حدیث نمبر: 3326
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ عِنْدَهُ يَتِيمَةٌ وَكَانَتْ تَحْضُرُ طَعَامَهُ، فَخَافَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا عَلَيْهَا، فَغَابَ الرَّجُلُ غَيْبَةً فَاسْتَعَانَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الْجَارِيَةِ نِسْوَةً فَاضْطَبَنَّهَا لَهَا فَأَفْسَدَتْ عُذْرَتَهَا قَالَ: وَقَدِمَ الرَّجُلُ فَجَعَلَ يَفْتَقِدُ الْجَارِيَةَ عِنْدَ مَائِدَتِهِ وَطَعَامِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: مَا حَالُ فُلَانَةَ لَا تَحْضُرُ طَعَامِي؟ قَالَتْ: دَعْ عَنْكَ فُلَانَةَ، قَالَ: مَا شَأْنُهَا؟ قَالَتْ: إِنَّهَا فَجَرَتْ فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا حِينَ دَخَلَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا شَأْنُكِ؟ فَجَعَلَتْ تَبْكِي، قَالَ: فَأَخْبِرِينِي، فَأَخْبَرَتْهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ فَأَرْسَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى امْرَأَةِ الرَّجُلِ وَإِلَى النِّسْوَةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَهُ لَمْ يَلْبَثْنَ أَنِ اعْتَرَفْنَ بِمَا صَنَعْنَ، فَقَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: اقْضِ فِيهَا يَا حَسَنُ، فَقَالَ: «الْحَدُّ عَلَى مَنْ قَذَفَهَا، وَالْعُقْرُ عَلَيْهَا وَعَلَى الْمُمْسِكَاتِ» فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْ كُلِّفَتْ إِبِلٌ طَحِينًا لَطَحَنَتْ، وَمَا يَطْحَنُ يَوْمَئِذٍ بَعِيرٌ "
مظاہر امیر خان
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا کہ اس کی بیوی نے اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ عورتوں کو ملا کر اس کی عزت خراب کی، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا: ”قذف کرنے والے پر حد اور عورتوں پر دیت ہے۔“
وضاحت:
وضاحت: اگرچہ اثر میں جس شخص کا واقعہ ذکر ہوا وہ نامعلوم ہے، مگر: یہ شخص راوی نہیں بلکہ قصے کا کردار ہے شریعت میں صحابی یا تابعی کے اجتہاد و فیصلہ کی نقل میں ایسے اشخاص کا مجہول ہونا ضرر نہیں دیتا۔
حدیث نمبر: 3327
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أنا الشَّعْبِيُّ " أَنَّ جِوَارِيَ أَرْبَعًا اجْتَمَعْنَ، فَقَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: هِيَ رَجُلٌ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى: هِيَ امْرَأَةٌ، وَقَالَتِ الثَّالِثَةُ: هِيَ أَبُ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا رَجُلٌ، وَقَالَتِ الرَّابِعَةُ: هِيَ أَبُ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا امْرَأَةٌ، فَخَطَبَتِ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا أَبُو الرَّجُلِ إِلَى الْأُخْرَى الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا أَبُو الْمَرْأَةِ، فَزَوَّجُوهَا إِيَّاهَا، فَعَمَدَتِ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا رَجُلٌ إِلَى الْأُخْرَى فَأَفْسَدَتْهَا بِإِصْبَعِهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، فَجَعَلَ الصَّدَاقَ عَلَيْهِنَّ أَرْبَاعًا، وَأَلْغَى حِصَّةَ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا امْرَأَةٌ؛ لِأَنَّهَا أَمْكَنَتْ مِنْ نَفْسِهَا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ، فَقَالَ: «لَوْ وُلِّيتُ أَنَا لَجَعَلْتُ الصَّدَاقَ عَلَى الَّتِي أَفْسَدَتِ الْجَارِيَةَ وَحْدَهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ایک واقعہ نقل کیا: ”لونڈیوں نے نکاح کیا اور ایک نے دوسری کو جسمانی نقصان پہنچایا، عبدالملک بن مروان نے سب پر دیت تقسیم کی، ابن معقل نے کہا: دیت صرف فساد کرنے والی پر ہونی چاہیے تھی۔“
حدیث نمبر: 3328
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي رَوْحٍ شَبِيبٍ الشَّامِيِّ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُوَاعِدُ امْرَأَةً فِي مَكَانٍ يَأْتِيهَا فِيهِ فَعَلِمَتْ بِذَلِكَ امْرَأَةٌ، فَجَلَسَتْ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ، فَجَاءَ الرَّجُلُ فَأَصَابَ مِنْهَا وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهَا جَارِيَتُهُ، فَلَمَّا فَرَغَ نَظَرَ فَإِذَا هِيَ لَيْسَ بِجَارِيَتِهِ، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: «اضْرِبِ الرَّجُلَ الْحَدَّ فِي السِّرِّ، وَاضْرِبِ الْحَدَّ الْمَرْأَةَ فِي الْعَلَانِيَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرد آیا جس نے غلطی سے غیر عورت سے مباشرت کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مرد کو پوشیدہ حد دو، عورت کو ظاہر حد۔“
وضاحت:
وضاحت: یہ اثر سنداً ضعیف ہے، مگر متناً قوی و قابلِ استدلال ہے حدود، شبہ، فریب، اور سیاستِ شرعیہ جیسے اہم فقہی اصول اس میں واضح ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ حکمت، عدل، اور اصلاح کے اصول پر مبنی ہے۔
حدیث نمبر: 3329
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا هُشَيْمٌ أَنَا يَزِيدُ بْنُ بَرَّادٍ مَوْلَى بَجِيلَةَ (1)قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ فِي رَجُلَيْنِ شَهِدَا عَلَى رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَفَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ فَتَزَوَّجَهَا أَحَدُ الشَّاهِدَيْنِ وَرَجَعَ الْآخَرُ عَنْ شَهَادَتِهِ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: « مَضَى الْقَضَاءُ، وَلَا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِ الَّذِي رَجَعَ » .
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر دو گواہ طلاق پر گواہی دیں اور ایک رجوع کر لے، تو قاضی کا پہلا فیصلہ نافذ ہے اور رجوع کی کوئی حیثیت نہیں۔“
حدیث نمبر: 3330
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ عَتِيقَةٌ وَهُوَ يَنْوِي الطَّلَاقَ قَالَ: «هِيَ وَاحِدٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر شوہر بیوی سے کہے: تم آزاد ہو اور نیت طلاق کی ہو تو ایک طلاق شمار ہو گی اور شوہر رجوع کا حق رکھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3331
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «يَبْدَأُ الْعَبْدُ بِالنَّفَقَةِ عَلَى أَهْلِهِ قَبْلَ غَلَّتِهِ لِمَوَالِيهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”غلام اپنی کمائی سے پہلے اپنی بیوی بچوں پر خرچ کرے گا، پھر مالکوں کو دے گا۔“
حدیث نمبر: 3332
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا شَرِيكٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «يَبْدَأُ الْعَبْدُ بِالنَّفَقَةِ عَلَى امْرَأَتِهِ قَبْلَ غَلَّتِهِ لِمَوَالِيهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”غلام اپنی بیوی پر خرچ کرنے میں مالک کی آمدنی پر مقدم ہے۔“
حدیث نمبر: 3333
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ تَحْتَهُ مُكَاتَبَةٌ، فَسَعَى مَعَهَا، وَأَعَانَهَا حَتَّى أَدَّتْ مُكَاتَبَتَهَا قَالَ: «لَا خِيَارَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر کوئی شخص اپنی مکاتبہ بیوی کی آزادی میں مدد کرے تو اسے فسخ نکاح کا اختیار نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3334
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِذَا وَطِئَ الرَّجُلُ مُكَاتَبَتَهُ فَلْيَحْسِبْ لَهَا صَدَاقَ مِثْلِهَا مِنْ مُكَاتَبَتِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر کوئی شخص اپنی مکاتبہ باندی سے ہمبستری کرے تو مکاتبہ رقم میں اس کا مثل مہر شمار کرے۔“
حدیث نمبر: 3335
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «طَلَّقَ حَفْصَةَ، فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان سے رجوع کیا۔“
وضاحت:
فائدہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رجوع کا عمل ایک شرعی حجت ہے یہ رجوع وحی کی بنیاد پر تھا، اور اس سے رجعی طلاق کے بعد رجوع کی مشروعیت بھی ثابت ہوتی ہے ساتھ ہی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے عبادت و تقویٰ کی گواہی بھی ملتی ہے ✅ خلاصہ و نتیجہ: حدیث سنداً صحیح ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طلاق دینا اور پھر رجوع کرنا وحی کے مطابق تھا اس سے طلاقِ رجعی اور اس کے بعد رجوع کا مسئلہ مضبوط ہوتا ہے ساتھ ہی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور منزلت واضح ہوتی ہے
حدیث نمبر: 3336
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ تَفْجُرُ أَمَتُهُ، فَتَلِدُ مِنَ الْفُجُورِ، أَيَبِيعُ وَلَدَهَا فَيَأْكُلَ ثَمَنَهُ؟ فَقَالَ الْحَسَنُ: «هُوَ كَبَعْضِ مَالِهِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر کسی کی باندی بدکاری سے بچہ پیدا کرے تو اس بچہ کی قیمت اس کے مال میں شامل ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3337
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا الشَّيْبَانِيُّ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ عَلَى سَطْحٍ، فَدَعَا امْرَأَتَهُ، فَاحْتَبَسَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا تَعَالَيْ، فَإِذَا جِئْتِ فَاخْتَارِي، فَجَاءَتْ، فَقَالَتِ: اخْتَرْتُ نَفْسِي قَالَ: لَمْ أُرِدْ ذَلِكَ إِنَّمَا خَيَّرْتُكِ بَيْنَ أَنْ تَجْلِسِي وَبَيْنَ أَنْ تَرْجِعِي، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ، فَقَالَ: «لَهُ نِيَّتُهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر شوہر بیوی کو بیٹھنے یا واپس جانے کا اختیار دے اور نیت طلاق کی نہ ہو تو نیت کا اعتبار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3338
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ «لَا يَرَى مَا جَعَلَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ عِنْدَ الْجِلْوَةِ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو چیز مرد شادی کے موقع پر اپنی بیوی کو جِلوہ کے وقت دے، اس کی کوئی حیثیت نہیں۔“
حدیث نمبر: 3339
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ «لَا يَرَى شَيْئًا مِنَ النُّحْلِ يَجُوزُ إِلَّا مَا سُلِّمَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نکاح میں جو چیز بطور تحفہ دی جائے، وہ صرف اسی وقت جائز ہے جب عورت کو دے دی جائے۔“
حدیث نمبر: 3340
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا تَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَدَخَلَ بِهَا، قَالَ: «إِنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مُصَدَّقَةً , فَيَتَزَوَّجُهَا إِنْ شَاءَ، وَإِنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مُتَّهَمَةً فَلْيَسْأَلْ عَنْ ذَلِكَ، وَلْيَبْحَثْ عَنْهُ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر عورت کا شوہر اس کی بات کا یقین کرے کہ اس نے نکاح کر لیا اور اس سے مباشرت ہوئی تو نکاح درست ہے، اور اگر بدگمانی ہو تو تحقیق کرے۔“
حدیث نمبر: 3341
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أُمَّهُ لَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى تَزَوَّجَ، ثُمَّ قَالَتْ لِي بَعْدُ: طَلِّقْهَا، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ: «إِنَّ طَلَاقَ امْرَأَتِكَ لَيْسَ فِي بِرِّ أُمِّكَ فِي شَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بیوی کو طلاق دینا ماں کی فرمانبرداری میں شامل نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3342
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُمَا قَالَا فِي عَبْدٍ تَحْتَهُ حُرَّةٌ دَخَلَ بِهَا، ثُمَّ أُعْتِقَ، فَأَصَابَ فَاحِشَةً: «إِنَّهُ لَا رَجْمَ عَلَيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ بِامْرَأَتِهِ بَعْدَ الْعِتْقِ، وَيُجْلَدَ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام نے آزادی سے پہلے بیوی سے بدکاری کی تو اس پر حد نہیں ہے، لیکن آزادی کے بعد اگر کرے تو سنگسار کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3343
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ «لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُهْدِيَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فِي عِدَّتِهَا إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مرد عدت کے دوران عورت کو نکاح کی نیت سے تحفہ دے تو کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 3344
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَكْرَهَ امْرَأَةً حَتَّى أَفْضَاهَا وَافْتَضَّهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ، وَضَمَّنَهُ ثُلُثَ دِيَتِهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کو زبردستی نقصان پہنچانے پر مرد پر حد اور ایک تہائی دیت لازم کی۔
وضاحت:
فائدہ: تأیید و شواہد: یہی مضمون فقہاء احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ میں تفصیل سے مذکور ہے ابن قدامہ (المغنی)، کاسانی (بدائع الصنائع)، الماوردی نے اس پر اجماع کے قریب بات کی ہے کہ: "من أكره امرأة على الزنا فعليه الحد، وله عليها العُقر" بعض روایات میں عورت کو بھی عقر دیا گیا ہے اگرچہ دخول سے پہلے تکلیف دی گئی ہو ✅ خلاصہ و نتیجہ: یہ اثر سنداً حسن ہے اور اس سے درج ذیل اصول مستفاد ہوتے ہیں: زبردستی زنا پر حد نافذ ہوگی اگر دخول ثابت ہو جسمانی نقصان (افتضاض) پر تاوان (عُقر) واجب ہوگا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حد اور عُقر کو جمع کیا — یہ عدلِ فاروقی کی واضح مثال ہے قضایا النساء کے باب میں تابعین و صحابہ کا عمل فقہی استدلال کی مضبوط بنیاد ہے۔
حدیث نمبر: 3345
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ عُمَرَ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يُقْرَعَ الرَّجُلُ قَرْعًا يَخْلُصُ الْقَرْعُ إِلَى عَظْمِ رَأْسِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ تَضَعَ امْرَأَةٌ يَدَهَا عَلَى سَاعِدِهِ، لَا تَحِلُّ لَهُ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد کا سر ہڈی تک زخمی ہونا اس سے بہتر ہے کہ کسی عورت کا ہاتھ بغیر نکاح اس کے جسم کو چھوئے۔“
وضاحت:
فائدہ: یہ مفہوم صحیح حدیث میں دوسرے الفاظ سے آیا ہے: ✦ صحیح مسلم: «لَأَنْ يُطْعَنَ فِي رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِمِخْيَطٍ مِنْ حَدِيدٍ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّ امْرَأَةً لَا تَحِلُّ لَهُ» (صحیح مسلم، موقوفاً عن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ، کچھ علماء نے مرفوعاً بھی روایت کیا) ? لہٰذا: متن کا مفہوم ثابت و صحیح ہے، اگرچہ یہ خاص سند مرسل (ضعیف) ہے۔
حدیث نمبر: 3346
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، قَالَتْ: «كَانَتِ الْجَارِيَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُهْدُوهَا إِلَى زَوْجِهَا يُنْطَلَقُ بِهَا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَدْعُونَ لَهَا ثُمَّ يُنْطَلَقُ بِهَا إِلَى زَوْجِهَا»
مظاہر امیر خان
ام موسیٰ رحمہ اللہ نے کہا: ”مدینہ میں جب کسی لڑکی کو شوہر کے پاس بھیجا جاتا تو پہلے مسجد نبوی میں اس کے لیے دعا کی جاتی۔“
حدیث نمبر: 3347
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ هُبَيْرَةَ (1)كَانَ « إِذَا أَهْدَى الْبِنْتَ مِنْ بَنَاتِهِ أَمَرَهَا بِصَالِحِ الْأَخْلَاقِ، وَكَانَ يَرَى ذَلِكَ حَسَنًا » .
مظاہر امیر خان
جعفر بن ہبیرہ رحمہ اللہ اپنی بیٹیوں کو رخصتی کے وقت حسن اخلاق کی تلقین کرتے تھے اور اسے اچھا عمل سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3348
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ أُمِّ مُوسَى أَنَّ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ مَرَّتْ بِعَلِيٍّ وَهِيَ حَامِلٌ، فَمَسَحَ بَطْنَهَا، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ ذَكَرًا مَيْمُونًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی حاملہ باندی کا پیٹ چھو کر دعا کی: ”یا اللہ اسے نیک اور مبارک بیٹا بنا۔“
حدیث نمبر: 3349
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ شُبْرُمَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الشَّعْبِيِّ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ نَذَرَ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «كَفِّرْ يَمِينَكَ، وَلَا تُطَلِّقِ امْرَأَتَكَ» قُلْتُ فِي نَفْسِي: إِنْ رَدَدْتُ عَلَى الشَّيْخِ قَوْلَهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَمَا فِيهِ، وَإِنْ أَنَا سَكَتُّ لَيَدْخُلَنَّ عَلَيَّ مَا لَا أُحِبُّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو، إِنَّ الطَّلَاقَ مَعْصِيَةٌ، وَقَدْ قَالَ مَا قَالَ فَانْتَبِهْ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ: «نَذْرُكَ فِي عُنُقِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ تُطَلِّقَ امْرَأَتَكَ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”جس نے بیوی کو طلاق دینے کی نذر مانی ہو، اگر نہ دے تو نذر قیامت تک باقی ہے۔“
حدیث نمبر: 3350
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانُوا يُسَوُّونَ بَيْنَ الضَّرَائِرِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنَ الدَّقِيقِ أَوِ السَّوِيقِ مَا لَا يُكَالُ قَسَمُوهُ بِالْأَكُفِّ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بیویوں میں برابری کرتے تھے، اور اگر آٹا یا ستو بچ جاتا تو ہاتھوں سے برابر بانٹتے تھے۔“
حدیث نمبر: 3351
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: " كَانَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ امْرَأَتَانِ، فَكَانَ إِذَا كَانَ يَوْمُ إِحْدَيْهِمَا لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْ بَيْتِ الْأُخْرَى، فَمَاتَا فِي يَوْمٍ، فَدَفَنَهُمَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمَا: أَيَّتُهُمَا تَدْخُلُ فِي الْقَبْرِ قَبْلُ "
مظاہر امیر خان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی دو بیویاں تھیں، دونوں کے ساتھ انصاف کرتے اور دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی۔
حدیث نمبر: 3352
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَهُوَ فِي بَيْتٍ بِأُجْرَةٍ، فَقَالَ: «أَحْسَنُ أَنْ تَعْتَدَّ فِي الْبَيْتِ الَّذِي كَانَ فِيهِ وَتُعْطِيَ الْأَجْرَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بیوہ کو کرایہ کے مکان میں عدت گزارنی چاہیے اور کرایہ ادا کرنا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3353
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الطَّلَاقِ قَالَ: «سُئِلَ رَجُلٌ كَمْ مَرَّةً طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ؟ قَالَ فَأَوْمَى بِيَدِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ، فَبَانَتْ بِثَلَاثٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی مرد زبانی یا اشارے سے تین یا چار طلاقیں دے تو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔“
حدیث نمبر: 3354
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ يُزَوِّجُ أُمَّ وَلَدِهِ مِنْ عَبْدِهِ قَالَ: «لَا يَطَؤُهَا الْعَبْدُ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی اپنے غلام سے اپنی باندی کا نکاح کرے تو جب تک حیض نہ آجائے، غلام کو مباشرت کی اجازت نہیں۔“
حدیث نمبر: 3355
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو الْأَحْوَصِ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ، فَيَطَّلِعُ عَلَى أَنَّهَا تَفْجُرُ قَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی کو معلوم ہو کہ اس کی باندی بدکاری کرتی ہے تب بھی مباشرت میں کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 3356
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، أنا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ يُصَالِحُ امْرَأَتَهُ عَلَى صُلْحٍ مِنْ يَوْمِهَا فَتَرْجِعُ قَالَ: «إِنْ رَضِيَتْ، فَلَيْسَ لَهَا أَنْ تَرْجِعَ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر صلح کے دن بیوی نے رضامندی ظاہر کر دی تو رجوع کا حق نہیں۔“
حدیث نمبر: 3357
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ بَجَالَةَ، يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ وَجَابِرَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، فَأَتَى كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِسَنَةٍ «أَنِ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ الْمَجُوسِ وَحُرَمِهِمْ، وَانْهَوْهُمْ عَنِ الزَّمْزَمَةِ» فَقَتَلْنَا ثَلَاثَ سَوَاحِرَ، وَفَرَّقْنَا بَيْنَ الرَّجُلِ وَحُرْمَتِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَصَنَعَ طَعَامًا ثُمَّ دَعَا الْمَجُوسَ، وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ، فَأَكَلُوا بِغَيْرِ زَمْزَمَةٍ، وَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ وَرِقٍ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخَذَ مِنَ الْمَجُوسِ جِزْيَةً حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سال وفات سے پہلے حکم دیا: ”ہر جادوگر کو قتل کرو، مجوسی مرد و عورت میں تفریق کرو، اور زمزمہ (مجوسی رسم) سے روکو، اور مجوسیوں سے جزیہ لیا جائے۔“ چنانچہ تین جادوگر قتل کیے گئے اور مجوسیوں پر جزیہ عائد کیا گیا۔
حدیث نمبر: 3358
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا عَوْفُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَازِنِيُّ، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ «أَنْ فَرِّقُوا بَيْنَ الْمَجُوسِ وَبَيْنَ حُرَمِهِمْ كَيْمَا نُلْحِقَهُمْ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، وَاقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَكَاهِنٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”مجوسیوں اور ان کی بیویوں کے درمیان جدائی کر دو تاکہ انہیں اہل کتاب کے حکم میں شامل کیا جا سکے، اور ہر جادوگر اور کاہن کو قتل کرو۔“
وضاحت:
عوف بن عباد المازني مجہول
حدیث نمبر: 3359
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، أنا قَيْسُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ «أَنِ اضْرِبُوا الزَّمَازِمَةَ، حَتَّى يَتَكَلَّمُوا، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَبَيْنَ حُرْمَتِهِ، وَاقْتُلُوا السَّحَرَةَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”زمزمہ کرنے والوں کو مارو یہاں تک کہ وہ بولنے لگیں، اور ہر مجوسی مرد و عورت میں تفریق کرو، اور جادوگروں کو قتل کرو۔“
حدیث نمبر: 3360
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ فُضَيْلًا الرَّقَاشِيَّ، مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ: سَلِ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ: لِمَ أَقَرَّ سَلَفُ الْمُسْلِمِينَ نِكَاحَ الْأَخَوَاتِ وَالْأُمَّهَاتِ؟ فَقَالَ الْحَسَنُ: «لِأَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ لَمَّا قَدِمَ الْبَحْرَيْنِ تَرَكَ النَّاسَ عَلَى هَذَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: ”علاء بن حضرمی جب بحرین آئے تو وہاں کے لوگوں کو بہنوں اور ماؤں کے نکاح پر قائم رہنے دیا، اسی وجہ سے سلف نے اس نکاح کو برقرار رکھا۔“
حدیث نمبر: 3361
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «يَنْكِحُ الْعَبْدُ أَرْبَعًا»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام کو چار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 3362
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: «اثْنَتَيْنِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام صرف دو عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى طَلْحَةَ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «يَنْكِحُ الْعَبْدُ اثْنَتَيْنِ، وَيُطَلِّقُ تَطْلِيقَتَيْنِ، وَتَعْتَدُّ الْأَمَةُ حَيْضَتَيْنِ، فَإِنْ لَمْ تَحِضْ فَشَهْرٌ وَنِصْفٌ - أَوْ قَالَ - شَهْرَانِ» شَكَّ سُفْيَانُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”غلام دو عورتوں سے نکاح کرے گا، دو طلاقیں دے گا، اور باندی دو حیض عدت گزارے گی، اگر حیض نہ آئے تو ڈیڑھ یا دو ماہ عدت ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3364
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «جَرَّدَ جَارِيَتَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ نَهَى بَعْضَ وَلَدِهِ أَنْ يَقْرَبَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک باندی کو برہنہ کر کے دیکھا اور اپنے بعض بیٹوں کو اس کے قریب جانے سے منع کر دیا۔
حدیث نمبر: 3365
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ أَبُوهُمَا بَدْرِيًّا أَنَّهُ أَوْصَى بِجَارِيَةٍ لَهُ أَنْ يَبِيعُوهَا وَلَا يَقْرَبُوهَا كَأَنَّهُ اطَّلَعَ مِنْهَا مُطَّلَعًا، فَكَرِهَ أَنْ يَطَّلِعُوا مِنْهَا عَلَى مِثْلِ مَا اطَّلَعَ "
مظاہر امیر خان
عبداللہ اور عبدالرحمن، سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں نے کہا: ”ہمارے والد نے اپنی ایک باندی کی وصیت کی کہ اسے بیچ دیا جائے اور ان کے بیٹے اس کے قریب نہ جائیں، کیونکہ انہوں نے اس میں کچھ ایسا دیکھا تھا جسے وہ ناپسند کرتے تھے۔“
…