کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اس شخص کا بیان جو نکاح کے بعد غلطی سے کسی اور عورت سے ہمبستر ہو جائے۔
حدیث نمبر: 2189
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، تَزَوَّجَ جَارِيَةً، فَدَخَلَ عَلَيْهَا وَمَعَهَا جَوَارٍ، فَتَنَاوَلَ وَاحِدَةً فَقَالَتْ: لَسْتُ بِامْرَأَتِكَ. فَخَلَّى عَنْهَا، ثُمَّ تَنَاوَلَ أُخْرَى فَقَالَتْ: لَسْتُ بِامْرَأَتِكَ. فَخَلَّى عَنْهَا، ثُمَّ تَنَاوَلَ أُخْرَى فَقَالَتْ: لَسْتُ بِامْرَأَتِكَ. فَقَالَ: أَتُدَافِعِينِي؟ فَوَقَعَ بِهَا، فَنَظَرَ فَإِذَا هِيَ لَيْسَتْ بِامْرَأَتِهِ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: «لَهَا الصَّدَاقُ، وَيُدْرَأُ عَنْهُ الْحَدُّ لِجَهَالَتِهِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے باندی سے نکاح کیا اور اس کے ساتھ دوسری بانڈیاں بھی تھیں، جب اس نے کسی کو ہاتھ لگایا تو اس نے کہا: میں تمہاری بیوی نہیں۔ تین بار ایسا ہوا پھر اس نے تعلق قائم کر لیا، جب دیکھا تو وہ اس کی بیوی نہ تھی۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس عورت کا مہر لازم ہے اور مرد پر حد ساقط ہے کیونکہ اسے علم نہ تھا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2189
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2190
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «مَنْ وَطِئَ فَرْجًا بِجَهَالَةٍ دُرِئَ عَنْهُ الْحَدُّ، وَضَمِنَ الْعُقْرَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص لاعلمی میں کسی عورت سے جماع کرے اس پر حد نہیں لیکن مہر ادا کرنا لازم ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2190
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1013، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29628»
حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ وُجِدَ مَعَ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَقَالَ: امْرَأَتِي. فَقَالَتْ: زَوْجِي. فَقَالَ: «يُسْأَلُ الْبَيِّنَةَ عَلَى ذَلِكَ، وَإِلَّا أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدُّ، لَوِ اسْتَقَامَ ذَلِكَ لَمْ يُقَمْ حَدٌّ عَلَى فَاجِرٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی مرد اور عورت زنا کی حالت میں پکڑے جائیں اور دونوں کہیں کہ ہم میاں بیوی ہیں، تو ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”دونوں سے گواہی طلب کی جائے گی، اگر نہ لا سکے تو عورت پر حد جاری ہوگی، ورنہ ہر فاجر حد سے بچ جاتا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2191
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2192
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ وَالْحَارِثِ الْغَنَوِيِّ، فَتَذَاكَرُوا هَذَا الْبَابَ، فَقَالَ حُمَيْدٌ: «يُسْأَلَانِ الْبَيِّنَةَ، وَإِلَّا أُقِيمُ عَلَيْهَا الْحَدُّ» . وَقَالَ الْحَارِثُ الْغَنَوِيُّ: الْقَوْلُ قَوْلُهَا، وَلَا حَدَّ عَلَيْهِمَا. فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ ابْنُ شُبْرُمَةَ فَقَالَ حُمَيْدٌ لِلْحَارِثِ: هَذَا ابْنُ شُبْرُمَةَ , وَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ , فَأَقْبَلَ ابْنُ شُبْرُمَةَ حَتَّى جَلَسَ، فَسَأَلَهُ حُمَيْدٌ، فَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ بِقَوْلِ إِبْرَاهِيمَ
مظاہر امیر خان
حضرت حمید طویل اور حارث غنوی رحمہما اللہ نے اس بارے میں اختلاف کیا۔ حمید نے کہا: ”گواہی لائی جائے ورنہ حد لگے گی۔“ حارث نے کہا: ”عورت کی بات معتبر ہے، حد نہیں لگے گا۔“ پھر ابن شبرمہ آئے اور ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے ابراہیم رحمہ اللہ کے قول کی تائید کی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2192
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2193
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ، وَحَمَّادًا، يَقُولَانِ: «الْقَوْلُ قَوْلُهُمَا» . قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے حکم اور حماد دونوں کو کہتے سنا کہ عورت کی بات مانی جائے۔“ ہشیم نے کہا: ”یہی قول درست ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2193
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1016، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10509، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29485»
حدیث نمبر: 2194
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ السُّمَيْطِ السَّدُوسِيِّ قَالَ: " خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَقَالُوا لِي: لَا نُزَوِّجُكَ حَتَّى تُطَلِّقَ امْرَأَتَكَ ثَلَاثًا. فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ طَلَّقْتُ ثَلَاثًا، فَزَوَّجُونِي، ثُمَّ نَظَرُوا فَإِذَا امْرَأَتِي عِنْدِي، فَقَالُوا: أَلَيْسَ قَدْ طَلَّقْتَ ثَلَاثًا؟ فَقُلْتُ: بَلَى، كَانَتْ عِنْدِي فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ فَطَلَّقْتُهَا، وَفُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ فَطَلَّقْتُهَا، وَأَمَّا هَذِهِ فَلَمْ أُطَلِّقْهَا. فَأَتَيْتُ شَقِيقَ بْنَ مَجْزَأَةَ بْنِ ثَوْرٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَافِدًا، فَقُلْتُ لَهُ: سَلْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ هَذِهِ. فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: نِيَّتُهُ "
مظاہر امیر خان
سمیط سدوسی کہتے ہیں: ”میں نے ایک عورت سے نکاح کا پیغام دیا، انہوں نے کہا: پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دو، میں نے کہا: میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ نکاح کے بعد انکشاف ہوا کہ میری بیوی موجود ہے۔ جب پوچھا تو کہا: میں نے اور عورتوں کو طلاق دی تھی اس کو نہیں۔ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو فرمایا: نیت کا اعتبار ہوگا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2194
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «إسنادہ حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1017، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1696، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18280»
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، وقال المحقق: كذا في ص، والصواب عندي حذف كلمة (عن) والسميط السدوسي هو ابن عمير، وقيل: ابن سمير، ذكره الحافظ في التهذيب . قلنا:، ولعل الصواب (بن) بدل (عن) والله أعلم
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ خَطَبَ إِلَى قَوْمٍ، فَزَوَّجُوهُ عَلَى إِنْ كَانَ لَهُ امْرَأَةٌ فَصَدَاقُ صَاحِبَتِهِمْ أَلْفَانِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ امْرَأَةٌ فَصَدَاقُهَا أَلْفٌ، فَزَوَّجُوهُ عَلَى ذَلِكَ، فَوَجَدُوا لَهُ امْرَأَةً، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «لَهَا أَخَسُّ الصَّدَاقَيْنِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نکاح اس شرط پر کیا کہ اگر اس کی بیوی ہو تو مہر دو ہزار، اگر نہ ہو تو ایک ہزار۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی بیوی تھی۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عورت کو کم مہر ملے گا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2195
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: «إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ ابْنٌ، وَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ، وَلَهَا ابْنَةٌ مِنْ غَيْرِهِ، وَابْنُهُ مِنْ غَيْرِهَا، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَزَوَّجَ الِابْنُ ابْنَةَ الْمَرْأَةِ إِنْ كَانَتْ وُلِدَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا الْأَبُ، وَإِنْ كَانَ بَعْدُ كَرِهَهُ» . وَلَمْ يَرَ بِهِ مُجَاهِدٌ بَأْسًا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ. قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: الْقَوْلُ مَا قَالَ مُجَاهِدٌ
مظاہر امیر خان
حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی مرد کی بیوی ہو اور اس کی بیوی کی بیٹی ہو، تو اگر بیٹی اس کی ماں سے پہلے پیدا ہو تو اس کے بیٹے کے لیے اس سے نکاح جائز ہے۔ اگر بعد میں پیدا ہوئی ہو تو مکروہ ہے۔“ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے اس میں پہلے یا بعد میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قول مجاہد رحمہ اللہ کا معتبر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2196
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1019، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18017»