حدیث نمبر: 1892
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ: نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، يَهُودِيَّةً أَوْ نَصْرَانِيَّةً، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ، وَقَالَ: «إِنَّهَا لَا تُحْصِنُكَ»
مظاہر امیر خان
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کرنا چاہتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا اور فرمایا: ”وہ تمہاری حفاظت نہیں کرے گی۔“
حدیث نمبر: 1893
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ، سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ: تَزَوَّجَ حُذَيْفَةُ يَهُودِيَّةً فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: طَلِّقْهَا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: لِمَ؟ أَحَرَامٌ هِيَ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: «لَا وَلَكِنِّي خِفْتُ أَنْ تَعَاطَوَا الْمُومِسَاتِ مِنْهُنَّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: ”اسے طلاق دے دو۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا: ”کیا وہ حرام ہے؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”نہیں، لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم ان کے فاحشہ عورتوں کے ساتھ تعلقات نہ رکھنے لگو۔“
حدیث نمبر: 1894
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مُغِيرَةُ قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ قَالَ: " تَزَوَّجَ أَحَدُ السِّتَّةِ مِنْ أَصْحَابِ الشُّورَى يَهُودِيَّةً، فَقُلْتُ لَهُ: الزُّبَيْرُ هُوَ؟ قَالَ الشَّعْبِيُّ: إِنْ كَانَ لَكَرِيمَ الْمَنَاكِحِ "
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”شوریٰ کے چھ صحابہ میں سے ایک نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا تھا۔“ میں نے پوچھا: ”کیا وہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے؟“ تو فرمایا: ”اگر وہ تھے تو نکاحوں میں بہت معزز تھے۔“
حدیث نمبر: 1895
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ حُذَيْفَةَ تَزَوَّجَ يَهُودِيَّةً فَقَالَ لَهُ عُمَرُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: أَحَرَامٌ هِيَ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّكَ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ فَفَارِقْهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس پر کچھ کہا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا وہ حرام ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم مسلمانوں کے سردار ہو، لہٰذا اس کو چھوڑ دو۔“
حدیث نمبر: 1896
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ قَالَ أنا يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ عَلَى الْمُسْلِمَةِ قَالَ: وَالْقَسْمُ بَيْنَهُمَا سَوِيٌّ "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مسلمان عورت پر یہودیہ یا نصرانیہ سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور ان کے درمیان برابری سے نوبت تقسیم کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 1897
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: «إِذَا تَزَوَّجَ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ عَلَى الْمُسْلِمَةِ فَالْقَسْمُ بَيْنَهُمَا سَوَاءٌ وَإِنْ قَذَفَهَا لَمْ يُلَاعِنْهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی یہودیہ یا نصرانیہ کو مسلمان عورت پر نکاح میں رکھے تو ان کے درمیان نوبت برابر ہو گی، اور اگر اس پر تہمت لگائے تو لعان نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1898
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «بَيْنَ كُلِّ زَوْجَيْنِ مُلَاعَنَةٌ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر میاں بیوی کے درمیان لعان کا حق ہوتا ہے۔“