حدیث نمبر: 2062
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَهَا ابْنَةٌ وَلَهُ ابْنٌ مِنْ غَيْرِهَا، فَفَجَرَ بِهَا، فَقَدِمَ عُمَرُ مَكَّةَ، فَرَفَعَهُمَا إِلَيْهِ فَحَدَّهُمَا، وَحَرَصَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَأَبَى ذَلِكَ الْغُلَامُ
مظاہر امیر خان
ایک مرد نے ایک عورت سے نکاح کیا جس کی ایک بیٹی تھی اور اس مرد کا بیٹا دوسری عورت سے تھا۔ بیٹے نے اپنی سوتیلی بہن سے بدکاری کی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لائے تو معاملہ ان کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ نے دونوں کو حد جاری کی اور ان کے نکاح کی کوشش کی، مگر بیٹے نے انکار کر دیا۔
حدیث نمبر: 2063
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ فَجَرَ بِامْرَأَةٍ، أَيَنْكِحُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، ذَاكَ حِينَ أَصَابَ الْحَلَالَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ جو مرد عورت سے بدکاری کرے، کیا وہ نکاح کر سکتا ہے؟ فرمایا: ”ہاں، جب وہ حلال طریقے سے نکاح کرے۔“
حدیث نمبر: 2064
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ زَنَى بِامْرَأَةٍ، يَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: «ذَاكَ حِينَ أَجَادَ أَمْرُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب وہ اس عورت سے نکاح کرے اور اس کا معاملہ درست ہو جائے تو نکاح ہو جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2065
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «الْأَوَّلُ سِفَاحٌ، وَالْآخَرُ نِكَاحٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”پہلا عمل سفاح (بدکاری) تھا، اور دوسرا نکاح ہے۔“
حدیث نمبر: 2066
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، نا أَبُو هِشَامٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَاكَ، فَقَالَ: «أَوَّلُهُ سِفَاحٌ، وَآخِرُهُ نِكَاحٌ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی بات سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی روایت کی کہ: ”پہلا عمل سفاح اور دوسرا نکاح ہے۔“
حدیث نمبر: 2067
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ.
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی بات ابو بشر رحمہ اللہ نے بھی روایت کی۔
حدیث نمبر: 2068
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا حُصَيْنٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی بات حصین رحمہ اللہ نے بھی روایت کی۔
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «أَوَّلُهُ سِفَاحٌ، وَآخِرُهُ نِكَاحٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”پہلا عمل سفاح تھا اور دوسرا نکاح۔“
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو نَعَامَةَ الضَّبِّيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: «أَوَّلُهُ سِفَاحٌ، وَآخِرُهُ نِكَاحٌ، حَلَّتْ لَهُ بِمَالِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”پہلا عمل سفاح تھا اور دوسرا نکاح، اور عورت اس کے لیے اپنے مال کے بدلے حلال ہوئی۔“
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا قَالَ: «مَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَخَذَ مِنْ ثَمَرِ نَخْلَةٍ بِغَيْرِ أَمْرِ صَاحِبِهَا فَكَانَ حَرَامًا، ثُمَّ اشْتَرَاهَا فَكَانَ لَهُ حَلَالًا»
مظاہر امیر خان
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو مرد عورت سے بدکاری کرے اور پھر نکاح کرے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی درخت سے پھل بغیر اجازت توڑ لے، تو یہ حرام ہے، پھر اگر وہ خرید لے تو وہ حلال ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2072
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُهُ مَثَلُ رَجُلٍ أَتَى بَيْدَرًا وَأَخَذَ مِنْهَا بِغَيْرِ أَمْرِ صَاحِبِهَا فَكَانَ حَرَامًا، ثُمَّ اشْتَرَاهُ فَكَانَ حَلَالًا»
مظاہر امیر خان
حضرت امام محمد بن علی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی کھلیان سے بغیر اجازت غلہ لے لے، پھر خرید کر حلال کر لے۔“
حدیث نمبر: 2073
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا قَالَ: «لَا يَزَالَانِ زَانِيَيْنِ مَا اجْتَمَعَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر مرد اور عورت پہلے بدکاری کریں اور پھر نکاح کریں تو جب تک وہ ساتھ رہیں گے، بدکار شمار ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 2074
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَدَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «هُمَا زَانِيَانِ مَا اضْطَجَعَا»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب تک وہ اکٹھے بستری کریں گے، زانی شمار ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 2075
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْجَهْمِ الْكِنْدِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «هُمَا زَانِيَانِ مَا اجْتَمَعَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک وہ ساتھ ہوں گے زانی رہیں گے۔“
حدیث نمبر: 2076
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ، قَالَ: نا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، قَالَتْ: «حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ایسا نکاح قیامت تک حرام ہے۔“
حدیث نمبر: 2077
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} [الشورى: 25]
مظاہر امیر خان
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ» [الشورى: 25]
حدیث نمبر: 2078
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَلْقَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: رَجُلٌ فَجَرَ بِامْرَأَةٍ، أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. وَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} [الشورى: 25]
مظاہر امیر خان
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ مرد اگر عورت سے بدکاری کرے تو کیا اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ فرمایا: ”ہاں“، اور یہ آیت تلاوت فرمائی: «وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ» [الشورى: 25]
حدیث نمبر: 2079
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: امْتَرَيْنَا فِي قِرَاءَةِ هَذَا الْحَرْفِ: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} [الشورى: 25] أَوْ (يَفْعَلُونَ)، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ لِأَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَجُلٌ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ حَرَامًا، ثُمَّ تَابَا وَأَصْلَحَا، أَيَتَزَوَّجُهَا؟ فَتَلَا عَبْدُ اللَّهِ: (وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا يَفْعَلُونَ) .
مظاہر امیر خان
بُکیر بن الأخنس کہتے ہیں کہ ہم نے اس آیت کی قراءت میں اختلاف کیا، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ وہاں ایک آدمی آیا اور پوچھا: ایک مرد اور عورت نے حرام کاری کی، پھر توبہ کر لی، کیا نکاح کر سکتے ہیں؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت تلاوت کی اور اجازت دی۔
حدیث نمبر: 2080
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، نا أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ الْكَلْبِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَهُ، فَقَالَ: لِيَتَزَوَّجْهَا
مظاہر امیر خان
بکیر بن الأخنس نے اپنے والد سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہی فتویٰ نقل کیا کہ وہ نکاح کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2081
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زِيْدٍ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، قَالَ: «هُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایسا مرد اس عورت کا زیادہ حق دار ہے۔“
حدیث نمبر: 2082
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَتَّابٌ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «إِذَا زَنَى الرَّجُلُ بِالْمَرْأَةِ لَمْ يَصْلُحْ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مرد عورت سے زنا کرے تو وہ اس کے نکاح کے لائق نہیں۔“
حدیث نمبر: 2083
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ عِكْرِمَةَ عَنْ رَجُلٍ فَجَرَ بِامْرَأَةٍ، فَرَآهَا تُرْضِعُ جَارِيَةً، أَيَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ الْجَارِيَةَ؟ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَا
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مرد نے عورت سے بدکاری کی اور پھر اسے کسی بچی کو دودھ پلاتے دیکھے تو اس بچی سے نکاح جائز نہیں۔“