حدیث نمبر: 1953
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَتْ أُمُّ سَلَمَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِلَّا فَثَلَّثْتُكِ ثُمَّ أَدُورُ»
مظاہر امیر خان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے گھر والوں کے نزدیک تمہاری کوئی بے وقعتی نہیں، اگر چاہو تو میں تمہارے لیے سات راتیں مقرر کر دوں، ورنہ تین راتیں، پھر تقسیم (یعنی عدل) شروع کر دوں۔“
حدیث نمبر: 1954
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ حِينَ اتَّخَذَهَا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور تین دن ان کے پاس قیام فرمایا۔“
حدیث نمبر: 1955
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، ثُمَّ قَسَمَ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا» قَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَلَوْ قُلْتُ لَهُ إِنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ لَصَدَقْتُ وَلَكِنْ قَالَ: السُّنَّةُ كَذَلِكَ.
مظاہر امیر خان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص کنواری پر بیوہ سے نکاح کرے تو سات دن اس کے پاس قیام کرے، پھر تقسیم کرے، اور اگر بیوہ سے نکاح کرے تو تین دن قیام کرے۔“ خالد کہتے ہیں: اگر میں کہہ دوں کہ یہ حدیث مرفوع ہے تو سچ کہوں گا، لیکن انہوں نے کہا: ”سنت اسی طرح ہے۔“
حدیث نمبر: 1956
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اسی کے مثل بیان کیا۔
حدیث نمبر: 1957
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا لَيْلَتَيْنِ» .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے کنواری پر بیوہ سے نکاح کیا تو تین دن قیام کرے، اور اگر بیوہ پر نکاح کیا تو دو دن قیام کرے۔“
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ قَالَ كَمَا قَالَ الْحَسَنُ
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے بھی حسن رحمہ اللہ کی طرح کہا۔
حدیث نمبر: 1959
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ حِينَ دَخَلَتْ: «إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ وَسَبَّعْتُ لِنِسَائِي» .
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا جب وہ نکاح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں: ”اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے سات راتیں مقرر کر دوں، پھر اپنی دیگر بیویوں کے لیے بھی سات راتیں۔“
حدیث نمبر: 1960
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اسی طرح کا واقعہ بیان کیا۔