حدیث نمبر: 2240
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي تِسْعًا وَتِسْعِينَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَمَا قَالُوا لَكَ؟ قَالَ: قَالُوا: حُرِّمَتْ عَلَيْكَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ أَرَادُوا أَنْ يَشُقُّوا عَلَيْكَ، بَانَتْ مِنْكَ بِثَلَاثٍ، وَسَائِرُهُنَّ عُدْوَانٌ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا، کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی کو ننانوے بار طلاق دی، فرمایا: ”تمہاری بیوی تین طلاق سے جدا ہو گئی، باقی زیادتی تھی۔“
حدیث نمبر: 2241
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: " إِنَّ عَمَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَأَكْثَرَ. فَقَالَ: عَصَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ، وَلَمْ تَتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيَجْعَلَ لَكَ مَخْرَجًا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا، کہنے لگا: میرے چچا نے بیوی کو تین سے زیادہ طلاق دی، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم نے اللہ کی نافرمانی کی اور بیوی جدا ہو گئی۔“
حدیث نمبر: 2242
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: " إِنَّ عَمَّهُ طَلَّقَ ثَلَاثًا، فَنَدِمَ. فَقَالَ: عَمُّكَ عَصَى اللَّهَ فَأَنْدَمَهُ، وَأَطَاعَ الشَّيْطَانَ فَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا. قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَنَا تَزَوَّجْتُهَا عَنْ غَيْرِ عِلْمٍ مِنْهُ، أَتَرْجِعُ إِلَيْهِ؟ فَقَالَ: مَنْ يُخَادِعِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَخْدَعْهُ اللَّهُ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک اور شخص آیا، کہا: چچا نے تین طلاقیں دے کر پچھتایا، فرمایا: ”چچا نے اللہ کی نافرمانی کی، شیطان کی اطاعت کی، اگر کوئی اللہ کو دھوکہ دینا چاہے گا تو اللہ اس کو دھوکہ دے گا۔“
حدیث نمبر: 2243
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَهْرٌ مَوْلًى لِآلِ أَبِي نَمِرٍ، فَقَالَ: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ. قَالَ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: مَهْرٌ. قَالَ: بَلْ أَنْتَ مُهَيْرٌ، يُؤْخَذُ مِنْكَ ثَلَاثَةٌ، وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ يُحَاسِبُكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس مہر نامی شخص آیا جس نے اپنی بیوی کو سو بار طلاق دی تھی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تیرے لیے تین طلاقیں ہوں گی اور باقی ستانوے طلاقوں کا حساب اللہ عزوجل قیامت کے دن لے گا۔“
حدیث نمبر: 2244
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَدْ كَانَ لَكُمْ فِي الطَّلَاقِ أَنَاةٌ، فَاسْتَعْجَلْتُمْ أَنَاتَكُمْ، وَقَدْ أَجَزْنَا عَلَيْكُمْ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ مِنْ ذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”طلاق میں تمہارے لیے مہلت تھی مگر تم نے جلدی کی، ہم نے تمہیں اسی پر قائم کر دیا جو تم نے خود پر لازم کر لیا۔“
حدیث نمبر: 2245
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ: قَالَ عُمَرُ: " لَوْ حَمَلْنَاهُمْ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ. ثُمَّ قَالَ: لَا، بَلْ نُلْزِمُهُمْ مَا أَلْزَمُوا أَنْفُسَهُمْ "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب کسی نے ایک ہی کلمے میں تین طلاقیں دیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب کے مطابق کریں تو بہتر ہے، لیکن انہیں اسی پر لازم کریں گے جو انہوں نے خود لازم کیا۔“
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَجْعَلَ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ أَنْ أَجْعَلَهَا وَاحِدَةً، وَلَكِنَّ أَقْوَامًا حَمَلُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ، فَأَلْزِمْ كُلَّ نَفْسٍ مَا أَلْزَمَ نَفْسَهُ، مَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ فَهِيَ حَرَامٌ، وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ بَائِنَةٌ فَهِيَ بَائِنَةٌ، وَمَنْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا فَهِيَ ثَلَاثٌ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”میں چاہتا تھا کہ جو شخص ایک مجلس میں تین طلاق دے اسے ایک شمار کروں، مگر لوگ خود پر سختی کر بیٹھے، لہٰذا جو کہا اسے لازم کر دو۔“
حدیث نمبر: 2247
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، وَيَقُولُ: «لِيُطَلِّقْهَا وَاحِدَةً، ثُمَّ لْيَدَعْهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ ایک کلمے میں تین طلاق دینا ناپسند کرتے اور کہتے: ”ایک طلاق دے اور عدت گزرنے دے۔“
حدیث نمبر: 2248
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُطَلِّقَ ثَلَاثًا»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ تین طلاقوں میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2249
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ إِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَرِيحَ مِنَ امْرَأَتِهِ. قَالَ: فَطَلِّقْهَا ثَلَاثًا إِنْ شِئْتَ "
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص آیا جو بیوی سے نجات چاہتا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر چاہو تو تین طلاق دے دو۔“
حدیث نمبر: 2250
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: «لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دیں، وہ اس کے لیے حلال نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرے۔“