حدیث نمبر: 2831
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَثَلَاثٌ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو تین طلاقیں، اور اگر شوہر کو اختیار کیا تو یک طلاق اور شوہر زیادہ حق دار۔“
حدیث نمبر: 2832
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «أَمْرُكِ بِيَدِكِ، وَاخْتَارِي هُمَا سَوَاءٌ، إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”«امرك بيدك» (تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے) اور «اختاري» (اختیار کر) دونوں برابر ہیں، اگر عورت نے نفس کو اختیار کیا تو ایک طلاق اور شوہر زیادہ حق دار، اور اگر شوہر کو اختیار کیا تو کچھ نہیں۔“
حدیث نمبر: 2833
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔
حدیث نمبر: 2834
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا جَعَلَ الْأَمْرَ بِيَدِهَا، فَهُوَ بِيَدِهَا، فَمَا قَضَتْ فَهُوَ جَائِزٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب مرد نے معاملہ عورت کے ہاتھ میں دیا تو وہ اس کے ہاتھ میں ہو گیا، اور جو فیصلہ وہ کرے جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 2835
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَقَدْ بَانَتْ بِثَلَاثٍ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا تو وہ تین طلاقوں کے ساتھ جدا ہو گئی۔“
حدیث نمبر: 2836
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمُخَيَّرَةِ، قَالَ: «إِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابوجعفر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مخیرہ (اختیار دی جانے والی عورت) کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”اگر عورت شوہر کو اختیار کرے تو کچھ نہیں۔“
حدیث نمبر: 2837
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهِ، وَهُوَ لَا يُنْكِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا، فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ فَقَالَتْ: لَوْ أَنَّ الَّذِي بِيَدِكَ مِنْ أَمْرِي بِيَدِي لَعَلِمْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَنَعَمْ، فَنَعَمْ، فَارْتَفَعُوا إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَأَخْبَرُوهُ بِقِصَّتِهِمْ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: ذَاكَ بِكَ، ذَاكَ بِكَ "
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک مرد اپنے اہل کے پاس گیا اور کوئی برائی نہ دیکھی، تو اس کی بیوی نے کہا: ”اگر معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں جانتی کہ کیا کرتی۔“ مرد نے کہا: ”ہاں۔“ پھر وہ لوگ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو آپ نے فرمایا: ”یہ معاملہ تیرے ساتھ ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 2838
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو وَكِيعٍ، عَنِ الْهَزْهَازِ بْنِ مَيْزَنٍ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ فَرَسٍ خَيَّرَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ تَخْتَارُهُ، فَرُفِعَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا» . قَالَ سَعِيدٌ: فَرَسٌ جَدُّ وَكِيعٍ
مظاہر امیر خان
روایت ہے کہ عدی بن فراس نے اپنی بیوی کو تین بار اختیار دیا، اور ہر مرتبہ وہی اختیار کرتی رہی۔ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے دونوں میں جدائی کر دی۔
حدیث نمبر: 2839
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْحَجَّاجُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ ابْنَ أَبِي عَتِيقٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا، فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا طَلَاقًا كَثِيرًا، فَسَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ: «هِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق ہے اور شوہر اس کی واپسی کا زیادہ حق دار ہے۔“
حدیث نمبر: 2840
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا زَوَّجَتْ بِنْتًا لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ يُقَالُ لَهَا: قُرَيْبَةُ فَزَوَّجَتْهَا مِنَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ غَيْبَتِهِ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: «أَمْثِلِي يُفْتَاتُ عَلَيْهِ فِي بَنَاتِهِ؟» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَعَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ تَرْغَبُ؟ لَنَجْعَلَنَّ أَمْرَهَا بِيَدِهِ، فَجَعَلَ الْمُنْذِرُ أَمْرَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ فَلَمْ يَقُلْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، وَلَمْ يَرَوْا ذَلِكَ شَيْئًا "
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے قریبہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر کا نکاح منذر بن زبیر سے کیا، جب عبدالرحمن واپس آئے تو برا منایا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تم منذر سے ناراض ہو؟ ہم اس کا معاملہ اس کے سپرد کر دیتے ہیں، پھر معاملہ منذر کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔
حدیث نمبر: 2841
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: سُئِلَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَمُرِكِ بِيَدِكِ، فَقَالَتْ: قَدْ حُرِّمْتُ عَلَيْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: «هِيَ تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ»
مظاہر امیر خان
قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مرد بیوی کو اختیار دے اور وہ کہے کہ میں تجھ پر تین بار حرام ہوں، تو ایک طلاق واقع ہو گی۔