حدیث نمبر: 2940
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَبَعَثَ إِلَيْهَا بِعَشَرَةِ آلَافٍ مُتْعَةً لَهَا، فَقَالَتْ: «مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ» فَبَلَغَهُ قَوْلُهَا فَرَاجَعَهَا
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بیوی کو طلاق دی اور دس ہزار درہم بطور متاع بھیجا، بیوی نے کہا: ”محبوب جدا ہو رہا ہے، متاع کم ہے۔“ یہ بات پہنچی تو آپ نے اسے رجوع کر لیا۔
حدیث نمبر: 2941
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، «طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَمَتَّعَهَا بِثَلَثِمِائَةِ دِرْهَمٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا اسود بن یزید رحمہ اللہ نے بیوی کو طلاق دی اور تین سو درہم متاع دیا۔
حدیث نمبر: 2942
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، «أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَمَتَّعَهَا بِثَلَثِمِائَةِ دِرْهَمٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا اسود بن یزید رحمہ اللہ نے بیوی کو طلاق دی اور تین سو درہم متاع دیا۔
حدیث نمبر: 2943
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
یہی روایت سیدنا اسود بن یزید رحمہ اللہ سے ایک اور سند سے بھی آئی۔
حدیث نمبر: 2944
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ «طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَمَتَّعَهَا بِثَلَاثِمِائَةِ دِرْهَمٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیوی کو طلاق دی اور تین سو درہم متاع دیا۔
حدیث نمبر: 2945
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، «أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَمَتَّعَهَا بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ حَمَّمَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیوی کو طلاق دی اور ایک سیاہ باندی بطور متاع دی۔
حدیث نمبر: 2946
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا قَالَتْ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَارِيَةٍ سَوْدَاءَ حَمَّمَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَتَهُ أُمَّ أَبِي سَلَمَةَ حِينَ طَلَّقَهَا فِي مَرَضِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ ام ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے دیکھا جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیماری میں طلاق دی تو باندی بطور متاع دی۔“
حدیث نمبر: 2947
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «الْعَرَبُ تُسَمِّي الْمُتْعَةَ التَّحْمِيمَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عرب لوگ متاع کو تحمیم کہتے تھے۔“
حدیث نمبر: 2948
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ شُرَيْحًا طَلَّقَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا كُبَيْشَةُ، فَمَتَّعَهَا مَتَاعًا لَمْ يُسَمِّهِ، وَكَتَمَهَا طَلَاقَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَلَمَّا أَخْبَرَهَا أَمَرَتْ بِثِيَابِهَا أَنْ تُنْقَلَ، وَخَرَجَتْ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: «لِذَلِكَ كَتَمْتُهَا، إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ تَعْصِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا شریح رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کبیشہ کو طلاق دی، متاع دیا اور طلاق کو عدت ختم ہونے تک چھپائے رکھا تاکہ وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2949
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ، قَالَ: وَأنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ شُرَيْحًا، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَمَتَّعَهَا بِخَمْسِ مِائَةِ دِرْهَمٍ "
مظاہر امیر خان
سیدنا شریح رحمہ اللہ نے بیوی کو طلاق دی اور پانچ سو درہم بطور متاع دیا۔
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لِكُلِّ مُطْلَقَةٍ مَتَاعٌ إِلَّا الَّتِي طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، وَقَدْ كَانَ فَرَضَ لَهَا، فَلَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہر مطلقہ کے لیے متاع ہے سوائے اس کے جسے بغیر دخول کے طلاق دی گئی ہو اور مہر مقرر ہو تو نصف مہر ملے گا۔“
حدیث نمبر: 2951
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «لِكُلِّ مُطْلَقَةٍ مَتَاعٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر مطلقہ کے لیے متاع ہے۔“
حدیث نمبر: 2952
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ: «لِكُلِّ مُطْلَقَةٍ مَتَاعٌ إِلَّا الَّتِي طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، وَقَدْ فَرَضَ لَهَا، فَلَهَا نِصْفَ الصَّدَاقِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر مطلقہ کے لیے متاع ہے، سوائے اس کے جسے بغیر دخول کے طلاق دی گئی ہو اور مہر مقرر ہو تو نصف مہر ملے گا۔“
حدیث نمبر: 2953
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمَتَاعِ: «دِرْعٌ، وَخِمَارٌ، وَمِلْحَفَةٌ، وَجِلْبَابٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”متاع میں ایک قمیص، ایک دوپٹہ، ایک چادر اور ایک جلباب دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 2954
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمَا قَالَا: «لِكُلِّ مُطْلَقَةٍ مَتَاعٌ إِلَّا الَّتِي طَلَّقَهَا، وَقَدْ فَرَضَ لَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَلَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم اور حضرت شعبی رحمہما اللہ نے فرمایا: ”ہر مطلقہ کے لیے متاع ہے سوائے اس کے جسے بغیر دخول کے طلاق دی گئی ہو اور مہر مقرر ہو۔“
حدیث نمبر: 2955
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَقَالَ: «كَانَ مِنْهُمْ مَنْ مَتَّعَ بِالْخَادِمِ وَالنَّفَقَةِ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ مَتَّعَ بِالنَّفَقَةِ وَالْكِسْوَةِ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ مَتَّعَ بِمِلْحَفَةٍ، وَدِرْعٍ، وَجِلْبَابٍ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ مَتَّعَ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مالدار خادم اور خرچ دے، متوسط خرچ اور لباس دے، کمزور ایک چادر، قمیص یا جلباب دے، غریب ایک کپڑا دے۔“
حدیث نمبر: 2956
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ امْرَأَةً خَاصَمَتْ زَوْجَهَا إِلَى شُرَيْحٍ فِي الْمُتْعَةِ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: «لَا تَأْبَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ، لَا تَأْبَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ» وَلَمْ يُجْبِرْهُ
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک عورت متاع کے لیے مقدمہ لے کر آئی، تو آپ نے شوہر سے فرمایا: ”محسنین اور متقین میں سے بنو۔“ مگر زبردستی نہ کی۔
حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوبَيْرٌ، عَنْ الضَّحَّاكِ، أَنَّهُ قَالَ: «لِكُلِّ مُطَلَّقَةٍ مَتَاعٌ حَتَّى الْمُخْتَلِعَةِ»
مظاہر امیر خان
حضرت ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر مطلقہ کے لیے متاع ہے، یہاں تک کہ خلع لینے والی کے لیے بھی۔“
حدیث نمبر: 2958
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَةً لَهُ، فَقَالَتْ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ مِنِّيَ شَيْئًا تَكْرَهُهُ؟ قَالَ: «لَا» قَالَتْ: فَفِيمَ تُطَلَّقُ الْعَفِيفَةُ الْمُسْلِمَةُ؟ قَالَ: فَارْتَجَعَهَا
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیوی کو طلاق دی، اس نے کہا: ”کیا آپ نے مجھ میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھی ہے؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: ”پھر عفیف مسلمہ کو کس بات پر طلاق دی جاتی ہے؟“ تو آپ نے رجوع کر لیا۔
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِذَا فُوِّضَ إِلَى الرَّجُلِ فَطَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ وَيَفْرِضَ فَلَيْسَ لَهَا إِلَّا الْمَتَاعُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب مرد کو نکاح میں تصرف کا اختیار ہو، پھر بغیر ہمبستری اور مہر مقرر کیے طلاق دے تو عورت کو صرف متاع ملے گا۔“
حدیث نمبر: 2960
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، وَقَدْ فَرَضَ لَهَا هَلْ لَهَا مَتَاعٌ؟ فَقَالَ: كَانَ عَطَاءٌ يَقُولُ: «لَا مَتَاعَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مہر مقرر ہو اور دخول نہ ہوا ہو تو عورت کے لیے کوئی متاع نہیں۔“
حدیث نمبر: 2961
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أنا أَيُّوبُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: «لِكُلِّ مُطَلَّقَةٍ مَتَاعٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر مطلقہ کے لیے متاع ہے۔“