کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی سے کہے: میں نے تمہیں تمہارے گھر والوں کو ہبہ (سپرد) کر دیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو حُرَّةَ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِذَا وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا، فَقَبِلُوهَا فَهِيَ ثَلَاثٌ، وَإِنْ رَدُّوهَا فَوَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مرد نے بیوی کو اس کے گھر والوں کو دے دیا اور انہوں نے قبول کر لیا تو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور اگر انہوں نے واپس کر دیا تو ایک طلاق ہو گی اور وہ مرد اس کا زیادہ حق دار ہو گا۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنْ قَبِلُوهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ، وَإِنْ رَدُّوهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر گھر والے قبول کریں تو ایک طلاق بائنہ ہے اور اگر واپس کریں تو ایک طلاق رجعی ہو گی اور شوہر اس کا زیادہ حق دار ہو گا۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنْ قَبِلُوهَا فَوَاحِدَةٌ، وَإِنْ لَمْ يَقْبَلُوهَا فَلَا شَيْءَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر بیوی کو گھر والے قبول کر لیں تو ایک طلاق ہو گی اور اگر قبول نہ کریں تو کچھ نہیں ہو گا۔
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " كَانَ يُقَالُ فِي الْمَوْهُوبَةِ لِأَهْلِهَا: تَطْلِيقَةٌ " قَالَ مَنْصُورٌ: بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنْ قَبِلُوهَا فَوَاحِدَةٌ، وَإِنْ لَمْ يَقْبَلُوهَا فَلَا شَيْءَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوی کو گھر والوں کے حوالے کرنے پر ایک طلاق واقع ہوتی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر قبول کریں تو ایک طلاق، اور اگر قبول نہ کریں تو کچھ نہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: «إِنْ قَبِلُوهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ، وَهُوَ أَمْلَكُ بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَقْبَلُوهَا، فَلَا شَيْءَ» .
مظاہر امیر خان
حضرت مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر گھر والے قبول کر لیں تو ایک طلاق واقع ہو گی اور شوہر اس کا زیادہ حق دار ہو گا، اور اگر قبول نہ کریں تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے اسی طرح منقول ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: قَدْ وَهَبْتُكِ لِأَهْلِكِ قَالَ: " كَانُوا يَقُولُونَ: هِيَ تَطْلِيقَةٌ، وَلَا يَدْرِي أَبَائِنَةٌ أَمْ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب مرد بیوی سے کہے: ”میں نے تمہیں تمہارے گھر والوں کے لیے بخش دیا۔“ تو وہ کہا کرتے تھے: یہ ایک طلاق ہے، لیکن معلوم نہیں کہ یہ بائنہ ہے یا رجعی۔