کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اُس مرد کا بیان جس کی باندی بدکار ہو، اور وہ اس کا نکاح کر کے اسے پاکدامن بنا دے۔
حدیث نمبر: 3215
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْأَمَةِ، ثُمَّ يَشْتَرِيهَا قَالَ: «كَانَ يُكْرَهُ أَنْ يَقْرَبَهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو لونڈی سے زنا کرے پھر اسے خرید لے تو اس سے تعلق قائم کرنا مکروہ سمجھا جاتا تھا۔“
حدیث نمبر: 3216
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، أَنَّ مَسْعُودًا، كَانَ يَكْرَهُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَطَأَ أَمَتَهُ إِذَا فَجَرَتْ، أَوْ يَطَأَهَا وَهِيَ مُشَرَّكَةٌ "
مظاہر امیر خان
حضرت مسعود رحمہ اللہ کا قول ہے: ”جو آدمی اپنی لونڈی سے بدکاری کرے یا مشترکہ لونڈی سے ہمبستری کرے تو یہ ناپسند کیا جاتا تھا۔“
حدیث نمبر: 3217
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلُوا عَلَيْهِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ دَخَلُوا عَلَيْهِ فِي آخِرِهِ وَهُوَ مُفْطِرٌ، فَسَأَلُوهُ فَقَالَ: «مَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ فَأَعْجَبَتْنِي، وَأَزِيدُكُمْ أَنَّهَا كَانَتْ بَغِيًّا فَحَصَّنْتُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں نے دن میں روزہ رکھا تھا لیکن شام کو ایک باندی پسند آ گئی، جو فاحشہ تھی، تو میں نے اس سے نکاح کر کے اسے محفوظ کر لیا۔“
حدیث نمبر: 3218
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي صَدْرِ النَّهَارِ فَوَجَدْنَاهُ صَائِمًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَيْهِ مِنَ الْعَشِيِّ فَوَجَدْنَاهُ مُفْطِرًا، فَقُلْنَا لَهُ: أَلَمْ تَكُ صَائِمًا؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّ جَارِيَةً لِي أَتَتْ عَلَيَّ فَأَعْجَبَتْنِي، فَأَصَبْتُ مِنْهَا، وَإِنَّمَا هُوَ تَطَوُّعٌ وَسَأَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَأَزِيدُكُمْ أَنَّهَا كَانَتْ بَغِيًّا فَحَصَّنْتُهَا، وَإِنَّهُ قَدْ عَزَلَ عَنْهَا " قَالَ سَعِيدٌ: فَعَلِمْنَا أَرْبَعَةَ أَشْيَاءَ فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍ
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم دن کے ابتدائی حصے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو وہ روزے سے تھے، پھر شام کو گئے تو وہ افطار کر چکے تھے، ہم نے پوچھا: کیا آپ روزے سے نہیں تھے؟ فرمایا: کیوں نہیں، مگر میری ایک لونڈی آئی، وہ مجھے پسند آ گئی تو میں نے اس سے مباشرت کی، اور یہ نفل روزہ تھا، جسے میں قضا کر لوں گا، اور میں تمہیں مزید بتاؤں کہ وہ پہلے بدکارہ تھی، تو میں نے اسے نکاح میں لا کر پاک کر لیا، اور میں نے اس سے مباشرت کے وقت عزل بھی کیا۔“ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: ”ہم نے اس ایک حدیث سے چار مسئلے سیکھے۔“