کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: ایسی اُمِّ ولد کے بارے میں، جس کے اپنے آقا سے (پہلے) بچے ہوں، پھر آقا فوت ہو جائے، تو وہ (آزاد ہو کر) نکاح کرے اور اُس شوہر سے بھی اُسے اولاد ہو، پھر اس کے آقا سے ہونے والے کچھ بچے وفات پا جائیں۔
حدیث نمبر: 3132
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ وَلَدَتْ مِنْهُ، وَمَاتَ الْهَاشِمِيُّ فَتَزَوَّجَتْ أُمُّ وَلَدِهِ رَجُلًا فَدَخَلَ بِهَا، فَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلَادًا، فَمَاتَ ابْنُ الْهَاشِمِيِّ مِنْهَا، فَشَهِدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِهِ قَالَ لِزَوْجِ أَمَتِهِ: «إِنَّكَ رَاشِدٌ، إِنَّ هَذَا الْغُلَامَ قَدْ مَاتَ، وَإِنَّهُ لَيْسَ لَكَ أَنْ تَسْتَلْحِقَ سَهْمًا لَيْسَ لَكَ، وَإِنِّي آمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ»
مظاہر امیر خان
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے کہا: ”جب اس کے غلام بیٹے کا انتقال ہوا تو اپنی باندی سے علیحدہ ہو جاؤ، تاکہ تم غیر حق کے وارث نہ بنو۔“
حدیث نمبر: 3133
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي عَبْدٍ مَمْلُوكٍ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ، وَلَهُ أَخٌ حُرٌّ، فَمَاتَ أَخُوهُ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا قَالَ: «يُمْسِكُ الْعَبْدُ عَنِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَبِهَا حَمْلٌ أَوْ لَيْسَ بِهَا؟ فَإِنْ كَانَ بِهَا حَمْلٌ وَرِثَ وَلَدُهَا عَمَّهُ» وَكَانَ يَقُولُ فِي رَجُلٍ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ لَهَا وَلَدٌ مِنْ غَيْرِهِ فَمَاتَ وَلَدُهَا ذَاكَ، قَالَ: «يُمْسِكُ الرَّجُلُ عَنِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَبِهَا حَمْلٌ أَمْ لَا؟»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب غلام کسی آزاد عورت سے نکاح کرے اور اس کا آزاد بھائی فوت ہو جائے تو غلام اپنی بیوی سے رکے جب تک حمل کا پتہ نہ چل جائے، اگر حمل ہو تو بچہ اپنے چچا کا وارث ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3134
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا كَانَ لِامْرَأَةِ الرَّجُلِ وَلَدٌ مِنْ غَيْرِهِ فَمَاتَ فَلْيُمْسِكْ مِنْ جِمَاعِهَا حَتَّى تَحِيضَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی مرد کی بیوی کا بچہ کسی اور سے ہو اور وہ بچہ فوت ہو جائے تو مرد کو چاہیے کہ بیوی سے صحبت نہ کرے جب تک وہ حیض سے پاک نہ ہو۔“