حدیث نمبر: 1964
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «يَنْكِحُ الْعَبْدُ أَرْبَعًا»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام چار نکاح کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1965
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «يَنْكِحُ الْعَبْدُ اثْنَيْنِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام دو نکاح کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1966
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ غُلَامًا لَهُ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ أَمْرِهِ فَضَرَبَهُمَا الْحَدَّ وَأَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ كَانَ أَعْطَاهَا وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے ایک غلام نے ان کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو انہوں نے دونوں کو حد لگائی اور جو کچھ غلام نے اپنی بیوی کو دیا تھا وہ واپس لے لیا اور دونوں کے درمیان تفریق کر دی۔
حدیث نمبر: 1967
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِإِذْنِ مَوْلَاهُ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ، وَإِذَا تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنٍ مَوْلَاهُ ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِ مَوْلَاهُ، فَأَنْكَرَ تَزْوِيجَهُ يُفَرَّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَيَأْخُذُ مَوْلَاهُ مَا وَجَدَ مِنْ مَهْرِهَا بِعَيْنِهِ، وَمَا اسْتَهْلَكَتْهُ فَهُوَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ أَحَدٌ غَرَّ الْمَرْأَةَ فَعَلَيْهِ لَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر غلام اپنے آقا کی اجازت سے نکاح کرے تو طلاق کا اختیار غلام کے ہاتھ میں ہے، اور اگر بغیر اجازت نکاح کرے اور آقا کو اس نکاح کا علم ہو جائے تو اگر وہ انکار کرے تو غلام اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کر دی جائے گی۔ اور جو کچھ آقا کو اس کی بیوی کے مہر میں “‘ سے ملے وہ آقا کو واپس کر دیا جائے گا، اور جو چیز عورت نے استعمال کر لی ہو وہ اس کی ملکیت ہو جائے گی۔ اگر کسی نے عورت کو دھوکہ دیا ہو تو اس پر عورت کا مثل مہر واجب ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1968
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَحُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: «إِذَا تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُ فَالْأَمْرُ إِلَى الْمَوْلَى، إِنْ شَاءَ أَنْ يُجِيزَ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّ، وَإِذَا تَزَوَّجَ بِأَمْرِهِ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ، ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو معاملہ مالک کے ہاتھ میں ہے، چاہے تو نکاح کو برقرار رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے۔ اور اگر مالک کی اجازت سے نکاح کیا ہو تو طلاق غلام کے اختیار میں ہے۔“
حدیث نمبر: 1969
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا فَرَّقَ الْمَوْلَى بَيْنَهُمَا، فَلَهَا مَا أَخَذَتْ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْهَا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مالک نے دونوں کے درمیان تفریق کر دی تو عورت کو اس قدر ملے گا جتنا اس سے استمتاع کے بدلے لیا تھا۔“
حدیث نمبر: 1970
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا فَرَّقَ الْمَوْلَى بَيْنَهُمَا فَإِنْ وَجَدَ عِنْدَهَا مِنْ عَيْنِ مَالِ غُلَامِهِ فَهُوَ لَهُ، وَمَا اسْتَهْلَكَتْ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب مالک تفریق کرے اور عورت کے پاس غلام کا مال بعینہٖ موجود ہو تو وہ مالک کو لوٹایا جائے گا، اور جو چیز عورت نے استعمال کر لی ہو اس پر کوئی ضمان نہیں۔“
حدیث نمبر: 1971
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَا اسْتَهْلَكَتْ فَهُوَ دَيْنٌ عَلَيْهَا»، قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو چیز عورت نے خرچ کر دی ہو وہ اس کے ذمے قرض ہوگی۔“ ہشیم نے کہا: ”یہی صحیح قول ہے۔“
حدیث نمبر: 1972
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَالْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَحَجَّاجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَحُصَيْنٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: «إِذَا تَزَوَّجَ بِأَمْرِ مَوْلَاهُ فَالطَّلَاقُ بِيَدِهِ، وَإِذَا تَزَوَّجَ بِغَيْرِ أَمْرِهِ فَالْأَمْرُ إِلَى الْمَوْلَى إِنْ شَاءَ جَمَعَ وَإِنْ شَاءَ فَرَّقَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت شریح رحمہ اللہ، ابراہیم نخعی رحمہ اللہ، حسن رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ سب نے فرمایا: ”اگر غلام مالک کے حکم سے نکاح کرے تو طلاق کا اختیار غلام کو ہوگا، اور اگر بغیر حکم کے نکاح کرے تو معاملہ مالک کے ہاتھ میں ہے، چاہے تو ساتھ رکھے اور چاہے تو جدا کر دے۔“
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ غُلَامًا تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى الْأَشْعَرِيِّ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَصْدَقَهَا خَمْسَ ذَوْدٍ , فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَيْهِ: «أَنْ أَعْطِهَا ثَلَاثَةً وَخُذْ مِنْهَا اثْنَيْنِ أَوْ أَعْطِهَا اثْنَيْنِ وَخُذْ مِنْهَا ثَلَاثًا»
مظاہر امیر خان
ح(from the previous message) ضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے: ایک غلام نے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، تو معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، اور غلام نے مہر میں پانچ اونٹنیاں مقرر کی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”تین اونٹنیاں عورت کو دو، اور دو واپس لے لو، یا دو اونٹنیاں دو اور تین واپس لو۔“
حدیث نمبر: 1974
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: «يَجُوزُ طَلَاقُ الْعَبْدِ، وَلَا يَجُوزُ نِكَاحُهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام کی طلاق جائز ہے، لیکن اس کا نکاح (بغیر مالک کی اجازت کے) جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 1975
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: «إِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ عَبْدَهُ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اپنی لونڈی کو اپنے غلام سے نکاح کرائے تو طلاق کا اختیار غلام کو حاصل ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «يَنْزِعُهَا مِنْهُ إِنْ شَاءَ بِغَيْرِ طَلَاقٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مالک چاہے تو بغیر طلاق کے غلام اور اس کی بیوی میں تفریق کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1977
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «الْأَمْرُ إِلَى الْمَوْلَى أَذِنَ لَهُ، أَوْ لَمْ يَأْذَنْ لَهُ»، وَيَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ {ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ} [النحل: 75]
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”غلام کا معاملہ اس کے مالک کے ہاتھ میں ہے، خواہ مالک نے اجازت دی ہو یا نہ دی ہو۔“ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: «ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ» (النحل: 75)۔
حدیث نمبر: 1978
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانُوا يُكْرِهُونَ الْمَمْلُوكَ عَلَى النِّكَاحِ وَيُدْلُونَهُ مَعَ امْرَأَتِهِ الثَّيِّبِ ثُمَّ يُغْلِقُونَ عَلَيْهِمَا الْبَابَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”لوگ غلام کو نکاح پر مجبور کرتے، اسے کسی بیوہ عورت کے ساتھ بٹھاتے، پھر دونوں پر دروازہ بند کر دیتے۔“
حدیث نمبر: 1979
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَبْدِ إِذَا تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، قَالَ: «فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْمَوْلَى، إِنْ شَاءَ أَجَازَ وَإِنْ شَاءَ رَدَّ، وَلِلْمَوْلَى مَا وَجَدَ مِنْ عَيْنِ مَالِهِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب غلام مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو طلاق مالک کے اختیار میں ہے، چاہے نکاح کو برقرار رکھے یا فسخ کرے، اور مالک کو غلام کے مال میں جو چیز بعینہٖ ملے وہ واپس لینے کا حق ہے۔“
حدیث نمبر: 1980
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَبْدِ إِذَا تَزَوَّجَ بِإِذْنِ مَوَالِيهِ قَالَ: «الطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر غلام مالک کی اجازت سے نکاح کرے تو طلاق غلام کے اختیار میں ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1981
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا، فَبَعَثَ إِلَيْهَا شَيْئًا فَقَبِلَتْهُ، فَدَخَلَ بِهَا، ثُمَّ طَلَبَتْ صَدَاقَهَا قَالَ: «لَيْسَ ذَاكَ لَهَا إِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا وَرَضِيَتْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مرد نے عورت سے نکاح کیا اور مہر مقرر نہ کیا، پھر کچھ ہدیہ دیا اور عورت نے قبول کر لیا، اور دخول کر لیا، پھر عورت نے مہر کا مطالبہ کیا تو اگر راضی ہو چکی ہو تو اس کا مطالبہ درست نہیں۔“
حدیث نمبر: 1982
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «إِذَا أَذِنَ السَّيِّدُ فِي النِّكَاحِ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر آقا نکاح کی اجازت دے دے تو طلاق کا اختیار غلام کو حاصل ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1983
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، أَنَّ غُلَامًا لِابْنِ عَبَّاسٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: " رَاجِعْهَا. فَأَبَى، فَقَالَ: هِيَ لَكَ اسْتَحِلَّهَا بِمِلْكِ الْيَمِينِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اسے رجوع کر لو۔“ اس نے انکار کیا، تو فرمایا: ”اب اسے بملک یمین حلال کرو۔“
حدیث نمبر: 1984
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " لَيْسَ لِلْعَبْدِ طَلَاقٌ إِلَّا بِإِذْنِ سَيِّدِهِ. قَالَ: وَذَكَرَ: {ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ} [النحل: 75]
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”غلام کو بغیر آقا کی اجازت طلاق دینے کا اختیار نہیں۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ» [النحل: 75]۔
حدیث نمبر: 1985
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: «أَهْلُ الْحِجَازِ أَوْ بَعْضُهُمْ لَا يَرَوْنَ لِلْمَمْلُوكِ تَزْوِيجًا وَلَا طَلَاقًا إِلَّا بِإِذْنِ مَوْلَاهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اہل حجاز یا ان میں سے بعض کے نزدیک غلام کا نکاح اور طلاق بغیر مالک کی اجازت کے درست نہیں۔“
حدیث نمبر: 1986
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ الرَّجُلِ يَأْذَنُ لِعَبْدٍ فِي التَّزْوِيجِ، بِيَدِ مَنِ الطَّلَاقُ؟ قَالَ: بِيَدِ الَّذِي نَكَحَ. قُلْتُ لَهُ: فَإِنَّ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ: بِيَدِ السَّيِّدِ؟ قَالَ: كَذَبَ جَابِرٌ
مظاہر امیر خان
ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے غلام کی طلاق کے بارے میں پوچھا، تو فرمایا: ”طلاق اسی کے ہاتھ میں ہے جس نے نکاح کیا ہو۔“ میں نے کہا: جابر بن زید تو کہتے ہیں: آقا کے ہاتھ میں ہے۔ فرمایا: ”جابر نے غلط کہا۔“