کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو کسی عورت سے زنا کرے، کیا اس کے لیے اُس عورت یا اُس کی ماں سے نکاح کرنا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا بَعْضُ، أَصْحَابِنَا، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي رَجُلٍ فَجَرَ بِأُمِّ امْرَأَتِهِ، قَالَ: «تَخَطَّى حُرْمَتَيْنِ، لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی بیوی کی ماں سے بدکاری کی تو اس نے دو حرمتوں کو توڑا، لیکن حرام فعل حلال نکاح کو حرام نہیں کرتا۔“
حدیث نمبر: 2898
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: «يُفَارِقُ امْرَأَتَهُ، وَلَا يُقِيمُ عَلَيْهَا» . وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا الشَّعْبِيَّ، فَأَتَوَا الشَّعْبِيَّ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہو جائے اور اس پر قائم نہ رہے۔“ پھر فرمایا کہ عامر شعبی رحمہ اللہ کے پاس جاؤ، چنانچہ ان سے بھی یہی فتویٰ لیا۔
حدیث نمبر: 2899
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: ائْتِ عُرْوَةَ فَاسْأَلْهُ، ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي مَا يَقُولُ لَكَ. فَسَأَلَ عُرْوَةَ، فَقَالَ: «لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ» . فَرَجَعَ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ سَعِيدٌ: صَدَقَ عُرْوَةُ، الْقَوْلُ مَا قَالَ
مظاہر امیر خان
قریشی شخص نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا، انہوں نے کہا: عروہ کے پاس جا کر پوچھو، پھر مجھے خبر دو۔ عروہ نے کہا: ”حرام فعل حلال کو حرام نہیں کرتا۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا: ”عروہ نے سچ کہا۔“
حدیث نمبر: 2900
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ فَجَرَ بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ، قَالَ: «لَا تُحَرَّمُ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ، وَيَعْتَزِلُهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ الْأُخْرَى، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى امْرَأَتِهِ، وَيَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ وَلَا يَعُودُ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کی بہن سے بدکاری کی تو فرمایا: ”اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی، وہ اپنی بیوی سے عدت تک الگ رہے، پھر رجوع کرے اور اللہ سے استغفار کرے اور دوبارہ ایسا نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ.
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے بھی یہی فتویٰ دیا۔
حدیث نمبر: 2902
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا۔
حدیث نمبر: 2903
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «فَعَلَ ذَلِكَ بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَكَذَلِكَ أَيْضًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ اور حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر یہ معاملہ رضاعی بہن کے ساتھ ہو تو بھی یہی حکم ہے۔“
حدیث نمبر: 2904
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: «إِذَا زَنَى الرَّجُلُ بِأُمِّ امْرَأَتِهِ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنی بیوی کی ماں سے زنا کیا تو بیوی اس پر حرام ہو جائے گی۔“