کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: گھریلو سامان کے بارے میں اگر میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے، تو اس بارے میں کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2672
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، أَوْ مَاتَ عَنْهَا وَقَدْ أَحْدَثَتْ فِي بَيْتِهِ أَشْيَاءَ قَالَ الْحَسَنُ: «لَهَا مَا أَغْلَقَتْ عَلَيْهِ بَابَهَا إِلَّا سِلَاحَ الرَّجُلِ وَمُصْحَفَهُ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس عورت نے شوہر کی وفات یا طلاق کے بعد گھر میں کوئی چیز پیدا کی ہو تو اس کا وہی سامان ہے جس پر اس نے دروازہ بند کر دیا ہو، سوائے شوہر کے ہتھیار اور مصحف کے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2672
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع اثر صحيح السند
تخریج حدیث «مقطوع اثر صحيح السند، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 2673
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا كَانَ مِنْ صَدَاقٍ فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ مِنْ غَيْرِ الصَّدَاقِ فَهُوَ مِيرَاثٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو چیز مہر سے ہو وہ عورت کی ہے اور جو مہر سے نہ ہو وہ ورثہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2673
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع اثر صحيح السند
تخریج حدیث «مقطوع اثر صحيح السند، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 2674
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «مَا كَانَ لِلرَّجُلِ مِمَّا لَا يَكُونُ لِلنِّسَاءِ مِثْلُهُ فَهُوَ لِلرَّجُلِ، وَمَا كَانَ مِمَّا يَكُونُ لِلنِّسَاءِ مِمَّا لَا يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِثْلُهُ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ، وَإِنْ كَانَ مِمَّا يَكُونُ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مِثْلُهُ فَهُوَ لِلْبَاقِي مِنْهُمَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے کہا کہ جو چیز مردوں کے ساتھ خاص ہو وہ مرد کی ہے، جو عورتوں کے ساتھ خاص ہو وہ عورت کی ہے، اور جو چیز دونوں کے ساتھ مشترک ہو وہ جو بچ جائے اس کا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2674
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع اثر صحيح السند
تخریج حدیث «مقطوع اثر صحيح السند، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 2675
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو نُوحٍ الْمَدَنِيُّ، مِنْ آلِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ، رَجُلٌ قَدْ سَمَّاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَتَاعُ النِّسَاءِ لِلنِّسَاءِ، وَمَتَاعُ الرِّجَالِ لِلرِّجَالِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کا سامان عورتوں کے لیے اور مردوں کا سامان مردوں کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2675
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1497، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 21352»
سوید بن عبد العزيز الدمشقي ضعيف، أبو نوح المدني مجہول الحال
حدیث نمبر: 2676
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ: «مَا كَانَ مِنْ مَتَاعٍ يَكُونُ لِلنِّسَاءِ وَالرِّجَالِ فَهُوَ بَيْنَهُمَا»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن شبرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عورتوں اور مردوں دونوں کا مشترکہ سامان دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2676
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1498، 1500»
سوید بن عبد العزيز الدمشقي ضعيف
حدیث نمبر: 2677
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَمَا كَانَ مِنْ مَتَاعٍ يَكُونُ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، فَهُوَ لِلرَّجُلِ حَيٌّ كَانَ أَوْ مَيِّتٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو سامان مردوں اور عورتوں دونوں کا ہوتا ہے وہ زندہ ہو یا مردہ مرد کا ہوگا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2677
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1499، 1500»
سوید بن عبد العزيز الدمشقي ضعيف
حدیث نمبر: 2678
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: «مَا كَانَ لِلرِّجَالِ فَهُوَ لِلرِّجَالِ، وَمَا كَانَ لِلنِّسَاءِ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ وَمَا كَانَ مِمَّا يَكُونُ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَهُوَ لِلرِّجَالِ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن شبرمہ اور حضرت ابن ابی لیلیٰ رحمہما اللہ نے فرمایا کہ جو سامان مردوں کا ہو وہ مردوں کے لیے، جو عورتوں کا ہو وہ عورتوں کے لیے، اور جو مشترکہ ہو وہ مردوں کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2678
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1498، 1500»
هُشَيْم بن بشير – ثقہ، مدلس، لیکن یہاں "عن ابن شبرمة وابن أبي ليلى" کے ساتھ عن عنعہ ہے، بن أبي ليلى (محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى) – صدوق، لیکن کثیر الخطأ
حدیث نمبر: 2679
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ الْحَكَمَ، وَابْنَ أَشْوَعَ قَالَا: «مَا كَانَ لِلرِّجَالِ فَهُوَ لِلرِّجَالِ، وَمَا كَانَ لِلنِّسَاءِ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ، وَمَا كَانَ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ» . قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
حضرت حکم اور حضرت ابن اشوع رحمہما اللہ نے فرمایا کہ جو چیز مردوں کے لیے ہو وہ مردوں کے لیے، جو عورتوں کے لیے ہو وہ عورتوں کے لیے، اور جو دونوں کے لیے ہو وہ بھی عورتوں کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2679
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع إسناده ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 2680
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ ابْنَ ذَكْوَانَ الْمَدِينِيَّ، وَعُثْمَانَ الْبَتِّيَّ، يَقُولَانِ: «مَا كَانَ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَهُوَ بَيْنَهُمَا»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن ذکوان مدنی اور حضرت عثمان بطی رحمہما اللہ نے فرمایا کہ جو چیز مردوں اور عورتوں دونوں کی ہو وہ ان کے درمیان مشترک ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2680
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع إسناده ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 2681
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: «إِذَا دَخَلْتِ الْمَرْأَةُ عَلَى زَوْجِهَا بِمَتَاعٍ أَوْ حُلِيٍّ ثُمَّ مَاتَتْ فَهُوَ مِيرَاثٌ، وَإِنْ أَقَامَ أَهْلُهَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ كَانَ عَارِيَةً عِنْدَهَا، إِلَّا أَنْ يُعْلِمُوا ذَلِكَ زَوْجَهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر عورت اپنے شوہر کے پاس سامان یا زیور لائے اور مر جائے تو وہ وراثت ہے، جب تک اہل عورت یہ ثابت نہ کریں کہ یہ عاریتاً تھا، مگر شرط یہ ہے کہ شوہر کو اطلاع دی ہو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2681
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع إسناده صحيح
تخریج حدیث «مقطوع إسناده صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 2682
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، " أَنَّ امْرَأَةً، زَوَّجَتْ بَنْتَهَا، فَلَمَّا أَنْ أَرَادَتْ، أَنْ تُهْدِيَهَا، إِلَى زَوْجِهَا جَمَعَتْ حُلِيًّا لَهَا، وَأَشْهَدَتْ أَنَّ الْحُلِيَّ حُلِيُّهَا، فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فَكَتَبَ عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنَّ إِحْدَاهُنَّ تُخْبِرُ أَنَّ لِابْنَتِهَا الْمَالَ فَتُزَوِّجُهَا عَلَى ذَلِكَ، فَأَيُّمَا امْرَأَةٍ حَمَلَتْ مِنْ بَيْتِ أَهْلِهَا مَتَاعًا كَانَ مَعَهَا حَتَّى تَهْلِكَ فَهُوَ لَهَا ". وَكَانَ الشَّعْبِيُّ يَرَى ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک عورت نے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اور زیور تیار کر کے بیٹی کے لیے گواہی دی کہ یہ بیٹی کی ملکیت ہے، حجاج نے عبدالملک بن مروان کو لکھا، انہوں نے جواب دیا کہ جو عورت اپنی بیٹی کو گھر سے سامان دے تو وہ بیٹی کا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2682
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع إسناده صحيح
تخریج حدیث «مقطوع إسناده صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 2683
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو وَهْبٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، «رَخَّصَ لِلْمَرْأَةَ فِي غَيْرِ الرَّأْسِ وَالرَّأْسَيْنِ فِي غَيْرِ أَمْرِ الزَّوْجِ»
مظاہر امیر خان
حضرت مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عورت کو ایک یا دو بالوں میں غیر شوہر کی اجازت سے تخفیف کی اجازت دی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2683
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع إسناده ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»