کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: رضاعت سے پیدا ہونے والی بھتیجی (بھائی کی بیٹی) سے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 2121
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: ذَكَرْتُ بِنْتَ حَمْزَةَ فِي التَّزْوِيجِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رضاعی بھتیجی کے نکاح کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: «یہ میرے رضاعی بھائی حمزہ رضی اللہ عنہم کی بیٹی ہے»۔“
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِنْتَ حَمْزَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَمْزَةَ كَانَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہم کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں»۔
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: ذُكِرَتْ بِنْتُ حَمْزَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا مِنْ جَمَالِهَا، فَقَالَ: «إِنَّ حَمْزَةَ كَانَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہم کی بیٹی کا ذکر کیا گیا اور اس کے حسن و جمال کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا: «حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں»۔“
حدیث نمبر: 2124
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ تَزَوَّجْتَ بِنْتَ حَمْزَةَ؟ فَقَالَ: «إِنَّ حَمْزَةَ كَانَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا گیا: یا رسول اللہ، آپ حمزہ رضی اللہ عنہم کی بیٹی سے نکاح کر لیں۔ آپ نے فرمایا: «حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں، اور رضاعت سے وہی حرام ہوتا ہے جو نسب سے حرام ہوتا ہے»۔“
حدیث نمبر: 2125
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَتَزَوَّجُ ابْنَةَ عَمِّكَ حَمْزَةَ؟ فَإِنَّهَا مِنْ أَحْسَنِ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ. قَالَ: «إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہم کی بیٹی سے نکاح کیجیے، وہ قریش کی حسین ترین لڑکیوں میں سے ہے۔“ آپ نے فرمایا: «وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور اللہ نے نسب سے جو حرام کیا وہی رضاعت سے بھی حرام کیا ہے»۔
حدیث نمبر: 2126
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُرِّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ»
مظاہر امیر خان
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رضاعت سے وہی چیزیں حرام ہوتی ہیں جو نسب سے حرام ہوتی ہیں»۔
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «رضاعت سے وہی چیزیں حرام ہوتی ہیں جو ولادت سے حرام ہوتی ہیں»۔
حدیث نمبر: 2128
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ - قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا - عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " جَاءَ عَمِّي أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ؛ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ» . فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ. قَالَ: «تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میرے چچا افلح بن ابی قعیس نے پردہ کے بعد مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگی، میں نے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں آنے دو»۔ میں نے عرض کیا: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا تھا، مرد نے نہیں۔ آپ نے فرمایا: «تیری خیر ہو، انہیں آنے دو»۔“
حدیث نمبر: 2129
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «يَا ابْنَ أُخْتِي، يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «اے میرے بھانجے! رضاعت سے بھی وہی چیزیں حرام ہوتی ہیں جو نسب سے حرام ہوتی ہیں»۔
حدیث نمبر: 2130
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ: " جَاءَنِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى يَجِيءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنْتُهُ، فَقَالَ: «يَلِجُ عَلَيْكِ؛ فَإِنَّهُ عَمُّكِ» وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میرے رضاعی چچا نے پردے کے بعد آ کر اجازت مانگی۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر اجازت نہیں دوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اجازت دے دو، وہ تمہارے چچا ہیں»، اور عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتیں: «رضاعت سے وہی چیزیں حرام ہوتی ہیں جو ولادت سے حرام ہوتی ہیں»۔“
حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: امْرَأَةُ أَبِي أَرْضَعَتْ جَارِيَةً مِنْ عَرَضِ النَّاسِ بِلِبَانِ إِخْوَتِي، أَتَرَى أَنْ أَتَزَوَّجَهَا؟ قَالَ: لَا، أَبُوكَ أَبُوهَا. ثُمَّ حَدَّثَ حَدِيثَ أَبِي قُعَيْسٍ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ أَتَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ. فَقَالَ: «هُوَ عَمُّكِ؛ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ» . فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةٌ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: «هُوَ عَمُّكِ؛ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ» . قَالَ: وَسَأَلْتُ طَاوُسًا، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ الْأَوَّلِينَ، وَسَأَلْتُ عَطَاءً، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَسَأَلْتُ الْحَسَنَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ الْأَوَّلِينَ. وَسَأَلْتُ مُجَاهِدًا، فَقَالَ: اخْتَلَفَ فِيهِ الْفُقَهَاءُ فَلَسْتُ أَقُولُ فِيهِ شَيْئًا. وَسَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ مُجَاهِدٍ، وَسَأَلْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي قُعَيْسٍ
مظاہر امیر خان
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ میرے باپ کی بیوی نے میرے بھائی کے دودھ سے کسی لڑکی کو دودھ پلایا ہے، کیا میں اس سے نکاح کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: ”نہیں، تمہارے باپ کا دودھ اس کا باپ بن گیا ہے۔“ اور پھر انہوں نے ابوقعیس کا واقعہ سنایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی کہ رضاعی چچا اندر آ سکتا ہے۔ اور تابعین میں سے طاؤس، عطا، حسن اور مجاہد رحمہم اللہ نے بھی یہی کہا۔
حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ لَبَنَ الْفَحْلِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”فحل (یعنی دودھ دینے والے مرد) کا دودھ (یعنی نسب کے دودھ کے علاوہ) ناجائز ہے۔“
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّهُ كَرِهَ لَبَنَ الْفَحْلِ» .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ فحل کے دودھ (یعنی نسب والے دودھ کے علاوہ) کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2134
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَبْرَةَ الْهَمْدَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ كَرِهَهُ
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ بھی فحل کے دودھ کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2135
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَى بِلَبَنِ الْفَحْلِ بَأْسًا، وَإِنَّ مُجَاهِدًا كَرِهَهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فحل کے دودھ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، مگر حضرت مجاہد رحمہ اللہ اسے ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 2136
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِلَبَنِ الْفَحْلِ بَأْسًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فحل کے دودھ میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2137
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ «أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَى بِهِ بَأْسًا»
مظاہر امیر خان
حضرت ابی قلابة رحمہ اللہ بھی فحل کے دودھ کو درست سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2138
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ، مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ «زَوَّجَ ابْنًا لَهُ أُخْتًا مِنْ أَبِيهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ»
مظاہر امیر خان
سالم بن عبد اللہ رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کا نکاح اپنے رضاعی باپ کی بیٹی سے کر دیا۔
حدیث نمبر: 2139
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ: " إِنَّ فُلَانًا مِنْ آلِ بَنِي فَرْوَةَ أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ غُلَامًا أُخْتَهُ مِنْ أَبِيهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ. قَالَ: «لَا بَأْسَ بِذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بنو فروہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کا نکاح اپنی رضاعی بہن سے کرنا چاہا۔ انہوں نے کہا: ”کوئی حرج نہیں“۔
حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: «كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ مَنْ أَرْضَعَ بَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا مَنْ أَرْضَعَ نِسَاءَ بَنِي أَبِي بَكْرٍ»
مظاہر امیر خان
قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹیوں کو دودھ پلانے والے تھے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر داخل ہوتے تھے، اور جو ابوبکر کے عورتوں کو دودھ پلانے والے تھے وہ نہیں۔
حدیث نمبر: 2141
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو الْأَحْوَصِ، نا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ حَتَّى عَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ. فَقَالَ: «انْظُرْنَ أَخَوَاتِكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے پاس ایک مرد موجود تھا۔ آپ کے چہرے پر غصہ ظاہر ہوا۔ میں نے عرض کیا: یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اپنے رضاعی بھائیوں پر نظر رکھو، کیونکہ رضاعت بھوک کے وقت کی ہوتی ہے»۔“
حدیث نمبر: 2142
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ لَا يَرَيَانِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «وَإِنَّ رُؤْيَتَهُنَّ لَهُمَا تَحِلُّ»
مظاہر امیر خان
محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ازواجِ مطہرات کو نہیں دیکھتے تھے۔“ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ان کے لیے انہیں دیکھنا جائز تھا۔“
حدیث نمبر: 2143
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً وَجَارِيَةً، أَرْضَعَتْ هَذِهِ غُلَامًا، وَهَذِهِ جَارِيَةً , أَيَصْلُحُ لِلْغُلَامِ أَنْ يَتَزَوَّجَ الْجَارِيَةَ؟ فَقَالَ: «لَا يَصْلُحُ، اللِّقَاحُ وَاحِدٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ ایک عورت اور ایک باندی نے ایک غلام کو دودھ پلایا، تو کیا غلام اس باندی سے نکاح کر سکتا ہے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نہیں، کیونکہ ان دونوں کا دودھ ایک ہے۔“
حدیث نمبر: 2144
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ الْغَافِقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَا تَنْكِحَنَّ مَنْ أَرْضَعَتْ أُمُّ أَبِيكَ، وَلَا امْرَأَةُ ابْنِكَ، وَلَا امْرَأَةُ أَخِيكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم اس عورت سے نکاح نہ کرو جسے تمہارے باپ کی ماں نے دودھ پلایا ہو، اور نہ اپنے بیٹے یا اپنے بھائی کی بیوی سے۔“
حدیث نمبر: 2145
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنِ الرَّضَاعِ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ «لَا تَرَى الْمَصَّةَ وَلَا الْمَصَّتَيْنِ شَيْئًا دُونَ عَشْرِ رَضَعَاتٍ فَصَاعِدًا» . ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ الْفِطَامِ قَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكَ طَعَامٌ أَكَلَهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ» ثُمَّ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّضَاعِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ كَمَا يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ. قُلْتُ: كَيْفَ كَانَا يَقُولَانِ؟ فَقَالَ: كَانَا يَقُولَانِ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ. قُلْتُ: كَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ؟ قَالَ: إِنْ كَانَتْ دَخَلَتْ بَطْنَهُ قَطْرَةٌ يَعْلَمُ ذَلِكَ، فَإِنَّهَا عَلَيْهِ حَرَامٌ. قُلْتُ: أَرَأَيْتَ الرَّضَاعَةَ بَعْدَ الْفِطَامِ؟ قَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ طَعَامٌ أَكَلَهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ "
مظاہر امیر خان
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تین یا چار مرتبہ دودھ پینے کو کچھ نہیں سمجھتی تھیں، صرف دس رضاعتیں ہونے کے بعد حرمت قائم ہوتی ہے۔“ اور دودھ پینے کے بعد کے کھانے کو وہ کچھ نہیں سمجھتی تھیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر ایک قطرہ بھی پیٹ میں چلا جائے تو حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2146
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ایک یا دو مرتبہ دودھ پینا حرمت پیدا نہیں کرتا»۔
حدیث نمبر: 2147
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ تَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً أُخْرَى، فَزَعَمَتِ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِي الْأُخْرَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ أَوْ إِمْلَاجَةً أَوْ إِمْلَاجَتَيْنِ. فَقَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ» . أَوْ قَالَ: «الرَّضْعَةُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تھے کہ ایک اعرابی آیا اور کہا: میری پہلی بیوی کہتی ہے کہ اس نے دوسری بیوی کو ایک یا دو بار دودھ پلایا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ایک یا دو مرتبہ دودھ پلانا حرمت پیدا نہیں کرتا»۔“
حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «سَبْعٌ صِهْرٌ، وَسَبْعٌ نَسَبٌ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سات رشتے سسرالی ہیں، سات نسبی ہیں، اور رضاعت سے بھی وہی حرمت پیدا ہوتی ہے جو نسب سے پیدا ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2149
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّهُ يُحَرِّمُ، وَإِنْ كَانَتْ مَصَّةً، وَمَا كَانَتْ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو دودھ دو سال کے اندر پلایا جائے، خواہ ایک گھونٹ ہی ہو، وہ حرمت پیدا کرتا ہے، اور جو دو سال کے بعد ہو وہ کچھ بھی نہیں۔“
حدیث نمبر: 2150
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُشَيْمٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «مَا كَانَ مِنْ وَجُورٍ أَوْ سَعُوطٍ فِي الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّهُ يُحَرِّمُ، وَمَا كَانَ مِنْ بَعْدُ فَإِنَّهُ لَا يُحَرِّمُ» قَالَ هُشَيْمٌ: الْحَوْلَيْنِ
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”دو سال کے اندر اگر ناک یا حلق کے ذریعے دودھ جسم میں جائے تو حرمت پیدا ہوتی ہے، دو سال کے بعد نہیں۔“
حدیث نمبر: 2151
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ، مَا أَنْشَزَ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رضاعت صرف وہی ہے جو دو سال کے اندر ہو، جو ہڈیوں کو مضبوط اور گوشت کو پیدا کرے۔“
حدیث نمبر: 2152
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ رَجُلًا حُصِرَ اللَّبَنُ فِي ثَدْيِ امْرَأَتِهِ، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ ثُمَّ يَمُجُّهُ، فَدَخَلَ فِي حَلْقِهِ، فَأَتَى الْأَشْعَرِيَّ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: «لَا تَقْرَبِ امْرَأَتَكَ» فَقِيلَ: ائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ. فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ الْأَشْعَرِيُّ قَالَ: «هَا إِنَّمَا هَذَا طَيِّبٌ لَيْسَ بِحَرَامٍ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے اپنی بیوی کے دودھ کو چوس کر تھوکا، کچھ حلق میں چلا گیا۔ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اپنی بیوی کے قریب نہ جا“، مگر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”یہ صرف پاک چیز ہے، حرام نہیں۔“
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «نَزَلَ الْقُرْآنُ بِعَشْرِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، ثُمَّ كُنَّ خَمْسًا»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”قرآن میں پہلے دس معروف رضاعتیں نازل ہوئیں، پھر یہ پانچ رہ گئیں۔“
حدیث نمبر: 2154
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْمَهْدِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رضاعت صرف اس وقت معتبر ہے جب بچہ گہوارے میں ہو۔“
حدیث نمبر: 2155
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رضاعت وہی معتبر ہے جو آنتوں کو چاک کرے (یعنی کھانے جیسا اثر کرے)۔“
حدیث نمبر: 2156
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: " لَا تُحَرِّمُ الْعَيْفَةُ. قِيلَ: وَمَا الْعَيْفَةُ؟ قَالَ: الْمَرْأَةُ يُحْصَرُ فِي ثَدْيِهَا اللَّبَنُ، فَتُرْضِعُ وَلَدَ جَارٍ لَهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”صرف عارضی دودھ پلانا حرمت پیدا نہیں کرتا۔“
حدیث نمبر: 2157
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رضاعت صرف دو سال کے اندر معتبر ہے۔“
حدیث نمبر: 2158
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، أنا خُصَيْفٌ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: «يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ»
مظاہر امیر خان
حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایک یا دو مرتبہ دودھ پینا بھی حرمت پیدا کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2159
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: " كَانَ الَّذِي قَالُوا ثَمَّ: الْمَزَّةُ الْوَاحِدَةُ تُحَرِّمُ "
مظاہر امیر خان
حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایک مرتبہ دودھ پینا بھی حرمت کا سبب بن جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2160
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «الْمَزَّةُ الْوَاحِدَةُ مِنَ الرَّضَاعِ تُحَرِّمُ»
مظاہر امیر خان
ابن طاؤس سے روایت ہے کہ ان کے والد فرماتے تھے: ”ایک مرتبہ دودھ پینا بھی حرمت پیدا کرتا ہے۔“
…