حدیث نمبر: 2197
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا عِتْقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا طَلَاقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے قبضے میں نہ ہونے والی چیز میں نذر، آزادی، اور طلاق کا کوئی اعتبار نہیں۔“
حدیث نمبر: 2198
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ أَبِي عَرَضَ عَلَيَّ امْرَأَةً يُزَوِّجُنِيهَا، فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَهَا، وَقُلْتُ: هِيَ طَالِقٌ الْبَتَّةَ يَوْمَ أَتَزَوَّجُهَا، ثُمَّ نَدِمْتُ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ»
مظاہر امیر خان
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ میرے والد نے میرے لیے ایک عورت تجویز کی، میں نے انکار کرتے ہوئے کہا: اگر میں اس سے نکاح کروں تو وہ مجھ پر میری ماں کی طرح حرام ہو۔ پھر نادم ہوا۔ مدینہ آ کر حضرت سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر رحمہم اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں۔“
حدیث نمبر: 2199
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَيْسَ الظِّهَارُ وَالطَّلَاقُ قَبْلَ الْمِلْكِ بِشَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ملکیت سے پہلے ظہار اور طلاق کا کوئی اعتبار نہیں۔“
حدیث نمبر: 2200
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي. فَتَزَوَّجَهَا، فَسَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: «لَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ»
مظاہر امیر خان
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو وہ مجھ پر میری ماں کی طرح حرام۔ پھر نکاح کر لیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو فرمایا: ”اس سے اس وقت تک تعلق نہ قائم کرو جب تک کفارہ ظہار ادا نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 2201
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: «لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نکاح کے بعد ہی طلاق معتبر ہے۔“
حدیث نمبر: 2202
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ: إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ، فَقَالَ: «لَيْسَ بِشَيْءٍ، لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: آدمی کہے اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو وہ مجھ پر طلاق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ کچھ نہیں، نکاح کے بغیر طلاق کا اعتبار نہیں۔“
حدیث نمبر: 2203
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: «الطَّلَاقُ بَعْدَ النِّكَاحِ، وَالْعِتْقُ بَعْدَ الْمِلْكِ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابوالشعثاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلاق نکاح کے بعد اور آزادی ملکیت کے بعد ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2204
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ نِكَاحٍ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مِلْكٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نکاح کے بعد ہی طلاق درست ہے اور ملکیت کے بعد ہی آزادی۔“
حدیث نمبر: 2205
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا عُبَيْدَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ رَوَاحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ نِكَاحٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”طلاق نکاح کے بعد ہی معتبر ہے۔“
حدیث نمبر: 2206
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ «عَنِ الطَّلَاقِ، قَبْلَ النِّكَاحِ، فَلَمْ يَرَيَاهُ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر اور علی بن حسین رحمہما اللہ سے دریافت کیا گیا کہ نکاح سے پہلے طلاق دی جائے تو دونوں نے فرمایا: ”یہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔“
حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي النَّزَّالُ بْنُ سَبْرَةَ الْهِلَالِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «لَا وِصَالَ وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ، وَلَا يُتْمَ بَعْدَ الْحُلُمِ، وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ، وَلَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”فطام کے بعد کوئی رضاعت نہیں، بلوغت کے بعد کوئی یتیمی نہیں، دن بھر خاموش رہنے کی نذر نہیں، نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں۔“
حدیث نمبر: 2208
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلاق صرف ملکیت کے بعد ہی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2209
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ نِكَاحٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلاق نکاح کے بعد ہی معتبر ہے۔“
حدیث نمبر: 2210
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، فَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ: يَوْمَ أَتَزَوَّجُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ. فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [الأحزاب: 49] . قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ: «لَا أَرَى طَلَاقًا إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ»
مظاہر امیر خان
ایک آدمی نے حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ سے کہا: میں نے قسم کھائی کہ فلاں عورت سے نکاح کے دن طلاق دوں گا۔ آپ نے آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ» تلاوت کی اور فرمایا: ”نکاح کے بعد ہی طلاق معتبر ہے۔“
حدیث نمبر: 2211
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا الْأَجْلَحُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ قَالَ: إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ؟ فَقَالَ: " لَيْسَ بِشَيْءٍ، بَدَأَ اللَّهُ بِالنِّكَاحِ قَبْلَ الطَّلَاقِ، ثُمَّ قَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ} [الأحزاب: 49]، فَبَدَأَ اللَّهُ بِالنِّكَاحِ قَبْلَ الطَّلَاقِ، وَلَيْسَ قَوْلُهُ بِشَيْءٍ "
مظاہر امیر خان
حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ سے ایک شخص نے سوال کیا: اگر میں نکاح کے بعد طلاق دوں تو کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کچھ نہیں، اللہ نے نکاح کو طلاق پر مقدم کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2212
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِذَا قَالَ: " كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، كَفَّرَ عَنْ أَوَّلِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، وَإِذَا قَالَ: إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي فَتَزَوَّجَهَا، فَلَا يَقْرَبْهَا حَتَّى يُكَفِّرَ "
مظاہر امیر خان
حضرت عروہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی کہے کہ جو بھی عورت نکاح میں آئے وہ ماں کے مثل ہو، تو پہلی عورت پر کفارہ دے۔ اور اگر کہے کہ فلاں سے نکاح کیا تو وہ ماں کی مثل ہو تو جب تک کفارہ نہ دے تعلق نہ قائم کرے۔“
حدیث نمبر: 2213
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا عُقْبَةُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَفْتُ بِطَلَاقِ امْرَأَةٍ فُلَانًا، قُلْتُ: إِنِّي لَا أَتَزَوَّجُهَا حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى أَصْبَهَانَ. فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: «فَاخْرُجْ إِلَى أَصْبَهَانَ، ثُمَّ تَزَوَّجْهَا بَعْدُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس شخص نے قسم کھائی کہ میں فلاں عورت سے نکاح نہیں کروں گا جب تک اصفہان نہ جاؤں، تو ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اصفہان جاؤ پھر نکاح کرو۔“
حدیث نمبر: 2214
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ: " مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ قَالَ: إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ؟ فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: كَمْ أَصْدَقَهَا؟، قَالَ لَهُ الرَّجُلُ: لَمْ يَتَزَوَّجْهَا بَعْدُ، فَكَيْفَ يُصْدِقُهَا؟ فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: فَكَيْفَ يُطَلِّقُ مَا لَمْ يَتَزَوَّجْهُ؟ ".
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی کہے: اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو وہ طلاق، تو انہوں نے کہا: ”جب نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق کیسی؟“
حدیث نمبر: 2215
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، نا خُصَيْفٌ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً، وَطَاوُسًا، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ، وَسَأَلْتُ مُجَاهِدًا فَكَرِهَهُ
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء، طاؤس، اور سعید بن مسیب رحمہم اللہ نے فرمایا: ”یہ طلاق نہیں ہوتی۔“ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے اس کو ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 2216
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ حَلَفَ فِي امْرَأَةٍ إِنْ تَزَوَّجَهَا فَهِيَ طَالِقٌ، فَتَزَوَّجَهَا، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ: «بَلَغَنِي أَنَّكَ حَلَفْتَ فِي كَذَا»، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَلَا تُخَلِّي سَبِيلَهَا؟ قَالَ: لَا. فَتَرَكَهُ عُمَرُ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا "
مظاہر امیر خان
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے ایک عورت کے بارے میں قسم کھائی کہ اگر میں اس سے نکاح کروں تو وہ طلاق۔ اور جب نکاح کر لیا تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے تحقیق کے بعد نکاح برقرار رکھا۔
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: سَأَلْتُ مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ عَنْ رَجُلٍ ذُكِرَ لَهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَ: «إِنْ تَزَوَّجْتُهَا فَهِيَ طَالِقٌ» قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ «لَا يَرَاهُ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کسی نے کہا: اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو وہ طلاق، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کچھ نہیں۔“
حدیث نمبر: 2218
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا هَاشِمٍ، فَقَالَ: «هِيَ طَالِقٌ فَمَا يُرِيدُ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابو ہاشم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا تو فرمایا: ”وہ طلاق واقع ہو گئی جیسا اس نے ارادہ کیا۔“
حدیث نمبر: 2219
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَجَارِيَةٍ صَغِيرَةٍ: إِنْ تَزَوَّجْتُهَا فَهِيَ طَالِقٌ. فَشَبَّتْ فَرَغِبَ فِيهَا، فَتَزَوَّجَهَا، ثُمَّ إِنَّهُ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِي: سَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ. فَلَقِيتُ عَامِرًا الشَّعْبِيَّ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ائْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَإِنِّي تَرَكْتُهُ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَاسْأَلْهُ، ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي بِمَا يَقُولُ. قَالَ: فَلَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَذَكَرَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَوِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «هِيَ كَمَا قَالَ»، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَامِرٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، هُوَ كَمَا قَالَ. فَلَقِيتُ الزَّوْجَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَا، فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا أَحَقُّ بِنَفْسِهَا، ثُمَّ خَطَبَهَا فَتَزَوَّجَهَا
مظاہر امیر خان
محمد بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کم سن بچی سے نکاح کا کہا تھا کہ اگر نکاح کروں تو وہ طلاق۔ جب وہ بڑی ہوئی اور نکاح کیا تو حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے سوال کرنے کو کہا۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے حضرت علقمہ یا اسود رحمہما اللہ سے نقل کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کہا وہ ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 2220
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، نا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: كُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ قَالَ: «فَلَيْسَ بِشَيْءٍ إِلَّا أَنْ يُوَقِّتَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص یہ کہے کہ ہر عورت جس سے میں نکاح کروں وہ طلاق، تو یہ کچھ نہیں جب تک وقت معین نہ کرے۔“
وضاحت:
سند میں دو علتیں ہیں: جويبر بن سعيد: ضعیف و متروک، الضحاك عن ابن مسعود: مرسل (منقطع)
حدیث نمبر: 2221
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ قَالَ: " إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ، أَوْ قَالَ: مِنْ بَيْتِ فُلَانٍ، فَهِيَ طَالِقٌ، فَإِنْ تَزَوَّجَ فَهِيَ طَالِقٌ، وَإِنْ قَالَ: كُلُّ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، فَلَيْسَ بِشَيْءٍ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی کہے: اگر میں فلاں یا فلاں خاندان کی عورت سے نکاح کروں تو وہ طلاق، تو نکاح کے بعد طلاق ہو جائے گی۔ اور اگر کہے: ہر عورت جس سے نکاح کروں وہ طلاق، تو یہ کچھ نہیں۔
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَالَ: " كُلُّ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ قَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ، هَذَا رَجُلٌ حَرَّمَ الْمُحْصَنَاتِ. وَإِذَا قَالَ: إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ، فَإِنْ تَزَوَّجَهَا فَهِيَ طَالِقٌ كَمَا قَالَ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو یہ کہے کہ ہر عورت جس سے نکاح ہو طلاق ہے، تو یہ کچھ نہیں۔ اور اگر کسی خاص عورت کا نام لے کر کہے تو نکاح کے بعد طلاق واقع ہوگی۔“
حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا سَمَّاهَا أَوْ نَسَبَهَا، أَوْ سَمَّى مِصْرًا، أَوْ وَقَّتَ وَقْتًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر عورت کو نام سے یا نسبت سے یا شہر یا وقت کے ساتھ معین کرے تو بات ویسے ہی ہو گی۔“
حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ بھی اسی طرح فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2225
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، وَالشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ قَالَ: كُلُّ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، قَالَا: «لَيْسَ بِشَيْءٍ حَرَّمَ الْمُحْصَنَاتِ» . فَإِذَا قَالَ: كُلُّ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ، أَوْ مِنْ مِصْرٍ، أَوْ قَبِيلَةٍ، فَهِيَ طَالِقٌ كَمَا قَالَ "
مظاہر امیر خان
حضرت مغیرہ اور عامر شعبی رحمہما اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی ہر نکاح کردہ عورت کو طلاق کہے تو یہ کچھ نہیں، لیکن اگر کسی قبیلے یا شہر کو معین کرے تو جو کہا ویسا ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2226
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَمُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: " إِنْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مَا دُمْتِ عِنْدِي فَهِيَ طَالِقٌ. قُلْتُ: ظَنِّي أَنَّهُ كَانَ عَقِيبُهُ: «فَهُوَ كَمَا قَالَ» فَسَقَطَ مِنَ النُّسْخَةِ "
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کسی نے کہا: ”جب تک تم میرے نکاح میں ہو، میں کسی عورت سے نکاح کروں تو وہ طلاق ہو گی،“ تو کہا: ”یہ ویسا ہی ہے جیسا کہا۔“
حدیث نمبر: 2227
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ قَالَ: كُلُّ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَهِيَ طَالِقٌ قَالَ: «يَتَحَوَّلُ إِلَى غَيْرِهِمْ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے کہا کہ بنی اسد میں سے جس سے نکاح کروں وہ طلاق ہے، تو وہ کسی اور قبیلے میں نکاح کرے۔“
حدیث نمبر: 2228
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: " إِذَا قَالَ: كُلُّ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، فَهُوَ كَمَا قَالَ "
مظاہر امیر خان
حضرت سالم بن عبداللہ اور عمرو بن محمد رحمہما اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے کہا کہ ہر نکاح کردہ عورت طلاق، تو ویسا ہی ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ قَالَ لِامْرَأَةٍ: إِنْ نَكَحْتُهَا فَهِيَ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ قَالَ: «يُكَفِّرُ إِنْ نَكَحَهَا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا، ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی کہے: ”اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو وہ ماں کے مانند ہے،“ تو انہوں نے فرمایا: ”اگر جماع سے پہلے نکاح کرے تو کفارہ دے۔“
حدیث نمبر: 2230
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، تَزَوَّجَ حُرَّةً وَأَمَةً فِي عُقْدَةٍ قَالَ: «يُثَبِّتُ نِكَاحَ الْحُرَّةِ وَيُسْقِطُ نِكَاحَ الْأَمَةِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی ایک ساتھ آزاد اور باندی سے نکاح کرے، تو فرمایا: ”آزاد عورت کا نکاح برقرار رہے گا، اور باندی کا نکاح ساقط ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2231
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَقُولُ: «كُلُّ طَلَاقٍ أَوْ عِتْقٍ قَبْلَ الْمِلْكِ فَهُوَ بَاطِلٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت عروہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر طلاق اور آزادی جو ملکیت سے پہلے ہو، باطل ہے۔“
حدیث نمبر: 2232
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: جَاءَتْ إِلَى الشَّعْبِيِّ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي حَلَفْتُ لِزَوْجِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ بَعْدَهُ بِأَيْمَانٍ غَلِيظَةٍ، فَمَا تَرَى؟ قَالَ: «أَرَى أَنْ نَبْدَأَ بِحَلَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ حَرَامِكُمْ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: میں نے سخت قسمیں کھائیں کہ شوہر کے بعد نکاح نہیں کروں گی، تو شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ کے حلال کو حرام پر مقدم کرو۔“