حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ أَمْرَ امْرَأَتِي بِيَدِهَا، فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ: مَا تَرَى؟ قَالَ: " أَرَاهَا وَاحِدَةً، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، قَالَ عُمَرُ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ "
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”میں نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا، تو اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں۔“ عمر نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تمہاری کیا رائے ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں ایک طلاق سمجھتا ہوں اور شوہر اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ عمر نے فرمایا: ”میری بھی یہی رائے ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ فَتُطَلِّقُ نَفْسَهَا ثَلَاثًا قَالَ: «إِنَّ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَى أَنَّهَا وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مرد بیوی سے کہے کہ معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے تو سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں کا اتفاق تھا کہ یہ ایک طلاق ہے اور شوہر اس کا زیادہ حق دار ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ رَجُلًا جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا؟ قَالَ: «فَأَمْرُهَا بِيَدِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: ”اے امیرالمومنین! ایک شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔“ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو معاملہ اب اس کے ہاتھ میں ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ فِي " أَمْرُكِ بِيَدِكِ: الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «امرك بيدك» (تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے) کا فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کر لیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا، فَرَدَّتْ إِلَيْهِ الْأَمْرَ قَالَ: «لَيْسَ بِشَيْءٍ، الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو معاملہ سونپا اور بیوی نے معاملہ مرد کی طرف لوٹا دیا تو فرمایا: ”یہ کچھ نہیں، فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ "
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے تھے: ”فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ فرماتے تھے: ”فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا وَاحِدَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ، أَوِ اثْنَتَيْنِ فَثِنْتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ، إِلَّا أَنْ يُنَاكِرَهَا وَيَقُولُ: لَمْ أَجْعَلِ الْأَمْرَ إِلَيْكِ إِلَّا فِي وَاحِدَةٍ فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ، وَإِنْ رَدَّتِ الْأَمْرَ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَكَانَ يَقُولُ: الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کو اختیار دے دے اور وہ ایک طلاق دے تو ایک ہی طلاق ہو گی، دو دے تو دو اور تین دے تو تین، الا یہ کہ مرد انکار کرے اور کہے کہ میں نے صرف ایک طلاق کا اختیار دیا تھا، تو پھر قسم اٹھائے، اور اگر عورت معاملہ لوٹا دے تو کچھ نہیں۔“ اور وہ فرماتے تھے: ”فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: «إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلَاثًا فَهِيَ وَاحِدَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”جب مرد اپنی بیوی کو اختیار دے اور بیوی تین طلاقیں دے دے تو یہ ایک ہی طلاق شمار ہو گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلَمْ تَقُلْ شَيْئًا حَتَّى يَفْتَرِقَا قَالَ: «سُكُوتُهَا رِضًى بِزَوْجِهَا، لَيْسَ لَهَا أَنْ تَخْتَارَ كُلَّمَا شَاءَتْ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فرمایا: ”اگر مرد بیوی کو اختیار دے اور بیوی خاموش رہے یہاں تک کہ دونوں جدا ہو جائیں تو اس کا سکوت اس کے شوہر پر رضامندی ہے، اب ہر وقت اختیار نہیں رکھے گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا أَبُو إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمَا قَالَا مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ دونوں نے بھی یہی فرمایا۔
نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ، فَهُوَ مَا قَالَتْ فِي مَجْلِسِهَا، فَإِنْ تَفَرَّقَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، لَيْسَ لَهُ أَنْ يَمْشِيَ فِي السُّوقِ وَطَلَاقُ امْرَأَتِهِ بِيَدِ غَيْرِهِ "
مظاہر امیر خان
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد بیوی سے کہے کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے تو جو وہ اسی مجلس میں کہے گی وہ نافذ ہو گا، اگر دونوں جدا ہو جائیں تو اب کچھ نہیں، مرد بازار میں گھومتے ہوئے اپنی بیوی کے اختیار میں نہیں رہ سکتا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ فِي: أَمْرُكِ بِيَدِكِ: «إِذَا قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”جب عورت مجلس سے اٹھ جائے تو اب اسے کوئی اختیار نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْأَشْعَثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «إِذَا قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا قَبْلَ أَنْ تَخْتَارَ فَلَا خِيَارَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”جب عورت مجلس سے اٹھ جائے قبل اس کے کہ وہ کوئی اختیار کرے تو اب اس کا کوئی اختیار نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فرمایا: ”جب مرد بیوی کو اختیار دے اور بیوی شوہر کو اختیار کرے تو کچھ نہیں، لیکن اگر اپنے آپ کو اختیار کرے تو ایک طلاق واقع ہو گی اور شوہر اس کا زیادہ حق دار ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: «إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَأَرْجَأَتْ ذَلِكَ فَلَا شَيْءَ لَهَا» .
مظاہر امیر خان
حضرت مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فرمایا: ”اگر مرد بیوی کو اختیار دے اور عورت اس اختیار کو مؤخر کر دے تو اب اس کا کوئی اختیار نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا كَتَبَ إِلَى امْرَأَتِهِ يُخَيِّرُهَا فَوَضَعَتِ الْكِتَابَ تَحْتَ الْفِرَاشِ فَلَمْ تَقُلْ شَيْئًا قَالَ: «فَلَا خِيَارَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو خط لکھ کر اختیار دیا، بیوی نے خط کو تکیہ کے نیچے رکھ دیا اور کچھ نہ کہا، تو فرمایا: ”اب اس کا کوئی اختیار نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَاخْتَارَتْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَهِيَ ثَلَاثٌ، وَإِذَا خَيَّرَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَارَتْ ثَلَاثًا فَوَاحِدَةٌ» .
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کو تین مرتبہ اختیار دے اور بیوی ایک مرتبہ اختیار کرے تو تین طلاقیں ہو جائیں گی، اور اگر ایک مرتبہ اختیار دے اور وہ تین کہے تو صرف ایک طلاق ہو گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح فرمایا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَعَامِرٍ، قَالَا فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: اخْتَارِي، اخْتَارِي، اخْتَارِي، فَاخْتَارَتْ مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَا: هِيَ ثَلَاثٌ وَإِنْ قَالَ لَهَا: اخْتَارِي فَاخْتَارَتْ ثَلَاثًا فَهِيَ وَاحِدَةٌ "
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد بیوی سے تین مرتبہ کہے: اختیار کر، اختیار کر، اختیار کر، اور بیوی ایک مرتبہ اختیار کرے تو تین طلاقیں ہو جائیں گی، اور اگر ایک مرتبہ کہے اور بیوی تین مرتبہ طلاق دے تو ایک طلاق ہو گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِ غَيْرِهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَهِيَ وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کا معاملہ کسی اور کے سپرد کرے اور وہ اسے تین طلاق دے تو یہ ایک طلاق ہو گی اور شوہر رجوع کا زیادہ حق دار ہو گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِ غَيْرِهَا فَالْقَضَاءُ مَا قَضَى، فَإِنْ رَدَّهَا فَوَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کا معاملہ کسی اور کے سپرد کرے تو فیصلہ وہی ہے جو وہ کرے، اگر وہ بیوی کو لوٹا دے تو ایک طلاق ہو گی اور شوہر زیادہ حق دار ہو گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَامَ الرَّجُلُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، فَلَا أَمْرَ لَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کا معاملہ کسی مرد کے سپرد کرے اور وہ مرد فیصلہ کرنے سے پہلے اٹھ جائے تو اب اس کا کوئی اختیار نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِ رَجُلَيْنِ فَطَلَّقَ أَحَدُهُمَا قَالَ: «لَا، حَتَّى يَجْتَمِعَا جَمِيعًا» .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کا معاملہ دو مردوں کے سپرد کرے اور ان میں سے ایک طلاق دے تو یہ نہیں ہو گا جب تک دونوں مل کر فیصلہ نہ کریں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبِيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ الَّذِيَ بِيَدِكَ مِنْ أَمْرِي بِيَدِي لَفَارَقْتُكَ قَالَ لَهَا: فَأَمْرُكِ بِيَدِكِ قَالَتْ: أَنْتَ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: «تَعْمِدُونَ إِلَى أَمْرٍ جَعَلَهُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ فُتَجْعَلُونَهُ بِأَيْدِيهِنَّ»، ثُمَّ قَالَ: «وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا»
مظاہر امیر خان
روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا: اگر تیرا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں تجھ سے جدا ہو جاتی۔ شوہر نے کہا: تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ عورت نے کہا: توں تین طلاق۔ یہ معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، آپ نے غصہ فرمایا اور کہا: ”تم لوگ اللہ کے دیے ہوئے اختیار کو عورتوں کے ہاتھوں میں دے دیتے ہو۔“ پھر فرمایا: ”ایک طلاق اور شوہر کو رجوع کا حق ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، قَالَ: نا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ الَّذِيَ بِيَدِكَ بِيَدِي لَعَلِمْتُ مَا أَصْنَعُ قَالَ: فَإِنَّ مَا بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ فَقَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا، فَأَتَوَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَعَلَ اللَّهُ بِالرِّجَالِ عَمَدُوا إِلَى شَيْءٍ جَعَلَهُ اللَّهُ فِي أَيْدِيهِمْ فَوَلَّوْهُ غَيْرَهُمْ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَسَأَسْأَلُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " فِي فِيهَا التُّرَابُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: «مَا قُلْتَ فِيهَا؟» قَالَ: قُلْتُ: وَاحِدَةٌ قَالَ: «ذَاكَ رَأْيُكَ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كَذَلِكَ رَأْيِي، وَلَوْ رَأَيْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَمْ تُصِبْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بھی اسی طرح کا واقعہ آیا۔ آپ نے فرمایا: ”افسوس مردوں پر کہ اللہ نے ان کے ہاتھ میں اختیار دیا تھا، انہوں نے دوسروں کو دے دیا۔ یہ ایک طلاق ہے۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی یہی رائے دی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «خَطَّأَ اللَّهُ نَوْءَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ عورت کی نیت کو خطا دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَقَالَتْ، أَنْتَ الطَّلَاقُ أَنْتَ الطَّلَاقُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «خَطَّأَ اللَّهُ نَوْءَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: جب عورت نے شوہر کے اختیار کو حاصل کر کے کہا: ”تو طلاق، تو طلاق۔“ تو فرمایا: ”اللہ اس کی نیت کو خطا دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَهُ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: «هُمَا سَوَاءٌ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول ذکر کیا گیا تو فرمایا: ”دونوں برابر ہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الْخِيَارَ فَقَالَتْ: قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يُعَدَّ ذَلِكَ طَلَاقًا "
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا، تو ہم نے آپ کو اختیار کیا اور اس کو طلاق شمار نہیں کیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّهَا طَلَاقًا»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا، ہم نے آپ کو اختیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو طلاق نہیں شمار کیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّهَا عَلَيْنَا شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا، تو ہم نے آپ کو اختیار کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہم پر کوئی چیز شمار نہیں کیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَكُنْ طَلَاقًا»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا، تو ہم نے آپ کو اختیار کیا، اور یہ طلاق نہ تھی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ عَنِ الْخِيَارِ، فَقُلْتُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَاحِدَةٌ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ» . قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «إِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَواحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقٌّ بِهَا، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ»، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَثَلَاثٌ " فَقَالَ: اقْضِ فِيهَا بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: عبدالحمید نے مجھ سے اختیار کے بارے میں پوچھا، میں نے کہا: ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو ایک طلاق بائن ہو گی، اور اگر شوہر کو اختیار کیا تو کچھ نہیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر عورت شوہر کو اختیار کرے تو ایک طلاق اور شوہر زیادہ حق دار، اور اگر نفس کو اختیار کرے تو ایک طلاق بائنہ۔“ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر نفس کو اختیار کرے تو تین طلاقیں۔“ تو کہا: ”اس میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول پر فیصلہ کرو۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالَا فِي الرَّجُلِ إِذَا خَيَّرَ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو ایک طلاق اور شوہر زیادہ حق دار، اور اگر شوہر کو اختیار کیا تو کچھ نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَأنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو ایک طلاق بائنہ، اور اگر شوہر کو اختیار کیا تو ایک طلاق اور شوہر زیادہ حق دار۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَثَلَاثٌ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو تین طلاقیں، اور اگر شوہر کو اختیار کیا تو ایک طلاق۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے۔
…