حدیث نمبر: 3118
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: «بَيْعُ الْأَمَةِ طَلَاقُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”باندی کا بیچ دینا اس کی طلاق ہے۔“
حدیث نمبر: 3119
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «بَيْعُ الْأَمَةِ طَلَاقُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”باندی کا بیچ دینا اس کی طلاق ہے۔“
حدیث نمبر: 3120
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: «بَيْعُ الْأَمَةِ طَلَاقُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”باندی کا بیچ دینا اس کی طلاق ہے۔“
وضاحت:
وضاحت: چونکہ الحسن البصري کا سیدنا أُبَي بن كعب رضی اللہ عنہ سے سماع صراحتاً ثابت نہیں ہے، اور انقطاع کا احتمال ہے، اس لیے یہ اثر مرسل ہے اور سنداً حسن لغیرہ کے درجے میں ہے، کیونکہ حسن البصري کثیر الإرسال بھی ہیں۔
حدیث نمبر: 3121
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِإِذْنِ سَيِّدِهِ ثُمَّ بَاعَهُ فَإِنَّهُ لَا يُحَالُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، وَإِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ ثُمَّ بَاعَهَا، فَإِنَّهُ كَانَ يَرَى بَيْعَهَا طَلَاقَهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر غلام اپنے آقا کی اجازت سے نکاح کرے، پھر اسے بیچ دیا جائے تو اس کا نکاح باقی رہے گا، لیکن اگر کسی نے اپنی باندی کا نکاح کر کے اسے بیچ دیا تو باندی کا بیچ دینا اس کی طلاق سمجھی جاتی تھی۔“
حدیث نمبر: 3122
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «بَيْعُ الْأَمَةِ طَلَاقٌ، وَبَيْعُ الْعَبْدِ لَيْسَ بِطَلَاقٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی کا بیچ دینا طلاق ہے، اور غلام کا بیچ دینا طلاق نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3123
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «بَيْعُ الْأَمَةِ طَلَاقُهَا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی کا بیچ دینا اس کی طلاق ہے۔“
حدیث نمبر: 3124
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي " بَيْعِ الْأَمَةِ: «فَهُوَ طَلَاقُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”باندی کا بیچ دینا اس کی طلاق ہے۔“
حدیث نمبر: 3125
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِبَاقُ الْعَبْدِ طَلَاقُهُ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام کا بھاگ جانا اس کی طلاق ہے۔“
حدیث نمبر: 3126
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: أنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أُهْدِيَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَارِيَةٌ فَأُنْبِئَ أَنَّ لَهَا زَوْجًا فَاشْتَرَى بُضْعَهَا مِنْ زَوْجِهَا بِخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ عَلَى أَنْ يُطَلِّقَهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک باندی ہدیہ میں دی گئی، جب آپ کو بتایا گیا کہ اس کا شوہر ہے تو آپ نے شوہر سے اس کا بضع (ازدواجی تعلق) پانچ سو درہم میں خرید لیا کہ وہ اسے طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، وَعُبَيْدَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ مُرَّةَ بْنَ شَرَاحِيلَ، صَاحِبَ السَّيْلَحِينِ بَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِجَارِيَةٍ، فَسَأَلَهَا هَلْ لَكِ مِنْ زَوْجٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّهَا، وَكَتَبَ إِلَى مُرَّةَ: «إِنِّي وَجَدْتُ هَدِيَّتَكَ مَشْغُولَةً» فَاشْتَرَى مُرَّةُ بُضْعَهَا مِنْ زَوْجِهَا بِخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَبِلَهَا
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مرہ بن شراحیل نے ایک باندی بھیجی، جب آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارا کوئی شوہر ہے؟ اس نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور لکھا: ”میں نے تمہاری ہدیہ کردہ باندی کو مشغول پایا۔“ پھر مرہ نے شوہر سے اس کا بضع خرید کر دوبارہ آپ کی خدمت میں بھیجا، تو آپ نے قبول کر لیا۔
حدیث نمبر: 3128
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ أَنْ يَبْتَاعَ، لَهُ جَارِيَةً، فَفَعَلَ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ لَهَا زَوْجًا فِي أَهْلِهَا، فَكَفَّ عَنْهَا، وَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنْ يَشْتَرِيَ بُضْعَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَفَعَلَ " قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یسار بن نمیر کو لکھا کہ میرے لیے ایک باندی خرید لے، جب اس نے باندی خرید کر بھیجی تو معلوم ہوا کہ اس کا شوہر موجود ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا بضع اس کے شوہر سے خرید لیا جائے، چنانچہ ایسا کیا گیا۔
حدیث نمبر: 3129
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ «أَنَّ أَبَاهُ اشْتَرَى مِنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ جَارِيَةً، فَأُخْبِرَ أَنَّ لَهَا زَوْجًا فَرَدَّهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ کے والد نے عاصم بن عدی سے ایک باندی خریدی، جب علم ہوا کہ اس کا شوہر ہے تو باندی کو واپس کر دیا۔
حدیث نمبر: 3130
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، اشْتَرَى جَارِيَةً فَذَكَرَ أَنَّ لَهَا زَوْجًا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَاهُ فَقَالَ: «يَا بُنَيَّ طَلِّقْهَا» قَالَ: لَا، وَاللَّهِ لَا أُطَلِّقُهَا، فَقَالَ: «خُذُوا جَارِيَتَكُمْ» فَرَدَّهَا
مظاہر امیر خان
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک باندی خریدی، معلوم ہونے پر کہ اس کا شوہر ہے، شوہر کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”بیٹا! اسے طلاق دے دو۔“ اس نے انکار کیا تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنی باندی واپس لے جاؤ۔“ اور اسے واپس کر دیا۔
حدیث نمبر: 3131
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: نا أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى السُّوقِ، فَرَأَى جَارِيَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَاشْتَرَاهَا، فَأَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ بِهَا، فَقَالَ صَاحِبُهَا: يَا أَبَا إِسْحَاقَ دَعْهَا حَتَّى نَأْمُرَ بِهَا فَتُمَشَّطَ، ثُمَّ نُرْسِلَ بِهَا إِلَيْكَ، فَتَرَكَهَا حَتَّى صَنَعُوا ذَلِكَ بِهَا، فَلَمَّا خَلَا بِهَا قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَحِلُّ لَكَ , قَالَ: «وَلِمَ؟» قَالَتْ: إِنِّي ذَاتُ زَوْجٍ , قَالَ: «مَا لَهُ قَاتَلَهُ اللَّهُ، أَرَادَ أَنْ يَحْمِلَنِي عَلَى امْرَأَةِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ» فَخَرَجَ بِهَا إِلَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ ذَلِكَ الْقَوْلَ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ فِي السُّوقِ، فَسَمِعَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا سَعْدُ أَقْصِرْ عَلَيْكَ، لَا تَقُلْ: إِنِّي مُسْتَجَابُ الدَّعْوَةِ، إِنَّمَا هِيَ جَارِيَتِي زَوَّجْتُهَا غُلَامًا لِي، وَإِذَا شِئْتَ أَنْ أُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا فَرَّقْتُ، فَقَالَ سَعْدٌ: «لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ، هُوَ زَوْجُهَا حَيْثُمَا أَدْرَكَهَا أَخَذَ بِرِجْلِهَا» فَرَدَّهَا عَلَيْهِ
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک باندی خریدی، جب اس نے خلوت میں آ کر کہا کہ ”میں تمہارے لیے حلال نہیں ہوں کیونکہ میں شادی شدہ ہوں۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے واپس کر دیا اور بیچنے والے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔