَأْذِنُنِي فِي الزِّيَارَةِ إِمَّا يَوْمَ يَحُجُّونَ، وَإِمَّا مَأْتَمٌ يَكُونُ فِيهِمْ أَوْ نَحْو ذَلِكَ، فَاسْتَأْذَنَتْنِي ذَاتَ يَوْمٍ، فَأَذِنْتُ لَهَا، فَلَمَّا خَلَا لِيَ الْبَيْتُ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَتِهَا، فَحَمَلَتْ، فَلَمَّا اسْتَبَانَ الْحَمْلُ قَالَتْ لِيَ امْرَأَتِي: إِنَّكَ ابْنُ عَمِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ فَضِيحَتَكَ فَأْتِ بِقَوْمٍ مِنَ الْحَيِّ وَأَشْهِدْهُمْ أَنِّي قَدْ وَهَبْتُهَا لَكَ قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَمَا التَّوْبَةُ مِمَّا صَنَعْتُ؟ وَمَا ثَوَابُهَا عَلَى مَا فَعَلَتْ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «اسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ، وَتُبْ إِلَى اللَّهِ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَشْتَرِيَهَا، فَتُعْتِقَهَا، لَعَلَّ ذَلِكَ يُكَفِّرُ عَنْكَ مَا كَانَ مِنْكَ، وَأَمَّا ثَوَابُهَا فَأَعْطِهَا مِثْلَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو توبہ کرے وہ گناہ کو چھپائے، اور جب ایک شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے زنا کا معاملہ بیان کیا تو فرمایا: توبہ کر اور اسے خرید کر آزاد کر، اور بیوی کو اس نیکی کا بدلہ دے۔“
وضاحت:
ضعف کا سبب: مجالد بن سعید — جو ضعیف الحفظ ہے، مگر قصہ موافق للفقه والعقل ہے، اور مؤید بالآثار بھی ہے۔
فقہی نکات: بیوی کی باندی سے وطی: اگر بغیر اجازت ہو تو حرام ہے، زنا نہیں۔ یہاں بیوی نے گواہ لا کر باندی شوہر کو ہبہ کی، تاکہ وہ ملک یمین میں آ جائے۔
توبہ کی تلقین: ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حد قائم نہیں کی۔ ستاریت (پردہ پوشی) کو برقرار رکھا، اور توبہ و اصلاح کا حکم دیا۔
باندی کو آزاد کرنا: گناہ کا کفارہ ہو سکتا ہے۔
بیوی کی نیکی کا بدلہ: اخلاقی اور ایمانی تعلیم: جس نے تمہیں رسوائی سے بچایا، اس کے ساتھ احسان کرو۔
فقہی نکات: بیوی کی باندی سے وطی: اگر بغیر اجازت ہو تو حرام ہے، زنا نہیں۔ یہاں بیوی نے گواہ لا کر باندی شوہر کو ہبہ کی، تاکہ وہ ملک یمین میں آ جائے۔
توبہ کی تلقین: ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حد قائم نہیں کی۔ ستاریت (پردہ پوشی) کو برقرار رکھا، اور توبہ و اصلاح کا حکم دیا۔
باندی کو آزاد کرنا: گناہ کا کفارہ ہو سکتا ہے۔
بیوی کی نیکی کا بدلہ: اخلاقی اور ایمانی تعلیم: جس نے تمہیں رسوائی سے بچایا، اس کے ساتھ احسان کرو۔
حدیث نمبر: 3443
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ: «مَا أُبَالِي أَتَيْتُ جَارِيَةَ امْرَأَتِي أَوْ جَارِيَةَ عَوْسَجَةَ» لِجَارٍ لَهُ مِنَ النَّخَعِ
مظاہر امیر خان
حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے کوئی پروا نہیں چاہے میں اپنی بیوی کی باندی سے تعلق رکھوں یا اپنے ہمسایہ کی باندی سے۔“
حدیث نمبر: 3444
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ: «مَا أُبَالِي أَجَارِيَةُ امْرَأَتِي وَطِئْتُ، أَوْ جَارِيَةُ عَوْسَجَةَ» يَعْنِي جَارِيَةَ جَارٍ لَهُ
مظاہر امیر خان
حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے فرق نہیں پڑتا کہ میں بیوی کی باندی سے تعلق رکھوں یا ہمسایہ کی۔“
حدیث نمبر: 3445
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا هُشَيْمٌ، أَنَا عُبَيْدَةُ، أَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ [7/139] الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: « لَسَهْمٌ فِي كِنَانَتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَارِيَةٍ حَسْنَاءَ لِامْرَأَتِي » .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میری ترکش میں موجود ایک تیر، مجھے اپنی بیوی کی خوبصورت باندی سے زیادہ محبوب ہے۔“