حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1] «أَنْ يُطَلِّقَهَا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ، ثُمَّ يُمْهِلَ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ يُمْهِلَ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً ثُمَّ تَطْهُرَ، إِنْ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَ رَاجَعَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت «فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» کی تفسیر میں فرمایا: ”طلاق بغیر مباشرت کے ہو، پھر ایک حیض آئے پھر پاک ہو، پھر دوسرا حیض آئے پھر پاک ہو، اگر چاہے تو رجوع کرے۔“
حدیث نمبر: 2234
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: الْأَعْمَشُ نا، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ طَاهِرٌ فِي غَيْرِ جِمَاعٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عدت والی طلاق یہ ہے کہ عورت کو حالت طہارت میں بغیر مباشرت کے طلاق دے۔“
حدیث نمبر: 2235
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ: «فَطَلِّقُوهُنَّ لِقِبَلِ عِدَّتِهِنَّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت کو یوں پڑھتے تھے: «فَطَلِّقُوهُنَّ لِقِبَلِ عِدَّتِهِنَّ»۔
حدیث نمبر: 2236
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: «فَطَلِّقُوهُنَّ لِقِبَلِ عِدَّتِهِنَّ»، قَالَ سُفْيَانُ: وَمَا سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يَقُولُ فِي شَيْءٍ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، إِلَّا فِي هَذَا
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے بھی فرمایا: ”فَطَلِّقُوهُنَّ لِقِبَلِ عِدَّتِهِنَّ“، اور سفیان نے کہا: ابن جریج کو میں نے کسی معاملے میں مجاہد سے سماع کرتے نہیں سنا سوائے اس میں۔
حدیث نمبر: 2237
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: «الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا، طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ أَوْ حَمْلٍ بَيِّنٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عدت والی طلاق یہ ہے کہ عورت کو پاکی کی حالت میں بغیر مباشرت یا واضح حمل کے طلاق دی جائے۔“
حدیث نمبر: 2238
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، وَابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: «الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ أَنْ يُطَلِّقَ، الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ طَاهِرٌ مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ أَوْ حَبَلٍ بَيِّنٌ حَبَلُهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عدت والی طلاق یہ ہے کہ عورت کو طہر میں بغیر مباشرت یا واضح حمل کے طلاق دی جائے۔“
حدیث نمبر: 2239
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: " إِنِّي ابْتُلِيتُ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: امْرَأَتُهُ ابْنَةُ عَمِّهِ، أُحَدِّثُ نَفْسِي بِطَلَاقِهَا، حَتَّى أَرَى أَنَّ لِسَانِي قَدْ تَحَرَّكَ بِذَاكَ، وَحَتَّى أَضَعَ يَدِي عَلَى فَمِي مَخَافَةَ أَنْ يَبْدُرَنِي الْكَلَامُ بِطَلَاقِهَا. فَقَالَ سَعِيدٌ: أَتُرَاكَ مُطِيعًا؟ قَالَ: مَا سَأَلْتُكَ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطِيعَكَ. قَالَ: فَإِنَّ الطَّلَاقَ لَيْسَ هُنَاكَ، وَالطَّلَاقُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ طَاهِرٌ مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ، وَأَنْ يُشْهِدَ عَلَى طَلَاقِهَا وَعَلَى رَجْعَتِهَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ، فَذَلِكَ الطَّلَاقُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ "
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس ایک بصری شخص آیا، کہنے لگا: میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا وسوسہ کرتا ہوں، یہاں تک کہ ہاتھ سے منہ بند کرتا ہوں، حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ طلاق نہیں، اللہ کی مقرر کردہ طلاق وہ ہے جو پاکی میں بغیر جماع کے گواہوں کے ساتھ ہو۔“