حدیث نمبر: 3366
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ كَانَ بَدْرِيًّا أَوْصَى بِجَارِيَةٍ لَهُ أَنْ لَا يَقْرَبَهَا بَنُوهُ، وَقَالَ: «لَمْ أُصِبْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا أَنِّي نَظَرْتُ مَنْظَرًا أَكْرَهُ أَنْ تَنْظُرُوا مِنْهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت وصیت کی کہ ان کی باندی کے قریب ان کے بیٹے نہ جائیں کیونکہ وہ اس میں کوئی ایسا منظر دیکھ چکے تھے جسے وہ ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3367
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ مَسْرُوقٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «إِنَّ جَارِيَتِي لَمْ يُحَرِّمْهَا عَلَيْكُمْ إِلَّا اللَّمْسُ وَالنَّظَرُ» فَكَانَتْ تَقُومُ عَلَيْهِ "
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے اپنی وفات کے وقت کہا: ”میری باندی کو تمہارے لیے صرف لمس اور نظر سے حرام کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3368
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَسْرُوقًا، قَالَ لِجَارِيَتِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ: «لَمْ أُصِبْ مِنْهَا إِلَّا حَرَّمْتُهَا عَلَى وَلَدِي اللَّمْسَ وَالنَّظَرَ»
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے اپنی وفات کے وقت اپنی باندی سے کہا: ”میں نے تجھ سے کچھ نہیں لیا، لیکن اپنی اولاد پر تجھے لمس اور نظر سے حرام کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3369
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا فُضَيْلٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِذَا جَرَّدَهَا الْأَبُ حَرَّمَهَا عَلَى الِابْنِ، وَإِذَا جَرَّدَهَا الِابْنُ حَرَّمَهَا عَلَى الْأَبِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر باپ باندی کو برہنہ کرے تو وہ بیٹے پر حرام ہو جاتی ہے، اور اگر بیٹا کرے تو باپ پر حرام ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3370
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «يُحَرِّمُ الْوَالِدُ عَلَى وَلَدِهِ أَنْ يُقَبِّلَهَا، أَوْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَرْجِهَا، أَوْ فَرْجَهُ عَلَى فَرْجِهَا، أَوْ يُبَاشِرَهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”والد کے لیے بیٹے پر حرام ہے کہ وہ باندی کو چومے یا اس کی شرمگاہ کو چھوئے یا اپنی شرمگاہ کو اس پر رکھے یا مباشرت کرے۔“
حدیث نمبر: 3371
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانُوا يَرَوْنَ الْقُبْلَةَ وَاللَّمْسَ يُحَرِّمُ الْأُمَّ وَالِابْنَةَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ باندی کو چومنے اور چھونے کو ماں اور بیٹی پر حرمت کا باعث سمجھتے تھے۔“
حدیث نمبر: 3372
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ أَطَأُهَا، وَكَانَتْ لَهَا بُنَيَّةٌ فَوْقَ الْفَطِيمِ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي شَهْوَةً، فَسَأَلْتُ الْحَسَنَ، فَقَالَ: «لَا تَقْرَبْ أُمَّهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی شخص نے باندی کی شیر خوار بچی کو برہنہ اپنے ساتھ چمٹایا اور شہوت محسوس کی تو اسے اس باندی کے قریب نہیں جانا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 3373
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «إِذَا مَسَّ الرَّجُلُ فَرْجَ الْأَمَةِ أَوْ مَسَّ فَرْجُهُ فَرْجَهَا حُرِّمَتْ عَلَى أَبِيهِ وَابْنِهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی شخص نے باندی کی شرمگاہ کو چھوا یا اپنی شرمگاہ کو اس پر رکھا تو وہ باندی اس کے باپ اور بیٹے پر حرام ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3374
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي اسْتِبْرَاءِ الْأَمَةِ إِذَا اشْتَرَاهَا الرَّجُلُ قَالَ: «إِنْ كَانَتْ لَا تَحِيضُ يَسْتَبْرِئُهَا فِي خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، وَإِنْ كَانَتْ تَحِيضُ فَحَيْضَتَيْنِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو باندی حیض نہ آتی ہو، اس کا استبراء پینتالیس دنوں میں کیا جائے، اور جو حیض والی ہو تو دو حیضوں میں۔“
حدیث نمبر: 3375
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «تُسْتَبْرَأُ الْأَمَةُ بِحَيْضَةٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی کا استبراء ایک حیض سے ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3376
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ اسْتِبْرَاءِ الْأَمَةِ الَّتِي لَمْ تَبْلُغِ الْحَيْضِ قَالَ: «اسْتَبْرِئْهَا بِثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ»، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ فَأَتَيْنَا ابْنَ سِيرِينَ، فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْحَسَنُ، وَقَالَ: مَرَّةً فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَأَتَوْا إِلَى ابْنِ سِيرِينَ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْحَسَنُ
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو باندی حیض کو نہ پہنچی ہو، اس کا استبراء تین مہینے ہو گا۔“ حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا۔
حدیث نمبر: 3377
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: «يَسْتَبْرِئُ بِثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ» .
مظاہر امیر خان
حضرت حکم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی کا استبراء تین مہینوں میں مکمل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3378
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّهُ قَالَ: «تُسْتَبْرَأُ بِثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی کا استبراء تین مہینے میں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3379
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، سَأَلَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ وَالْقَوَابِلَ فَقَالَ: قَالُوا: «لَا تُسْتَبْرَأُ الْحُبْلَى فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ» وَقَالَ سُفْيَانُ عَنْ صَدَقَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَعْجَبَهُ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: تُسْتَبْرَأُ بِثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ
مظاہر امیر خان
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مدینہ کے اہل علم اور دائیوں سے پوچھا، انہوں نے کہا: ”حاملہ کا استبراء تین ماہ سے کم میں نہیں ہوتا۔“ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو یہ بات پسند آئی۔
حدیث نمبر: 3380
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: " تُسْتَبْرَأُ بِشَهْرٍ وَنِصْفٍ
مظاہر امیر خان
حضرت حکم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی کا استبراء ڈیڑھ ماہ میں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3381
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: «تُسْتَبْرَأُ بِشَهْرٍ وَنِصْفٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی کا استبراء ڈیڑھ ماہ میں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3382
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: تُسْتَبْرَأُ بِشَهْرٍ وَنِصْفٍ "
مظاہر امیر خان
حضرت عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی کا استبراء ڈیڑھ ماہ میں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3383
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ إِذَا بِيعَتْ قَالَ: «يَسْتَبْرِئُهَا الْبَائِعُ بِحَيْضَةٍ، وَالْمُشْتَرِي بِحَيْضَةٍ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بائع ایک حیض سے اور خریدار بھی ایک حیض سے باندی کا استبراء کرے۔“
حدیث نمبر: 3384
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا مَنْصُورٌ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " تُسْتَبْرَأُ بِحَيْضَةٍ، ثُمَّ قَالَ: بَعْدَ ذَلِكَ بِحَيْضَتَيْنِ
مظاہر امیر خان
حضرت عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پہلے ایک حیض کا استبراء پھر بعد میں دو حیض۔“
حدیث نمبر: 3385
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْأَمَةَ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: «لَا يَقْرَبْهَا حَتَّى تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر باندی حالت حیض میں خریدی جائے تو اسے اپنے پاس ایک حیض آنے تک نہ چھوئے۔“
حدیث نمبر: 3386
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنِ اجْتُزِئَ بِتِلْكَ الْحَيْضَةِ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اسی حیض پر اکتفا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 3387
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ اشْتَرَى مِنْ أَقْوَامٍ جَارِيَةً قَالَ: «يَسْتَبْرِئُهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص قوموں سے باندی خریدے تو استبراء کرے۔“
حدیث نمبر: 3388
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: «إِذَا اشْتَرَى الرَّجُلُ الْأَمَةَ وَهِيَ حُبْلَى لَمْ يَقْرَبْهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی اور حضرت عامر شعبی رحمہما اللہ نے فرمایا: ”حاملہ باندی خریدنے والا اسے ولادت تک نہ چھوئے۔“
حدیث نمبر: 3389
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْجَارِيَةَ قَالَ لَا يَمَسَّهَا وَلَا يَضَعْ يَدَهُ عَلَيْهَا حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی کو خرید کر استبراء سے پہلے نہ چھوئے اور نہ ہاتھ لگائے۔“
حدیث نمبر: 3390
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا فُضَيْلٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «يُصِيبُ مِنْهَا مَا شَاءَ مَا لَمْ يَمَسَّ فَرْجَهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی سے جو چاہے فائدہ اٹھائے مگر اس کی شرمگاہ کو نہ چھوئے۔“
حدیث نمبر: 3391
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ «لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُصِيبَ الرَّجُلُ مِنَ الْأَمَةِ إِذَا كَانَ يَسْتَبْرِئُهَا دُونَ الْفَرْجِ» قَالَ: وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَكْرَهُ ذَلِكَ،
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی سے استبراء کے دوران شرمگاہ کے سوا جو چاہے فائدہ اٹھائے۔“ مگر حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ اسے مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3392
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ، مِثْلَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ
مظاہر امیر خان
حسن بصری اور حضرت ابن سیرین رحمہما اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
حدیث نمبر: 3393
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانُوا يُكْرِهُونَ الْمَمْلُوكَ عَلَى النِّكَاحِ وَيُدْخِلُونَهُ مَعَ امْرَأَتِهِ الْبَيْتَ، وَيُغْلِقُونَ عَلَيْهِمُ الْبَابَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام کو نکاح پر مجبور کیا جاتا اور پھر بیوی کے ساتھ کمرہ بند کر دیا جاتا تھا۔“
حدیث نمبر: 3394
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ قَالَ: «أَوَ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوهُ؛ إِنَّهُ لَيْسَ نَسَمَةٌ قَضَى اللَّهُ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل (جماع کے وقت انزال سے پہلے الگ ہو جانا) کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: تمہیں عزل کرنے سے کچھ نقصان نہیں، جو روح اللہ نے لکھ دی ہے وہ آ کر رہے گی۔“
حدیث نمبر: 3395
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَزَعَةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ؟» وَلَمْ يَقُلْ: لَا يَفْعَلْ ذَلِكَ، «فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر ہوا، آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرے، روح اللہ کی تقدیر سے پیدا ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3396
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، نا أَبُو الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا فَأَرَدْنَا أَنْ نُفَادِيَ بِهِنَّ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَعْزِلُ عَنْهَا مَخَافَةَ أَنْ تَعْلَقَ مِنْهُ، فَقَالَ: «افْعَلُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَمَا يُقْضَ مِنْ أَمْرٍ يَكُنْ وَإِنْ كَرِهْتُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم نے کچھ لونڈیاں قیدی بنائیں اور انہیں فدیہ پر بیچنا چاہتے تھے، تو عزل کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہو کرو، جو اللہ نے لکھ دیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔“
حدیث نمبر: 3397
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا رَبِيعَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: «لَا عَلَيْكُمْ أَلَّا تَفْعَلُوا إِنْ يَكُنْ مِمَّا أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْمِيثَاقَ فَكَانَتْ عَلَى هَذِهِ الصَّخْرَةِ أَخْرَجَهَا اللَّهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: تمہیں نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر اللہ نے اس کا وجود لکھ دیا ہے تو وہ پتھر سے بھی نکال دے گا۔“
حدیث نمبر: 3398
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: «لَا عَلَيْكُمْ أَلَّا تَفْعَلُوا، فَلَوْ أَنَّ هَذِهِ النُّطْفَةَ الَّتِي أَخَذَ اللَّهُ مِنْهَا الْمِيثَاقَ كَانَتْ فِي صَخْرَةٍ لَنَفَخَ فِيهَا الرُّوحَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”تمہیں نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر اللہ نے کسی نطفے سے عہد لیا ہے تو وہ پتھر میں بھی ہو تو اللہ اس میں جان ڈال دے گا۔“
حدیث نمبر: 3399
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْعَزْلِ: «هِيَ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عزل چھوٹی موءودہ (زندہ دفن کی گئی بچی) ہے۔“
حدیث نمبر: 3400
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْعَزْلِ: «ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عزل چھپا ہوا قتل ہے۔“
حدیث نمبر: 3401
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ، نَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ (يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، أَنَّ هُبَيْرَةَ بْنَ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ) (1)« كَانَ يَعْزِلُ عَنْ سَرَارِيهِ » .
مظاہر امیر خان
حضرت ہبیرہ بن خباب رحمہ اللہ اپنی لونڈیوں سے عزل کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3402
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِخَبَّابٍ أَنَّ خَبَّابًا «كَانَ يَعْزِلُ عَنْهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ اپنی باندی سے عزل کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3403
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ: مَرَّ سَعْدٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَهُ أَخُوهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: «كُنَّا نَكْرَهُ حَتَّى زَعَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”پہلے ہم اسے ناپسند کرتے تھے، پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 3404
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ سُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: قُلْ يَا حَجَّاجُ قَالَ: «حَرْثُكَ إِنْ شِئْتَ سَقَيْتَهُ وَإِنْ شِئْتَ عَطَّشْتَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ تمہاری کھیتی ہے، چاہو تو سیراب کرو، چاہو تو روک دو۔“
حدیث نمبر: 3405
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «هُوَ حَرْثُكَ إِنْ شِئْتَ فَأَرْوِهِ وَإِنْ شِئْتَ فَأَظْمِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ تمہاری کھیتی ہے، چاہو تو پانی دو، چاہو تو پیاسا چھوڑ دو۔“
…