کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: محرم عورت سے نکاح کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2015
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ ذَاتَ مَحْرَمٍ مِنْهُ قَالَ: «إِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الصَّدَاقُ، وَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَا صَدَاقَ لَهَا، وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا» وَقَالَ حَمَّادٌ: «لَهَا مَا أَخَذَتْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی محرم عورت سے نکاح کر لے اور دخول کرے تو عورت کو مہر ملے گا، اگر دخول نہ کرے تو مہر نہیں ملے گا، اور دونوں میں جدائی کرا دی جائے گی۔” اور حضرت حماد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو کچھ عورت نے لے لیا وہ اس کا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2015
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 838، 839، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17617، 17619، 17621»
حدیث نمبر: 2016
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «إِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا بَطَلَ الصَّدَاقُ، وَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا مَا سَمَّاهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر دخول نہ ہوا تو مہر باطل ہوگا، اور اگر دخول ہوا تو جو مہر مقرر کیا گیا وہ عورت کو ملے گا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2016
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 838، 839، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17617، 17619، 17621»
حدیث نمبر: 2017
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا فَلَا شَيْءَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا مَا أَخَذَتْ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر دخول نہ ہوا تو عورت کا کوئی حق نہیں، اور اگر دخول ہوا تو جو کچھ لے چکی ہے وہ اس کا حق ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2017
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 840، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17618»
حدیث نمبر: 2018
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «لَا شَيْءَ لَهَا، دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، أَيُصْدِقُ الرَّجُلُ أُخْتَهُ أَوْ أُمَّهُ؟»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عورت کے لیے کچھ نہیں، چاہے دخول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، کیا کوئی آدمی اپنی بہن یا ماں کو مہر دیتا ہے؟“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2018
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 841، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17620»
حدیث نمبر: 2019
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، فِي رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَوَجَدَهَا أُخْتَهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَلَمْ يَعْلَمْ قَالَ: " إِذَا لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا فَلَا نِكَاحَ بَيْنَهُمَا وَيَقْبِضُ مَالَهُ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا وَرَأَى مِنْهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ وَلَمْ يَمَسَّهَا، وَجَبَ مَهْرُهَا كَامِلًا، وَإِنْ كَانَ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا وَأَعْطَاهَا نِصْفَ الصَّدَاقِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أُخْتُهُ، ثُمَّ عَلِمَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ: أَرَى أَنْ تَرُدَّ إِلَيْهِ مَا أَخَذَتْ مِنْهُ، وَلَمْ أَسْمَعْ فِيهِ شَيْئًا، وَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ إِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا، وَإِنْ تُوُفِّيَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فَلَا مِيرَاثَ بَيْنَهُمَا "
مظاہر امیر خان
حضرت مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ اس کی رضاعی بہن ہے، تو اگر دخول نہ ہوا ہو تو نکاح باطل ہے اور مال واپس لیا جائے گا، اور اگر دخول ہوا ہو یا اس نے اس عورت سے وہ کچھ دیکھا ہو جو مرد اپنی بیوی سے دیکھتا ہے تو مہر پورا واجب ہوگا، اور اگر طلاق دے دی تھی اور آدھا مہر دے دیا تھا اور بعد میں حقیقت معلوم ہوئی تو جو کچھ عورت نے لیا ہو وہ واپس کرے گی۔ عدت مطلقہ کی عدت ہوگی اور ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2019
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2020
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَأَعْطَاهَا صَدَاقَهَا، وَكَانَتْ أُخْتَهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَلَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا قَالَ: «تَرُدُّ إِلَيْهِ مَالَهُ الَّذِي أَعْطَاهَا وَيَفْتَرِقَانِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر مرد نے اپنی رضاعی بہن سے نکاح کر لیا اور مہر دے دیا مگر دخول نہیں کیا تو مال عورت واپس کرے اور دونوں میں جدائی کر دی جائے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب النكاح / حدیث: 2020
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»