حدیث نمبر: 3320
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَرَجَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُمْ: «مِنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟» فَقَالُوا: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: «أَبِإِذْنِي جِئْتُمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَسَأَلُوهُ مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، وَعَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَعَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: «أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟» فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ، وَمَا نَحْنُ بِسَحَرَةٍ، فَقَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ خِصَالٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ جَمِيعًا بَعْدَ إِذْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُكُمْ، أَمَّا مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَمَا فَوْقَ الْإِزَارِ، وَأَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ فَنُورٌ، فَنَوِّرُوا بُيُوتَكُمْ، وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ اغْسِلْ رَأْسَكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفِضْ عَلَى سَائِرِ جَسَدِكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مرد حائضہ عورت سے صرف ازار کے اوپر مباشرت کرے، گھر میں نماز پڑھنا روشنی ہے، غسل جنابت میں وضو کرے پھر سر اور پورے جسم پر پانی بہائے۔“
وضاحت:
وضاحت: اثر عاصم بن عمرو سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا متن متواتر صحیح احادیث سے تقویت یافتہ ہے، اس لیے فقہی استنباط اور تعلیم و فہم کے لیے قابلِ قبول اور مفید ہے، خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسلوب و حکمت بھی اس میں نمایاں ہے
فائدہ: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ایک فقہی و تربیتی مجلسی بیان ہے۔ اس میں متعدد عبادات اور احکامِ طہارت سے متعلق سوالات کا جواب دیا گیا، اور ساتھ ہی اس کے انداز سے تعلیم، فہم اور ادبِ سوال کی روح بھی جھلکتی ہے۔ یہ اثر صحابہ کے تعلیمی اسلوب، فقیہی اجتہاد، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی علم کی روایت کا عملی مظہر ہے۔ اضافی نکتہ: جب عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "أسحرة أنتم؟" (کیا تم لوگ جادوگر ہو؟) تو یہ طنز نہیں بلکہ حیرت اور تعجب کا اظہار تھا کہ: "تم نے وہ سوال کیے جنہیں آج تک کسی نے ایک ساتھ نہیں پوچھا" یہ سوال کرنے والوں کی علمی طلب کی تعریف بھی ہے اور علم کی حرمت کا اظہار بھی۔
✅ نتیجہ: یہ اثر: سنداً حسن کے درجہ کے قریب ہے (روایات کے مجموعے میں) اور صحابی جلیل کا جامع علمی بیان ہے اس میں طہارت، حیض، اور نماز کے احکام نہایت جامع، مختصر اور اصولی انداز میں سکھائے گئے ہیں ساتھ ہی تعلیم کا ادب، سوال کا اسلوب، اور سنتِ نبوی کی پیروی کا ایک خوبصورت نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
فائدہ: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ایک فقہی و تربیتی مجلسی بیان ہے۔ اس میں متعدد عبادات اور احکامِ طہارت سے متعلق سوالات کا جواب دیا گیا، اور ساتھ ہی اس کے انداز سے تعلیم، فہم اور ادبِ سوال کی روح بھی جھلکتی ہے۔ یہ اثر صحابہ کے تعلیمی اسلوب، فقیہی اجتہاد، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی علم کی روایت کا عملی مظہر ہے۔ اضافی نکتہ: جب عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "أسحرة أنتم؟" (کیا تم لوگ جادوگر ہو؟) تو یہ طنز نہیں بلکہ حیرت اور تعجب کا اظہار تھا کہ: "تم نے وہ سوال کیے جنہیں آج تک کسی نے ایک ساتھ نہیں پوچھا" یہ سوال کرنے والوں کی علمی طلب کی تعریف بھی ہے اور علم کی حرمت کا اظہار بھی۔
✅ نتیجہ: یہ اثر: سنداً حسن کے درجہ کے قریب ہے (روایات کے مجموعے میں) اور صحابی جلیل کا جامع علمی بیان ہے اس میں طہارت، حیض، اور نماز کے احکام نہایت جامع، مختصر اور اصولی انداز میں سکھائے گئے ہیں ساتھ ہی تعلیم کا ادب، سوال کا اسلوب، اور سنتِ نبوی کی پیروی کا ایک خوبصورت نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 3321
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا لَيْثٌ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا حَاضَتْ؟ قَالَتْ: «مَا فَوْقَ الْإِزَارِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”حائضہ عورت سے شوہر کو ازار کے اوپر مباشرت کی اجازت ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: اثر سنداً ضعیف ہے (لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے) لیکن متناً صحیح حدیث کا خلاصہ ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فتویٰ سنتِ نبوی کی تفسیر ہے اور فقہی اصول کی حیثیت رکھتا ہے کہ: "حائضہ عورت سے دخول حرام ہے، مگر ازار کے اوپر مباشرت جائز ہے"
حدیث نمبر: 3322
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَأَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں حالت حیض میں ازار باندھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں سوتی تھی۔“
حدیث نمبر: 3323
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّهَا كَانَتْ تَنَامُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ وَهِيَ حَائِضٌ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں حیض کے ایام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں سوتی تھی۔“
حدیث نمبر: 3324
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَا: «إِذَا غَطَّتِ الْفَرْجَ فَلَا بَأْسَ بِمَا سِوَى ذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”جب شرمگاہ ڈھانپ لی جائے تو باقی بدن سے مباشرت میں حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 3325
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ: «يَضَعُ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ مِنَ الْحَائِضِ حَيْثُ شَاءَ مَا لَمْ يُدْخِلْهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے کہا: ”مرد حائضہ عورت کے ساتھ جہاں چاہے مباشرت کرے بشرطیکہ دخول نہ کرے۔“