کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اُس عورت کا بیان جس پر زنا کی گواہی دی جائے، پھر وہ کنواری پائی جائے۔
حدیث نمبر: 3298
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ فِي امْرَأَةٍ يَشْهَدُ عَلَيْهَا أَرْبَعَةٌ بِالزِّنَا، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَإِذَا هِيَ بِكْرٌ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ حَدًّا عَلَى امْرَأَةٍ عَلَيْهَا مِنَ اللَّهِ خَاتَمٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”جس عورت پر چار آدمی زنا کی گواہی دیں اور وہ کنواری نکلے تو میں اس پر حد قائم نہ کرتا جس پر اللہ کی طرف سے مہر ہے۔“
حدیث نمبر: 3299
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: «يُقَامُ عَلَيْهَا الْحَدُّ، وَلَا يُلْتَفَتُ إِلَى ذَلِكَ مِنْهَا» قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”عورت پر حد جاری کی جائے گی اور اس کا کنوارہ پن معتبر نہ ہو گا۔“ ہشیم نے کہا: ”یہی قول درست ہے۔“
وضاحت:
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، ولعل الصواب: (إسماعيل بن سالم)، كما في (مسند بن الجعد)
حدیث نمبر: 3300
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «لَيْسَ عَلَى تَائِبٍ حَدٌّ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”توبہ کرنے والے پر حد نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3301
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ، فَقَذَفَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا النِّسَاءُ، فَوَجَدُوهَا بِكْرًا، فَإِنَّهُ يُجْلَدُ؛ لِأَنَّهُ اسْتَبَانَ أَنَّهُ كَذَبَ عَلَيْهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر شوہر دخول سے پہلے بیوی پر تہمت لگائے اور عورت کنواری نکلے تو شوہر پر حد جاری ہو گی کیونکہ اس کا جھوٹ ثابت ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 3302
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَضَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ عَذْرَاءَ تَزَوَّجَهَا شَيْخٌ كَبِيرٌ فَحَمَلَتْ، فَزَعَمَ الشَّيْخُ أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا، وَسُئِلَتْ هَلِ افْتَضَّكِ؟ قَالَتْ: لَا، فَأَمَرَ النِّسَاءَ أَنْ يَنْظُرْنَ إِلَيْهَا، فَزَعَمْنَ أَنَّهَا عَذْرَاءُ، فَقَالَ: " إِنَّ لِلْمَرْأَةِ سَمَّيْنِ: سَمُّ الْحَيْضِ، وَسَمُّ الْبَوْلِ، فَلَعَلَّ الرَّجُلَ كَانَ يُنْزِلُ فِي قُبُلِهَا فِي سَمِّ الْمَحِيضِ، فَحَمَلَتْ " فَسُئِلَ الرَّجُلُ، فَقَالَ؟ كُنْتُ أُنْزِلُ الْمَاءَ فِي قُبُلِهَا، فَقِيلَ لِلشَّيْخِ: إِنَّهَا لَمْ تَزَلْ بِكْرًا، وَإِنَّمَا الْحَمْلُ لَكَ، وَلَكَ وَلَدُهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کے بارے میں فیصلہ کیا، جو کنواری تھی، اور اس کی شادی ایک بوڑھے شخص سے ہوئی۔ عورت حاملہ ہو گئی۔ بوڑھے شخص نے دعویٰ کیا کہ میں نے اس سے جماع نہیں کیا۔ عورت سے پوچھا گیا کہ کیا تمہاری بکارت زائل ہوئی؟ عورت نے کہا: ”نہیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عورتوں کو حکم دیا کہ وہ عورت کا معائنہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ واقعی کنواری ہے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورت کے جسم میں دو راستے ہوتے ہیں: حیض کا راستہ اور پیشاب کا راستہ۔ ممکن ہے کہ مرد نے حیض کے مقام میں (یعنی فرج کے دہانے پر) انزال کیا ہو اور عورت حاملہ ہو گئی ہو۔“ پھر بوڑھے شخص سے پوچھا گیا، تو اس نے کہا: ”میں اس کے فرج پر منی گراتا تھا۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا: ”عورت بدستور کنواری ہے اور حمل تیرے (اسی بوڑھے شخص کے) نطفہ سے ہے، اور یہ بچہ تیرا ہی ہو گا۔“
وضاحت:
وضاحت: إسماعيل بن عياش: ثقہ، لیکن جب "حجازیوں سے روایت" کرے تو اس میں ضعف آتا ہے یہاں سعید بن یوسف حجازی ہے، اس لیے اس کی روایت میں کلام ہے
سعید بن یوسف: ضعیف، محدثین نے اس کی تفصیل میں اختلاف کیا۔ اس بناء پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے، مگر معنوی اعتبار سے قوی و مقبول کیونکہ: قضیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے اور فقہی قاعدے و امکانِ حمل پر مبنی ہے طبی لحاظ سے بھی یہ ممکن الوقوع ہے۔
سعید بن یوسف: ضعیف، محدثین نے اس کی تفصیل میں اختلاف کیا۔ اس بناء پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے، مگر معنوی اعتبار سے قوی و مقبول کیونکہ: قضیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے اور فقہی قاعدے و امکانِ حمل پر مبنی ہے طبی لحاظ سے بھی یہ ممکن الوقوع ہے۔