کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: باندی یا یہودیہ و نصرانیہ سے نکاح اور بعد میں زنا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1961
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَحَجَّاجٌ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِيْ رَبَاْح «أَنَّهُمْ قَالُوا فِي الْحُرِّ إِذَا تَزَوَّجَ أَمَةً ثُمَّ أَتَى فَاحِشَةً أَنَّهُ يُجْلَدُ وَلَا يُرْجَمُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم، حضرت شعبی، حضرت حسن، حضرت عطا رحمہم اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی آزاد مرد کسی لونڈی سے نکاح کرے اور پھر بدکاری کرے تو اسے کوڑے مارے جائیں گے، رجم نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1962
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ «لَا تُحْصِنُ الْأَمَةُ الْحُرَّ، وَلَا تُحْصِنُ الْحُرَّةُ الْعَبْدَ وَلَا تُحْصِنُ الْمُسْلِمَ الْيَهُودِيَّةُ وَلَا النَّصْرَانِيَّةُ، وَإِنْ قَذَفَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا لِعَانٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ: ”لونڈی آزاد مرد کو، اور آزاد عورت غلام کو، اور مسلمان یہودیہ یا نصرانیہ کو (محصن نہیں کرتی)۔ اگر ان میں سے کسی پر قذف کیا جائے تو ان کے درمیان لعان نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1963
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، أنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " أَتَدْرُونَ كَمْ يَنْكِحُ الْعَبْدُ؟ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا، قَالَ: كَمْ؟ قَالَ: اثْنَيْنِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ غلام کتنی شادیاں کر سکتا ہے؟“ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ”میں جانتا ہوں۔“ سیدنا عمر نے پوچھا: ”کتنی؟“ اس نے کہا: ”دو۔“