حدیث نمبر: 2842
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِسَبِيلٍ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ أَتَيْتِ أَهْلَ الْمُغِيرَةِ فَأَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ. فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَرْحَبًا بِكَ أَبَا فُلَانٍ أَتَيْتَنَا، وَقَدْ جَاءَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ - يَعْنِي امْرَأَتَهُ. قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ، فَأَفْتِنِي. فَأَرْسَلَ عُرْوَةُ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَعَلَهَا وَاحِدَةً، وَأَخْبَرَهُ رِيَاشٌ الطَّائِيُّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «هِيَ ثَلَاثٌ» . فَأَرْسَلَ عُرْوَةُ إِلَى شُرَيْحٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: أَمَّا قَوْلُهُ: طَالِقٌ، فَهِيَ طَالِقٌ بِالسُّنَّةِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: الْبَتَّةَ، فَهِيَ بِدْعَةٌ نَقِفُهُ عِنْدَ بِدْعَتِهِ، فَإِنْ شَاءَ تَقَدَّمَ، وَإِنْ شَاءَ تَأَخَّرَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا جس نے کہا: اگر میری بیوی فلاں کے پاس جائے تو اس پر طلاق البتہ، چنانچہ بیوی چلی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق ہے۔“
حدیث نمبر: 2843
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، بِنَحْوٍ مِنْ حَدِيثِ سَيَّارٍ وَإِسْمَاعِيلَ، قَالَ: فَلَمَّا أَرْسَلَهُ إِلَى شُرَيْحٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ شُرَيْحٌ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَنَّ سُنَنًا، وَإِنَّ الْعِبَادَ ابْتَدَعُوا بِدَعًا، فَعَمَدُوا إِلَى بِدْعَتِهِمْ فَخَلَطُوهَا بِسُنَنِ اللَّهِ، فَإِذَا سُئِلْتُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَمَيِّزُوا السُّنَنَ مِنَ الْبِدَعِ، ثُمَّ امْضُوا بِالسُّنَنِ عَلَى وَجْهِهَا، وَاجْعَلُوا الْبِدَعَ لِأَهْلِهَا، وَأَمَّا قَوْلُهُ: طَالِقٌ، فَهِيَ طَالِقٌ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: الْبَتَّةَ، فَهِيَ بِدْعَةٌ، نَقِفُهُ عِنْدَ بِدْعَتِهِ، فَإِنْ شَاءَ فَلْيَتَقَدَّمْ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَتَأَخَّرْ "
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ نے سنتیں بنائیں، بندوں نے بدعتیں گھڑ لیں، پس بدعت کو بدعت والوں پر چھوڑو اور سنت پر چلو۔“
حدیث نمبر: 2844
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: «هِيَ وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق ہے اور شوہر واپسی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2845
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْظَبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ فِي طَلَاقِ الْبَتَّةِ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ، وَاحِدَةٌ تَبُتُّ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”طلاق البتہ میں بیوی کو روکے رکھو، یہ ایک طلاق ہے جو مکمل کرتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2846
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہی بات فرمائی۔
حدیث نمبر: 2847
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ «جَعَلَ الْبَتَّةَ وَاحِدَةً، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”البتہ کو ایک طلاق شمار کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2848
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «الْبَتَّةُ وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”البتہ ایک طلاق ہے اور شوہر واپسی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2849
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: نا ابْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنُّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «مَا أَرَدْتَ» ؟ قَالَ: وَاحِدَةً. قَالَ: «اللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً» ؟ قَالَ: " اللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً. قَالَ: «هِيَ وَاحِدَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا صرف ایک طلاق کا ارادہ تھا؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! صرف ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ ایک ہی طلاق ہے۔“
حدیث نمبر: 2850
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: سُئِلَ الزُّهْرِيُّ عَنِ الْبَتَّةِ، قَالَ: «الْبَتَّةُ عِنْدَنَا أَبَتُّ الطَّلَاقِ»
مظاہر امیر خان
حضرت زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”البتہ ہمارے نزدیک طلاق کو مکمل کرنے والی ہے۔“
حدیث نمبر: 2851
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، سَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَقَالَ: كَانَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَجْعَلُهَا وَاحِدَةً، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: «لَوْ أَنَّ الطَّلَاقَ كَانَ يَكُونُ أَلْفَ تَطْلِيقَةٍ، لَبَلَغَهَا إِذَا قَالَ الْبَتَّةَ»
مظاہر امیر خان
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر طلاق الفاظ سے ہزار بار بھی دی جائے اور کہا جائے البتہ، تو پوری ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 2852
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَتَّابٌ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «الْبَتَّةُ ثَلَاثٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”البتہ تین طلاقوں کے برابر ہے۔“
حدیث نمبر: 2853
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ، فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ، قَالَ: «هِيَ وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب کوئی کہے: تو طلاق البتہ ہے، تو یہ ایک طلاق ہے اور شوہر اس کی واپسی کا زیادہ حق دار ہے۔“
حدیث نمبر: 2854
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ، قَالَ: «نِيَّتُهُ مَرَّةً، أَوْ ثِنْتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی کہے: تو طلاق البتہ ہے، تو اس کی نیت دیکھی جائے گی کہ ایک یا دو یا تین کا ارادہ ہے۔“
حدیث نمبر: 2855
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ مِنِّي بَرِيَّةٌ، قَالَ: «نِيَّتُهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی کہے: تو مجھ سے بری ہے، تو اس کی نیت پر مدار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2856
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ، وَالْبَتَّةِ، وَالْخَلِيَّةِ، وَالْبَرِيَّةِ: ثَلَاثٌ، ثَلَاثٌ "
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حرام، البتہ، خلیہ اور بریہ، یہ سب تین تین طلاقیں ہیں۔“
حدیث نمبر: 2857
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ فِي " الْخَلِيَّةِ، وَالْبَرِيَّةِ، وَالْبَتَّةِ: ثَلَاثٌ ثَلَاثٌ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”خلیہ، بریہ اور البتہ تین تین طلاقیں ہیں۔“
حدیث نمبر: 2858
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، قَالَ: أَمَّا حِفْظِي عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْخَلِيَّةِ: ثَلَاثٌ. وَزَعَمَ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ الْحَسَنَ قَالَ: «هِيَ وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”خلیہ تین طلاقیں ہیں۔“ اور حفص بن سلیمان کے بقول حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق ہے اور شوہر واپسی کا زیادہ حق دار ہے۔“
حدیث نمبر: 2859
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو حُرَّةَ، وَأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ فِي " الْخَلِيَّةِ: وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا "
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”خلیہ ایک طلاق ہے اور شوہر اس کی واپسی کا زیادہ حق دار ہے۔“
حدیث نمبر: 2860
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَمُطَرِّفٌ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْحَرَامِ: هِيَ ثَلَاثٌ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا قَالَ مِمَّنْ رَوَى ذَلِكَ عَنْهُ، إِنَّمَا قَالَ: «لَا أُحَرِّمُهَا وَلَا أُحِلُّهَا، إِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَأَخَّرْ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حرام کے بارے میں کہا کہ یہ تین طلاقیں ہیں، لیکن ایسا نہیں، میں ان لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں جنہوں نے ان سے روایت کی۔ انہوں نے فرمایا: ”میں نہ اسے حرام کرتا ہوں اور نہ حلال، اگر چاہے تو آگے بڑھے اور چاہے تو پیچھے ہٹے۔“
حدیث نمبر: 2861
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ حَرَامًا. قَالَ: " فَلَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ. فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَلَيْسَ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ} [آل عمران: 93] ؟ فَضَحِكَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: مَا يُدْرِيكَ مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ؟ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ يُحَدِّثُهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ إِسْرَائِيلَ عَرَضَتْ لَهُ الْأَنْسَاءُ فَأَضْنَتْهُ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ إِنْ شَفَاهُ أَنْ لَا يَأْكُلَ عِرْقًا، فَلِذَلِكَ الْيَهُودُ يَنْزِعُ الْعُرُوقَ مِنَ اللَّحْمِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ تم پر حرام نہیں۔“ اعرابی نے کہا: کیا اللہ نے قرآن میں نہیں فرمایا: «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ»؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہنسے اور فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم اسرائیل نے اپنے اوپر کیا حرام کیا تھا۔“ پھر لوگوں سے فرمایا: اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کو عرق النساء کی بیماری ہوئی تھی تو انہوں نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے انہیں شفا دی تو وہ کسی نس ندی کا گوشت نہ کھائیں گے۔ اس لیے یہودی گوشت سے نسیں نکالتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي رَجُلٍ حَرَّمَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، قَالَ: «لَيْسَ بِشَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کیا تو یہ کوئی چیز نہیں۔“
حدیث نمبر: 2863
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ قَالَ: الْحِلُّ عَلَيْهِ حَرَامٌ، قَالَ: «عَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ مَا لَمْ يَنْوِ امْرَأَتَهُ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو کہے: حلال مجھ پر حرام ہے، تو اس پر کفارہ قسم لازم ہو گا، جب تک بیوی کی نیت نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2864
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي رَجُلٍ جَعَلَ كُلَّ حَلَالٍ عَلَيْهِ حَرَامًا، قَالَ: «هِيَ يَمِينٌ، إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ امْرَأَتَهُ» .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو ہر حلال کو اپنے اوپر حرام کرے تو یہ قسم ہے، الا یہ کہ بیوی کی نیت کرے۔“
حدیث نمبر: 2865
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہی حکم ہے۔“
حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: كُلُّ حَلَالٍ عَلَيْهِ حَرَامٌ، فَهِيَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا "
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو کہے: ہر حلال مجھ پر حرام ہے، تو یہ قسم ہے، جس کا کفارہ لازم ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2867
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، قَالَ: ذَبَحْتُ بَقَرَةً فِي الْحَيِّ، فَقَالَ رَجُلٌ: الْحِلُّ عَلَيْهِ حَرَامٌ إِنْ أَكَلَ مِنْهَا، فَسُئِلَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ: «لَوْلَا امْرَأَتُهُ لَأَمَرْتُهُ أَنْ يَأْكُلَ»
مظاہر امیر خان
عبید مکاتب رحمہ اللہ نے کہا: میں نے محلے میں گائے ذبح کی۔ ایک شخص نے کہا: اگر میں اس کا گوشت کھاؤں تو حرام ہو۔ ابراہیم رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”اگر بیوی کا تعلق نہ ہوتا تو میں اسے گوشت کھانے کا حکم دیتا۔“
حدیث نمبر: 2868
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، قَالَ: سُئِلَ إِبْرَاهِيمُ، قَالَ: «لَوْلَا امْرَأَتُكَ لَأَمَرْتُكَ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا»
مظاہر امیر خان
عبید مکاتب رحمہ اللہ نے کہا: ابراہیم رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو فرمایا: ”اگر تمہاری بیوی نہ ہوتی تو میں تمہیں اس گوشت کے کھانے کا حکم دیتا۔“
حدیث نمبر: 2869
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِنْ نَوَى طَلَاقًا، وَإِلَّا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر طلاق کی نیت کرے تو طلاق واقع ہو گی، ورنہ کچھ نہیں۔“
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا قُرَيْرٌ (1)، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ الْفَارِقِيِّ الْحِزَامِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِيمَنْ قَالَ: الْحِلُّ عَلَيْهِ حَرَامٌ: « يَمِينٌ مِنَ الْأَيْمَانِ يُكَفِّرُهَا » .
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو کہے: حلال مجھ پر حرام ہے، تو یہ قسم ہے اور اس کا کفارہ دینا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2871
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ فِي الْحَرَامِ: «يَمِينٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حرام کہنے پر قسم لازم آتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2872
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي الَّذِي يُحَرِّمُ امْرَأَتَهُ، قَالَ: «هِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو اپنی بیوی کو حرام کرے، اس پر تین طلاقیں واقع ہو گی۔“
حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ، قَالُوا فِي الْحَرَامِ: «يَمِينٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”حرام کہنا قسم ہے۔“
حدیث نمبر: 2874
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «إِذَا أَحَلْتَ الْحَدِيثَ عَلَى غَيْرِكَ اكْتَفَيْتَ»
مظاہر امیر خان
یسیر بن عمرو رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کسی بات کو دوسرے پر ڈال دو تو تم بری ہو۔“
حدیث نمبر: 2875
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا بَعْضُ، أَصْحَابِنَا، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ: «هِيَ ثَلَاثٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حرام پر تین طلاقیں واقع ہو گی۔“
حدیث نمبر: 2876
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ: «إِنْ نَوَى طَلَاقًا فَهِيَ طَالِقٌ، وَإِنْ نَوَى يَمِينًا فَهِيَ يَمِينٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر نیت طلاق کی ہو تو طلاق، اور اگر نیت قسم کی ہو تو قسم۔“
حدیث نمبر: 2877
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ، فَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ، وَإِنْ نَوَى وَاحِدَةً فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ شَيْئًا فَيَمِينٌ يُكَفِّرُهَا "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو اپنی بیوی سے کہے: تو مجھ پر حرام ہے، تو اگر نیت تین طلاقوں کی ہو تو تین، اگر ایک کی ہو تو ایک بائنہ، اور اگر کوئی نیت نہ کرے تو قسم اور اس کا کفارہ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2878
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " أَدْنَى مَا كَانُوا يَقُولُونَ فِي الْحَرَامِ: تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کم از کم جو وہ حرام کہنے پر کہتے تھے وہ یہ تھا کہ ایک طلاق بائنہ ہو۔“
حدیث نمبر: 2879
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْحَرَامِ: «يَمِينٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حرام کہنا قسم ہے۔“
حدیث نمبر: 2880
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ مَسْرُوقٌ: «مَا أُبَالِي أَحَرُمَتِ امْرَأَتِي عَلَيَّ، أَوْ حَرُمَتْ جَفْنَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے نقل کیا کہ مسروق رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میری بیوی مجھ پر حرام ہو یا شوربے کی رکابی حرام ہو۔“
حدیث نمبر: 2881
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَنِصْفًا، قَالَ: «هُمَا تَطْلِيقَتَانِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس شخص نے بیوی سے کہا کہ تمہیں ایک اور آدھی طلاق دیتا ہوں، تو یہ دو طلاقیں شمار ہو گی۔“
…