حدیث نمبر: 2084
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ أَمَتَهُ وَتَزَوَّجَهَا، فَقِيلَ لِأَنَسٍ: مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا، جَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حُيي رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان سے نکاح کیا، اور ان کا مہر ان کا آزادی ہی قرار دیا۔“
حدیث نمبر: 2085
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا، وَأَعْتَقَ مَنْ سَبَى مِنْ قَوْمِهَا مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کا مہر ان کی آزادی ہی قرار دیا۔“
حدیث نمبر: 2086
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ جُوَيْرِيَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَفْخَرْنَ عَلَيَّ، يَقُلْنَ: لَمْ يَتَزَوَّجْكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: «أَوَلَمْ أُعْظِمْ صَدَاقَكِ؟ أَلَمْ أُعْتِقْ أَرْبَعِينَ مِنْ قَوْمِكِ» ؟
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ ازواجِ مطہرات فخر کرتی ہیں کہ نکاح نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے تمہارا مہر عظیم نہیں کیا؟ میں نے تمہاری قوم کے چالیس افراد کو آزاد کیا۔“
حدیث نمبر: 2087
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُعْطَوْنَ أُجُورَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِمَا جَاءَ بِهِ عِيسَى وَبِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدٌ أَطَاعَ رَبَّهُ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ، وَرَجُلٌ أَعْتَقَ جَارِيَةً ثُمَّ تَزَوَّجَهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا یحییٰ بن جعدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ دوگنا اجر پائیں گے: وہ کتابی جو اپنے نبی پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا، غلام جو اپنے رب اور مالک دونوں کی اطاعت کرے، اور وہ شخص جو اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرے۔“
حدیث نمبر: 2088
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُعْطَوْنَ أُجُورَهُمْ مَرَّتَيْنِ: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُعْتِقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا، وَالْعَبْدُ يُطِيعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُؤَدِّي حَقَّ سَيِّدِهِ، وَمُؤْمِنُ أَهْلِ الْكِتَابِ "
مظاہر امیر خان
یہی روایت دوسرے طریق سے بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ دوہرا اجر پائیں گے۔“
حدیث نمبر: 2089
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي «الَّذِي يُعْتِقُ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی باندی کو آزاد کر کے نکاح کرے، اسے دوگنا اجر ملے گا۔“
حدیث نمبر: 2090
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا صَالِحُ بْنُ حَيٍّ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الشَّعْبِيِّ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ. فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ ثُمَّ اتَّبَعَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ سَيِّدِهِ عَلَيْهِ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ غَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ "، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ: خُذْهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فِيمَا هُوَ أَدْنَى مِنْهُ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک خراسانی نے شکایت کی کہ لوگ کہتے ہیں لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کرنا ایسا ہے جیسے قربانی کا جانور سوار ہو، تو شعبی رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی اور فرمایا: ”ایسی بات بغیر معاوضے کے لے لو۔“
حدیث نمبر: 2091
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَمْرٍو، إِنَّا نَقُولُ: إِنَّ الَّذِيَ يُعْتِقُ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُ بِهَا فَهُوَ كَرَاكِبٍ بَدَنَتَهُ. فَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ سَيِّدِهِ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ كَانَ مُؤْمِنًا ثُمَّ آمَنَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ»، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ: أَعْطَيْتُكُهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ بِأَهْوَنَ مِنْ هَذَا
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ایک خراسانی کے سوال کے جواب میں یہی حدیث دوبارہ بیان کی اور فرمایا: ”یہ بات تمہیں بغیر معاوضے کے ملی، اس جیسی بات کے لیے مدینہ تک سفر کیا جاتا تھا۔“
حدیث نمبر: 2092
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ مُحَرَّرَتَهُ: «فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ» قَالَ: وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ وَأَصْحَابُنَا «لَا يَرَوْنَ بِذَلِكَ بَأْسًا، وَكَانَ أَحَبَّ ذَلِكَ إِلَيْهِمْ أَنْ يَجْعَلُوا عِتْقَهَا صَدَاقَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”جو اپنی آزاد کردہ باندی سے نکاح کرے، وہ ایسا ہے جیسے قربانی کا جانور سوار ہو۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور ان کے ساتھی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور پسند کرتے تھے کہ آزادی ہی کو مہر بنایا جائے۔
حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يُعْتِقُ الْجَارِيَةَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: «هُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ» قَالَ: وَكَانَ أَعْجَبَ ذَاكَ إِلَى أَصْحَابِنَا أَنْ يَجْعَلُوا عِتْقَهَا صَدَاقَهَا
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا کہ اگر آزاد کر کے نکاح کرے تو وہ ایسا ہے جیسے قربانی کے جانور پر سوار ہو، اور پسند یہ تھا کہ آزادی مہر ہو۔
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، «أَنَّهُ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَجْعَلَ لَهَا مَعَ عِتْقِهَا شَيْئًا مَا كَانَ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ آزادی کے ساتھ کچھ اور چیز بھی دی جائے۔
حدیث نمبر: 2095
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَجْعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ آزادی کو مہر بنانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2096
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: وَأنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ «أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا بِذَلِكَ بَأْسًا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی، ابراہیم نخعی، حسن بصری اور حضرت عطا رحمہم اللہ کا بھی یہی قول تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 2097
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا شَرِيكُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " لَا يَقُلْ: قَدْ أَعْتَقْتُكِ وَتَزَوَّجْتُكِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: أَعْتَقْتُكِ عَلَى أَنْ أَتَزَوَّجَكِ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”آدمی کو یوں کہنا چاہیے: میں نے تمہیں آزاد کیا اس شرط پر کہ میں تم سے نکاح کروں، نہ کہ یہ کہ میں نے تمہیں آزاد کیا اور نکاح کیا۔“
حدیث نمبر: 2098
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَمَتِهِ: قَدْ أَعْتَقْتُكِ وَتَزَوَّجْتُكِ، فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِذَا قَالَ: أُعْتِقُكِ وَأَتَزَوَّجُكِ فَأَعْتَقَهَا، فَإِنْ شَاءَتْ تَزَوَّجَتْهُ، وَإِنْ شَاءَتْ لَمْ تَزَوَّجْهُ "
مظاہر امیر خان
حضرت عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مرد اپنی باندی سے کہے: میں نے تمہیں آزاد کیا اور تم سے نکاح کیا، تو وہ اس کی بیوی ہے۔ اور اگر کہے: میں تمہیں آزاد کروں گا اور پھر نکاح کروں گا، تو جب آزاد کرے تو اگر وہ چاہے نکاح کرے، چاہے نہ کرے۔“