کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اُس مرد کا بیان جو زنا سے پیدا ہونے والے بچے کی نسبت اپنی طرف کرے۔
حدیث نمبر: 3303
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «مَنِ ادَّعَى وَلَدًا مِنْ زِنًا لَمْ يُصَدَّقْ، وَلَمْ يُلْحَقْ بِهِ، وَلَمْ يَرِثْهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”جو زنا سے بچے کا دعویٰ کرے اس کی بات نہ مانی جائے گی، نہ بچہ اس سے منسلک ہو گا، نہ وراثت دے گا۔“
حدیث نمبر: 3304
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سَلَمَةُ بْنُ هَزَّالٍ، قَالَ: رَكَعْتُ بِمَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْمَقَامِ، فَإِذَا طَاوُسٌ عَنْ يَمِينِي، فَسَأَلَهُ خَيَّاطٌ عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا فَوَلَدَتْ مِنْهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، فَوَلَدَتْ مِنْهُ، مَنْ يَرِثُ مِنْهُمَا، قَالَ: «يَرِثُهُ وَلَدُهُ لِرِشْدَةٍ، وَلَا يَرِثُ الْآخَرُ مِنْهُ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: ”جو مرد نکاح کے بعد بچہ پیدا کرے وہ اس کا وارث ہو گا، پہلے زنا سے پیدا ہونے والا بچہ وارث نہ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3305
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ لَهُ وَلَدًا مِنْ أُمِّ فُلَانٍ مِنْ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا عَهْرَ فِي الْإِسْلَامِ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْأَثْلَبُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: ”زنا میں بچہ نہیں ہوتا، بچہ بستر والے کا ہے اور زناکار کو پتھر ہے۔“
وضاحت:
درایۃً متن حدیث صحیح ہے (بخاری و مسلم سے مؤید)، لہٰذا قابل استدلال ہے۔
فائدہ: اس حدیث کی بنیاد پر فقہی قاعدہ: «الولد للفراش» —
بچہ اسی کا ہے جس کے بستر (نکاح) پر پیدا ہوا، چاہے حمل میں شک ہو
«وللعاهر الأثلَب» —
زانی کے لیے نسب کا کوئی حق نہیں، صرف شرعی سزا یا ذلت
✅ نتیجہ: یہ روایت فقہی، عدالتی، اور معاشرتی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔
اس سے اسلام کا نکاح کی حرمت، نسب کی پاکیزگی، اور زنا کے رد کا تصور مکمل واضح ہوتا ہے
فائدہ: اس حدیث کی بنیاد پر فقہی قاعدہ: «الولد للفراش» —
بچہ اسی کا ہے جس کے بستر (نکاح) پر پیدا ہوا، چاہے حمل میں شک ہو
«وللعاهر الأثلَب» —
زانی کے لیے نسب کا کوئی حق نہیں، صرف شرعی سزا یا ذلت
✅ نتیجہ: یہ روایت فقہی، عدالتی، اور معاشرتی اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔
اس سے اسلام کا نکاح کی حرمت، نسب کی پاکیزگی، اور زنا کے رد کا تصور مکمل واضح ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3306
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْسَلَ إِلَى شَيْخٍ فِي دَارِهِمْ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَسَأَلَهُ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ , فَقَالَ: أَمَا النُّطْفَةُ لِفُلَانٍ، وَأَمَّا الْفِرَاشُ فَلِفُلَانٍ، فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ، وَلَكِنْ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِرَاشِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شیخ سے پوچھا: ”دور جاہلیت میں ولادت پر فیصلہ کیسے ہوتا تھا؟“ تو کہا: ”نطفہ فلاں کا اور بستر فلاں کا۔“ عمر نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے بستر کے حق میں فیصلہ کیا۔“
وضاحت:
وضاحت: انظر حدیث سابق
حدیث نمبر: 3307
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ: إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ آخُذَ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَإِنَّهُ ابْنُهُ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي، ابْنُ أَمَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ نے غلام کے بارے میں جھگڑا کیا، نبی صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہے، اے سودہ پردہ کر لو۔“
وضاحت:
فائدہ: سند صحیح اور متفق علیہ ہے — یہ واقعہ صحیح البخاری (حدیث: 2053)، صحیح مسلم، اور دیگر کتب حدیث میں بھی مذکور ہے۔یہ حدیث بالاتفاق صحیح ہے اور نسب کے مسائل میں اصل الاصول کی حیثیت رکھتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے: مشابہت دیکھی، مگر فیصلہ نکاح کی بنیاد پر کیا نسب کے تحفظ کے لیے نص قطعی قائم کر دیا اور پردے کے حکم سے اخلاقی و خاندانی احتیاط کا پہلو بھی سکھایا۔
حدیث نمبر: 3308
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: ”بچہ بستر والے کا ہے اور زناکار کو پتھر ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: یہ حدیث قطعی الثبوت، قطعی الدلالہ، اور اصولِ شریعت میں داخل ہے اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے اس سے زنا کے ذریعے نسب کے انکار اور نکاح کی اہمیت ثابت ہوتی ہے شریعت خاندانی نظام کو تحفظ دیتی ہے اور زنا کے تمام نتائج کو رد کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 3309
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَبِفِي الْعَاهِرِ الْحَجَرُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: ”بچہ بستر والے کا ہے اور زناکار کو پتھر ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: سابقہ احادیث (2130–2131) کی مؤید ہے اور قاعدۂ نبوی "الولد للفراش" کو مختلف سند کے ساتھ دوبارہ نقل کرتی ہے۔ یہ حدیث سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور اس میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی فیصلہ بیان ہوا ہے جو اسلامی شریعت کے قانونِ نسب کی بنیاد ہے۔یہ حدیث بھی صحیح الاسناد اور فقہی اصولی حیثیت کی حامل ہے اس سے شریعت کی یہ تعلیم واضح ہوتی ہے کہ: نسب کو زنا جیسے فاسد عمل سے نہیں جوڑا جا سکتا نسب کی بنیاد نکاح اور عصمت ہے شریعت خاندانوں کے نسبی تحفظ کو ہر قیمت پر برقرار رکھتی ہے۔