کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: ایلاء (بیوی سے جماع نہ کرنے کی قسم کھانا) کے بارے میں وارد احادیث
حدیث نمبر: 2635
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، أَوِ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ فَتَزَوَّجَهَا فِي عِدَّتِهَا فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَقُولُ: " لَهَا الصَّدَاقُ تَامًّا وَيَسْتَقْبِلُ الْعِدَّةَ، وَكَانَ الْحَسَنُ وَعَامِرٌ يَقُولَانِ: لَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ وَتُكْمِلُ مَا بَقِيَ مِنْ عِدَّتِهَا، فَقُلْتُ لِمَنْصُورٍ: أَيُّ الْقَوْلَيْنِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: قَوْلُ الْحَسَنِ وَعَامِرٍ "
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا، چار ماہ گزر گئے یا اس سے خلع کر لیا، پھر عدت میں اس سے نکاح کر لیا، لیکن خلوت سے پہلے طلاق دے دی، ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کے لیے مکمل مہر ہے اور عدت از سر نو ہو گی۔ حسن بصری اور عامر رحمہما اللہ فرماتے تھے: آدھا مہر ملے گا اور باقی عدت مکمل کرے گی۔ منصور سے پوچھا گیا: کون سا قول پسند ہے؟ کہا: حسن اور عامر کا۔
حدیث نمبر: 2636
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، «فِي الْمُوَلَّى عَنْهَا وَالْمُطَلَّقَةِ إِذَا خَطَبَهَا زَوْجُهَا فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَلَهَا الْمَهْرُ كَامِلًا وَبَانَتِ الْعِدَّةُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ایلاء یا طلاق کے بعد اگر شوہر عدت میں بیوی سے نکاح کرے اور خلوت سے پہلے طلاق دے تو مکمل مہر ہے اور عدت ختم ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا تَزَوَّجَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ فِي عِدَّةٍ مِنَ الْخُلْعِ أَوْ إِيلَاءٍ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلَهَا الصَّدَاقُ تَامًّا، وَلَهَا الْعِدَّةُ تَامَّةً» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: خلع یا ایلاء کی عدت میں نکاح کر کے بغیر خلوت کے طلاق دی تو مکمل مہر اور مکمل عدت لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 2638
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَبْرَةَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے بھی یہی بات مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2639
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا حَجَّاجٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے محمد بن سالم اور حجاج کے واسطے سے بھی یہی بات مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2640
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: «لَهَا بَقِيَّةُ الصَّدَاقِ وَتُكْمِلُ مَا بَقِيَ مِنْ عِدَّتِهَا» .
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: باقی ماندہ مہر ملے گا اور عدت مکمل کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 2641
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ عَطَاءٌ
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی بات مروی ہے جیسا کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 2642
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، نا خُصَيْفٌ، عَنِ الْحَكَمِ، وَزِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَا: «إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ طَلَاقًا بَائِنًا، وَقَدْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَتَزَوَّجَهَا فِي عِدَّتِهَا مِنَ الطَّلَاقِ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا كَانَ لَهَا الْمَهْرُ كَامِلًا، وَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا فَلَهَا نِصْفُ الْمَهْرِ»
مظاہر امیر خان
حضرت حکم اور زیاد بن ابی مریم رحمہما اللہ نے فرمایا: اگر مرد نے عورت کو بائنہ طلاق دی اور عدت میں نکاح کیا پھر بغیر خلوت کے طلاق دے دی تو مکمل مہر ملے گا، اور اگر عدت کے بعد نکاح کیا تو آدھا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، قَالَ: كَانَ مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ يَقُولُ: «لَهَا نِصْفُ الْمَهْرِ تَزَوَّجَهَا فِي الْعِدَّةِ أَوْ بَعْدَ الْعِدَّةِ»
مظاہر امیر خان
حضرت میمون بن مہران رحمہ اللہ کا قول ہے: چاہے عدت میں یا عدت کے بعد نکاح کرے، عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 2644
حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: «الْمُخْتَلِعَةُ يَلْحَقُهَا الطَّلَاقُ مَا دَامَتْ فِي الْعِدَّةِ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: مختلعہ عورت پر عدت کے دوران طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ مِثْلَ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
یہی روایت حضرت علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ نے مرفوعاً نقل کی ہے کہ: جس عورت کے رحم میں مرد کا جورہ ہو، اس پر اس کا حکم جاری رہتا ہے، نہ وہ دوسروں سے نکاح کر سکتی ہے اور نہ اس سے نکاح جائز ہے، اور طلاق واقع ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2646
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ الْبَصْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كُلُّ امْرَأَةٍ مَاءُ الرَّجُلِ فِي رَحِمِهَا فَهِيَ تَعْتَدُّ مِنْهُ، وَلَا تَعْتَدُّ مِنْ غَيْرِهِ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْكِحُهَا وَلَا يَحِلُّ لَغَيْرِهِ أَنْ يَنْكِحَهَا، وَوَقَعَ عَلَيْهَا الطَّلَاقُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہر وہ عورت جس کے رحم میں مرد کا نطفہ پہنچا ہو، وہ اسی کی عدت گزارے گی، دوسرے کی نہیں۔ اور اس مرد کو اس عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی کسی اور کے لیے اس سے نکاح جائز ہے، اور اس پر طلاق واقع ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 2647
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا طَلَّقَ الْمُخْتَلِعَةَ فِي الْعِدَّةِ كَانَ عَلَيْهَا الطَّلَاقُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مختلعہ کو عدت میں طلاق دی جائے تو طلاق واقع ہو گی۔
حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا طُلِّقَتِ الْمُخْتَلِعَةُ فِي الْعِدَّةِ حُسِبَ عَلَيْهَا الطَّلَاقُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی اور ابراہیم رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ: اگر مختلعہ کو عدت میں طلاق دی جائے تو وہ طلاق شمار ہو گی۔
حدیث نمبر: 2649
حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «مَنْ طَلَّقَ فِي عِدَّةٍ جَازَ عَلَيْهَا الطَّلَاقُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص عدت میں طلاق دے، طلاق واقع ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 2650
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَعْتَدُّ مِنْ خُلْعٍ أَوْ إِيلَاءٍ وَطَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِي الْعِدَّةِ جَازَ عَلَيْهَا الطَّلَاقُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر عورت خلع یا ایلاء کی عدت میں ہو اور شوہر اسے طلاق دے تو طلاق واقع ہو گی۔
حدیث نمبر: 2651
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا حَجَّاجٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «يَلْزَمُهَا طَلَاقُهُ إِيَّاهَا مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تک عدت میں ہو، طلاق لازم ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 2652
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «يَلْزَمُهَا طَلَاقُهُ إِيَّاهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ کا قول ہے: طلاق لازم ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 2653
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ: «يَلْزَمُهَا طَلَاقُهُ إِيَّاهَا مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: جب تک عورت عدت میں ہو طلاق لازم ہو گی۔
حدیث نمبر: 2654
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ «عَنِ الطَّلَاقِ، بَعْدَ الْخُلْعِ فَلَمْ يَخْتَلِفَا أَنَّهُ لَا طَلَاقَ بَعْدَ الْخُلْعِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا گیا تو دونوں نے کہا: خلع کے بعد طلاق کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔
حدیث نمبر: 2655
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: «لَيْسَ الطَّلَاقُ بَعْدَ الْخُلْعِ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: خلع کے بعد طلاق کی کوئی حیثیت نہیں۔
حدیث نمبر: 2656
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، وَمَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا يَلْحَقُهَا طَلَاقُهُ إِيَّاهَا إِذَا كَانَتْ فِي عِدَّةٍ بَائِنَةٍ» .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر عدت بائنہ ہو تو شوہر کی طلاق لاحق نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 2657
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا کہ عدت بائنہ میں طلاق لاحق نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 2658
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نَا مَنْصُورٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هُرْمُزَ (1)، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے بھی یہی بات فرمائی۔
حدیث نمبر: 2659
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: «عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ مِثْلُ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَةِ»
مظاہر امیر خان
حضرت حسن، ابراہیم، اور شعبی رحمہم اللہ نے فرمایا: مختلعہ کی عدت مطلقہ کی عدت کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 2660
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ أَمَةٌ تَطْلِيقَتَيْنِ فَاشْتَرَاهَا قَالُوا: «لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَلَا تَحِلُّ لَهُ إِلَّا مِنَ الْبَابِ الَّذِي حُرِّمَتْ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ نے فرمایا: جو شخص اپنی باندی کو دو طلاق دے کر خریدے تو اس پر اسی دروازے سے حلت حاصل ہو گی جس سے حرمت ہوئی۔
حدیث نمبر: 2661
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، «فِي رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ اشْتَرَاهَا، أَيَقَعُ عَلَيْهَا؟ فَكَرِهَ ذَلِكَ مَسْرُوقٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص نے اپنی باندی کو دو طلاقیں دے کر دوبارہ خریدا، اس کا اس سے تعلق قائم کرنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2662
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَالْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» . وَذَكَرَ أَحَدُهُمَا عَنْ عُبَيْدَةَ عَنْ عَلِيٍّ
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: جب تک وہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے، اپنے سابقہ شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔
حدیث نمبر: 2663
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٌ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَا: «لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم نے فرمایا: جب تک دوسرا نکاح نہ کرے، سابقہ شوہر کے لیے حلال نہیں۔
حدیث نمبر: 2664
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ أَمَةً كَانَتْ لَكَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَضَرَبَ الدَّهْرُ مِنْ ضَرْبِهِ وَأَصَابَ الرَّجُلُ مَالًا، فَأَتَى كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ فَابْتَاعَ مِنْهُ الْجَارِيَةَ فَلَمَّا أَوْجَبَهَا لَهُ قَالَ: لَا تَعْجَلْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ، فَأَتَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ يَذْكُرُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: انْطَلِقْ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَاسْأَلْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى زَيْدٍ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: فَجَاءَ إِلَى زَيْدٍ وَأَنَا عِنْدَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَانْطَلَقَ كَثِيرٌ إِلَى الرَّجُلِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: اشْهَدُوا أَنَّهُ قَدْ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا وَأَصْدَقَهَا كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ كَثِيرٌ: لَا تَعْجَلْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ، فَأَتَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا، اسے طلاق دے دی، پھر خریدنے کے بعد اس سے نکاح کرنا چاہا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تک دوسرا شوہر نہ کرے، حلال نہیں ہو سکتی۔
حدیث نمبر: 2665
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، أَنَّ عَبْدًا، لِابْنِ عَبَّاسٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ: " ارْجِعْهَا فَأَبَى، فَوَهَبَهَا لَهُ وَقَالَ: اسْتَحِلَّهَا بِمِلْكِ الْيَمِينِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے واپس لوٹاؤ، اس نے انکار کیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے غلام کو اس کا مالک بنا دیا۔
حدیث نمبر: 2666
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا أَبُوْالزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، أَنَّ غُلَامًا، لِابْنِ عَبَّاسٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " ارْجِعْهَا لَا أُمَّ لَكَ فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ، فَأَبَى، فَقَالَ: هِيَ لَكَ فَاتَّخِذْهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام نے بیوی کو دو طلاقیں دیں، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واپس لوٹاؤ، ورنہ تمہارا کچھ اختیار نہیں، غلام نے اسے اپنے لیے رکھ لیا۔
حدیث نمبر: 2667
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ أَمَةٌ تَطْلِيقَتَيْنِ فَوَطِئَهَا سَيِّدُهَا: «إِنَّ زَوْجَهَا إِنْ شَاءَ أَنْ يَخْطُبَهَا» قَالَ سَعِيدٌ: بِئْسَ مَا قَالَ
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر شوہر نے اپنی باندی کو دو طلاقیں دے کر بیچا ہو اور مالک نے اس سے مباشرت کرلی ہو تو شوہر نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ سعید نے کہا: بہت برا کہا۔
حدیث نمبر: 2668
أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، سُئِلَا عَنْ ذَلِكَ، فَرَخَّصَا فِيهِ وَعَلِيٌّ جَالِسٌ فَقَامَ مُغْضَبًا كَارِهًا لِمَا قَالَا
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان، زید بن ثابت، اور علی رضی اللہ عنہم سے سوال ہوا، عثمان اور زید نے اس کی اجازت دی، مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ناراض ہو کر اٹھ گئے اور اس پر سخت ناپسندیدگی ظاہر کی۔
حدیث نمبر: 2669
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، " فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ غَشِيَهَا سَيِّدُهَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] وَلَيْسَ هَذَا بِزَوْجٍ "
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس نے اپنی باندی کو دو طلاقیں دے دی تھیں اور پھر اس کا مالک اس سے ہمبستری کرے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» اور یہ نکاح نہیں۔
حدیث نمبر: 2670
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، «فِي الْأَمَةِ إِذَا طُلِّقَتْ فَنَكَحَهَا سَيِّدُهَا أَنَّهَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ نے فرمایا کہ جب باندی کو طلاق ہو جائے اور اس کا مالک اس سے نکاح کرے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2671
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ عَوْفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ قَيْسًا الزَّيَّاتَ سَأَلَ مَسْرُوقًا " فَرَخَّصَ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا قُلْتُ، وَاللَّهِ مَا أَرَى اسْتِحْلَالَهُ فَرْجَهَا إِلَّا بِزَوْجٍ " وَمَا أَدْرِي مَا فَعَلَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ قیس الزیات نے حضرت مسروق رحمہ اللہ سے سوال کیا، پہلے اجازت دی پھر بلایا اور کہا کہ میں اپنی پہلی بات سے بری ہوں، اللہ کی قسم میں نہیں دیکھتا کہ بغیر نکاح کے اس کا حلال ہونا جائز ہے۔