حدیث نمبر: 2099
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَلَمْ يُفْرَضْ لَهَا صَدَاقًا قَالَ: «لَهَا الْمِيرَاثُ، وَلَا صَدَاقَ لَهَا» .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر شوہر فوت ہو جائے اور عورت کے لیے مہر مقرر نہ کیا ہو، تو عورت کو میراث ملے گی، مگر مہر نہیں۔“
حدیث نمبر: 2100
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
یہی بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2101
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ: «لَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَا صَدَاقَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورت پر عدت ہے، اسے میراث ملے گی، مگر مہر نہیں۔“
حدیث نمبر: 2102
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ زَوَّجَ ابْنًا لَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَابْنُهُ صَغِيرٌ يَوْمَئِذٍ وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، فَمَكَثَ الْغُلَامُ مَا مَكَثَ، ثُمَّ مَاتَ، فَخَاصَمَ خَالُ الْجَارِيَةِ ابْنَ عُمَرَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِزَيْدٍ: " إِنِّي زَوَّجَتُ ابْنِي وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي أَنْ أَصْنَعَ بِهِ خَيْرًا، فَمَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ، وَلَمْ يَفْرِضْ لِلْجَارِيَةِ صَدَاقًا. فَقَالَ زَيْدٌ: فَلَهَا الْمِيرَاثُ إِنْ كَانَ لِلْغُلَامِ مَالٌ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَا صَدَاقَ لَهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے نابالغ بیٹے کا نکاح اپنی بھتیجی سے کیا، بغیر مہر مقرر کیے، پھر بیٹا فوت ہو گیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا: ”عورت کو میراث ملے گی، لیکن مہر نہیں۔“
حدیث نمبر: 2103
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَا فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا فَمَاتَ، قَالَا: «لَهَا الْمِيرَاثُ، وَلَا صَدَاقَ لَهَا» قَالَ مَسْرُوقٌ: «مَا كَانَ مِيرَاثٌ قَطُّ إِلَّا وَكَانَ قَبْلَهُ صَدَاقٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ایسی عورت کو میراث ملے گی، لیکن مہر نہیں۔“ مسروق رحمہ اللہ نے کہا: ”کبھی بھی میراث نہیں ملی مگر مہر کے بعد۔“
حدیث نمبر: 2104
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: ذُكِرَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَذَا لِمَسْرُوقٍ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: «مَا كَانَ مِيرَاثٌ قَطُّ إِلَّا وَبَيْنَ يَدَيْهِ صَدَاقٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت عبداللہ بن عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”ایسی عورت کو میراث ملے گی، لیکن مہر نہیں۔“ مسروق رحمہ اللہ نے کہا: ”کبھی بھی میراث نہیں ملی مگر مہر کے بعد۔“
حدیث نمبر: 2105
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: زَوَّجَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ، فَمَاتَتِ الْجَارِيَةُ قَبْلَ أَنْ يَفْرِضَ لَهَا صَدَاقًا، فَسَأَلَتْ أُمُّهَا صَدَاقَهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ. فَاخْتَصَمُوا إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَقَالَ: «لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ»
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کبھی بھی میراث نہیں ہوتی مگر اس سے پہلے مہر ہوتا ہے۔“
وضاحت:
عطاف بن خالد المخزومي، صدوق، بعض نے کہا: "فيه لين"، مگر امام احمد نے کہا: "لا بأس به"۔ سند حسن ہے، خصوصاً اس لیے کہ نافع کی روایت ہے، اور عطاف پر بڑی جرح نہیں ہے۔ یہ عملی واقعہ اور قضیہ ہے، جو کہ ثقہ تابعی کے ذریعے روایت ہوا۔
حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ أُتِيَ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَأَتَوَا ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: " الْتَمِسُوا، فَلَعَلَّكُمْ أَنْ تَجِدُوا فِي ذَلِكَ أَثَرًا. فَأَتَوْا ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالُوا: قَدِ الْتَمَسْنَا فَلَمْ نَجِدْ. فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَرَى لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا، وَلَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ. فَقَامَ أَبُو سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ بِمِثْلِ مَا قُلْتَ. فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بِمُوَافَقَتِهِ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
مظاہر امیر خان
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب لڑکی فوت ہو گئی اور مہر مقرر نہیں تھا، تو اس کی ماں نے مہر کا مطالبہ کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مہر نہیں، صرف میراث ہے۔“
حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا سَيَّارٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَدَاوُدُ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا: قَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأُمِّيِّ أَنَّهُ قَضَى بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ. قَالَ هُشَيْمٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ
مظاہر امیر خان
دوسرے راوی نے بھی یہی بات بیان کی، بس فرق یہ کہ معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کا نام لیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی گواہی دی۔ ہشیم نے کہا: ”ہم اسی پر عمل کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، نا أَبُو إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ، عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لَا يُقْبَلُ قَوْلُ أَعْرَابِيٍّ مِنْ أَشْجَعَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کسی اعرابی کی گواہی کتاب اللہ کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 2109
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «بَابٌ مِنَ الطَّلَاقِ جَسِيمٌ، إِذَا وَرِثَتِ الْمَرْأَةُ اعْتَدَّتْ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلاق کے باب میں یہ اہم مسئلہ ہے کہ جب عورت میراث لے تو اسے عدت گزارنی ہوگی۔“
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي امْرَأَةٍ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا قَالَ: «لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا کہ جس عورت سے نکاح ہوا اور مہر مقرر نہیں ہوا اور شوہر فوت ہو گیا تو اسے مہر مثل دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 2111
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى النَّاسِ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، وَقَبْلَ أَنْ يَفْرِضَ لَهَا «أَنَّ لَهَا نِصْفَ الصَّدَاقِ، وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا، وَلَا مِيرَاثَ لَهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے لکھا: ”اگر مرد نے نکاح کیا، پھر دخول اور مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دی، تو عورت کو آدھا مہر ملے گا، عدت نہیں ہوگی اور نہ ہی میراث ملے گی۔“