حدیث نمبر: 2591
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا يَجُوزُ الْخُلْعُ إِلَّا عِنْدَ السُّلْطَانِ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: خلع صرف سلطان کے پاس جا کر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2592
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا بَعْضُ، أَصْحَابِنَا، عَنِ الشَّعْبِيِّ،: «هُمْ عَلَى مَا اصْطَلَحُوا عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ دُونَ السُّلْطَانِ فَهُوَ جَائِزٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگرچہ خلع سلطان کے بغیر ہوا ہو، مگر جس بات پر دونوں نے صلح کی ہو وہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2593
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: " الْمَرْأَةُ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَخْتَلِعَ مِنْ زَوْجِهَا تَقُولُ: لَا أَبَرُّ لَكَ قَسَمًا، وَلَا أُطِيعُ لَكَ أَمْرًا، وَلَا أَغْتَسِلُ لَكَ مِنْ جَنَابَةٍ. فَقَالِ الشَّعْبِيُّ: الْمَرْأَةُ تَفْجُرُ، فَمَا تَدَعُ الْغُسْلَ مِنَ الْجَنَابَةِ. كَأَنَّهُ كَرِهَ هَذَا الْقَوْلَ "
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: اگر عورت خلع کی نیت سے شوہر سے کہے کہ میں نہ تمہاری قسم کا لحاظ کروں گی، نہ تمہارے حکم کی اطاعت کروں گی اور نہ جنابت کے بعد غسل کروں گی؟ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: عورت تو فسق پر اتر آتی ہے، لیکن غسل جنابت ترک کرنا مناسب نہیں۔ یوں انہوں نے اس قول کو ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 2594
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، " أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَا أَبَرُّ لَكَ قَسَمًا، وَلَا أُطِيعُ لَكَ أَمْرًا، وَلَا أَغْتَسِلُ لَكَ مِنْ جَنَابَةٍ. فَقَالَ بِيَدِهِ: لَا أَفْعَلُ، وَلَا أَفْعَلُ، أَيُّمَا امْرَأَةٍ كَرِهَتْ زَوْجَهَا فَيَأْخُذُ مِنْهَا وَيُخَلِّي عَنْهَا "
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب عورت شوہر سے کہے: میں نہ تمہاری بات مانو گی، نہ غسل کروں گی، تو شوہر ہاتھ اٹھا کر کہے: نہ میں تمہارے لیے کچھ کروں گا، نہ کچھ ادا کروں گا۔ اگر عورت شوہر کو ناپسند کرتی ہے تو شوہر کو اس سے مال لے کر علیحدگی کر لینی چاہیے۔
حدیث نمبر: 2595
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ شُرَيْحٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ: " أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا مَالُكِ عِنْدِي لَطَلَّقْتُكِ. فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: هُوَ لَكَ عَلَى أَنْ تُطَلِّقَنِي. فَقَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ. فَقَالَتْ: زِدْنِي. قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ. قَالَتْ: زِدْنِي. قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ. فَقُلْتُ: مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ خِبْتَ، بَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ وَغَرِمْتَ. قَالَ شُرَيْحٌ: دِينُ اللَّهِ إِذًا فِي يَدِكَ، هُمَا عَلَى مَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ "
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا، ایک مرد اور عورت جھگڑتے ہوئے آئے۔ مرد نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تیرا مال میرے پاس نہ ہوتا تو میں تجھے طلاق دے دیتا۔ عورت نے کہا: میرا مال چھوڑ کر مجھے طلاق دے دو۔ مرد نے طلاق دی اور پھر مزید دو بار طلاق دے دی۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مجھے تو لگتا ہے کہ تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی اور تم مال سے بھی گئے۔ شریح رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کا دین تمہارے ہاتھ میں ہے، جو معاملہ ہوا ہے وہ درست ہے۔
حدیث نمبر: 2596
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، " أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِزَوْجِهَا: أَتْرُكُ لَكَ مَا عَلَيْكَ مِنْ صَدَاقِي عَلَى أَنْ تُطَلِّقَنِي. فَقَالَ: اشْهَدُوا. فَقَالَتِ: اشْهَدُوا. قَالَ: فَأَنْتِ طَالِقٌ. قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ , حَتَّى تُمِرَّهُنَّ ثَلَاثًا. قَالَ: فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا. قَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتَنِي، فَارْدُدْ عَلَيَّ مَالِي. فَاخْتَصَمَا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ جُلَسَاءُ شُرَيْحٍ: مَا نَرَى امْرَأَتَكَ إِلَّا قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، وَمَا نَرَاكَ إِلَّا قَدْ غَرِمْتَ مَالَهَا. فَقَالَ شُرَيْحٌ: أَوَ تَرَوْنَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: إِنَّ الْإِسْلَامَ إِذًا أَضْيَقُ مِنْ حَدِّ السَّيْفِ. ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ: أَمَّا امْرَأَتُكَ فَلَا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَأَمَّا مَالُكَ فَلَكَ "
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک عورت نے شوہر سے کہا: میں اپنا مہر چھوڑتی ہوں اگر تو مجھے طلاق دے دے۔ شوہر نے کہا: گواہ بناؤ۔ عورت نے بھی یہی کہا۔ شوہر نے ایک طلاق دی، عورت نے کہا: نہیں، جب تک تین طلاقیں نہ دے۔ شوہر نے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر وہ اپنا مہر واپس مانگنے لگی۔ جب معاملہ حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس پہنچا، تو حاضرین نے کہا: تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی اور تم نے مال بھی کھو دیا۔ شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر تم یہی سمجھتے ہو تو اسلام تلوار کی دھار سے بھی تنگ ہو گیا۔ پھر شریح رحمہ اللہ نے شوہر سے کہا: بیوی تم پر حلال نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرے، البتہ مہر تمہیں واپس ملے گا۔
حدیث نمبر: 2597
حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، " فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: قَدْ خَلَعْتُكِ، وَلَمْ يَكُنْ خَلَعَهَا، فَقَالَ: قَدْ خَلَعَهَا لَهَا الْآنَ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر شوہر بیوی سے کہے کہ میں نے تجھے خلع کر دیا ہے اور خلع کی نیت نہ ہو، تب بھی خلع واقع ہو جاتا ہے۔