کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: بیٹی اور سوتیلی ماں کو نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2181
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْجَمْعَ بَيْنَ ابْنَةِ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”آدمی کے لیے اپنی بیٹی اور بیوی کو جمع کرنا مکروہ ہے۔“
حدیث نمبر: 2182
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2183
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَيُّوبُ، قَالَ: سُئِلَ الْحَسَنُ وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ امْرَأَةَ الرَّجُلِ وَابْنَتَهُ مِنْ غَيْرِهَا، فَكَرِهَ ذَلِكَ الْحَسَنُ، وَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلَ جَبَلَةُ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ،
مظاہر امیر خان
ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی مرد کی بیوی اور کسی اور سے اس کی بیٹی کو نکاح میں رکھے، تو حسن بصری رحمہ اللہ نے اسے مکروہ جانا، اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کوئی حرج نہیں سمجھا اور کہا: ”مصر کے ایک آدمی جبلہ نے بھی ایسا کیا تھا۔“
حدیث نمبر: 2184
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قَالَ: " إِنِّي لَجَالِسٌ، فَسُئِلَ عَنْهَا، فَكَرِهَهَا، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، أَتَرَى بَيْنَهُمَا شَيْئًا؟ فَنَظَرَ، ثُمَّ قَالَ: مَا أَرَى بَيْنَهُمَا شَيْئًا "
مظاہر امیر خان
سلمہ بن علقمہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے مکروہ جانا، پھر کچھ لوگوں نے کہا: ”اے ابو سعید! کیا تم دونوں کے درمیان کوئی حرمت دیکھتے ہو؟“ تو انہوں نے دیکھ کر کہا: ”میں دونوں کے درمیان کوئی حرمت نہیں دیکھتا۔“
حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَسُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ، «جَمَعَ بَيْنَ امْرَأَةِ رَجُلٍ وَابْنَتِهِ»
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مرد کی بیوی اور اس کی بیٹی کو (نکاح میں) جمع کیا۔
حدیث نمبر: 2186
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ «تَزَوَّجَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ وَابْنَتَهُ»
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن صفوان نے ایک ثقفی مرد کی بیوی اور اس کی بیٹی سے نکاح کیا۔
حدیث نمبر: 2187
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ قُثَمَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ «جَمَعَ بَيْنَ ابْنَةِ عَلِيٍّ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ النَّهْشَلِيَّةِ»
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن جعفر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور ان کی (بیوہ) اہلیہ نہشلیہ کو نکاح میں جمع کیا۔
حدیث نمبر: 2188
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ قُثَمَ مَوْلَى آلِ الْعَبَّاسِ قَالَ: جَمَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ لَيْلَى بِنْتِ مَسْعُودٍ النَّهْشَلِيَّةِ، وَكَانَتِ امْرَأَةَ عَلِيٍّ، وَبَيْنَ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتَا امْرَأَتَيْهِ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن جعفر نے سیدہ لیلیٰ بنت مسعود نہشلیہ اور سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کو، جو سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں، نکاح میں جمع کیا تھا۔