حدیث نمبر: 2051
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ قَالَ: «يُشْهِدُونَ رَجُلًا آخَرَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر کسی نے مرد اور عورت کی گواہی سے نکاح کیا ہو تو ایک اور مرد کو گواہ بنائیں۔“
حدیث نمبر: 2052
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّهُ أَجَازَ شَهَادَةَ النِّسَاءِ مَعَ الرَّجُلِ فِي النِّكَاحِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کے ساتھ نکاح میں قبول فرمایا۔
حدیث نمبر: 2053
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَمُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ «أَنَّهُ كَانَ يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ مَعَ الرَّجُلِ فِي النِّكَاحِ وَالطَّلَاقِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نکاح اور طلاق دونوں میں عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کے ساتھ جائز سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2054
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ عَلَى الطَّلَاقِ وَلَا عَلَى الْحُدُودِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ طلاق اور حدود میں عورتوں کی گواہی کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2055
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ عَلَى الْحُدُودِ، وَالطَّلَاقُ مِنْ أَشَدِّ الْحُدُودِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حدود پر عورتوں کی گواہی جائز نہیں، اور طلاق بھی حدود میں سے سخت حد ہے۔“
حدیث نمبر: 2056
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ عَلَى الطَّلَاقِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طلاق پر عورتوں کی گواہی جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 2057
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شَهَادَةِ، رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ عَلَى الطَّلَاقِ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «لَوْ شَهِدَ تَمِيمُ بْنُ سَلَمَةَ وَكَذَا وَكَذَا امْرَأَةً عَلَى الطَّلَاقِ لَمْ يَجُزْ ذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر تمیم بن سلمہ اور اتنی اتنی عورتیں طلاق پر گواہی دیں تو یہ جائز نہ ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2058
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ النِّسَاءِ عَلَى الْحُدُودِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حدود پر عورتوں کی گواہی جائز نہیں۔“