حدیث نمبر: 1889
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا فَقَالَ: " مَا حَمَلَكِ عَلَى هَذَا؟، قَالَتْ: هُوَ مِلْكُ يَمِينِي، أَوَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ مِلْكَ الْيَمِينِ؟ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَضُرِبَتْ، وَأُتِيَ بِامْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ فَضَرَبَهَا، وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ يَنْهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ "
مظاہر امیر خان
حضرت بکر بن عبداللہ المزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے اپنے غلام سے نکاح کر لیا تھا۔ آپ نے اس پر سختی کی اور امصار کو خط لکھا کہ عورت اپنے غلام یا بغیر ولی کے نکاح نہ کرے ورنہ اسے سزا دی جائے۔
حدیث نمبر: 1890
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُصَيْنٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ تَزَوَّجَتْ عَبْدًا لَهَا فَضَرَبَهُمَا وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا. فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: " أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 3] ؟ وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ: أَيُّ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا أَوْ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ أَوْ وَلِيٍّ، فَاضْرِبُوهَا الْحَدَّ "
مظاہر امیر خان
حضرت بکر بن عبداللہ المزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسی عورت کو سزا دی جس نے اپنے غلام سے نکاح کیا اور فرمایا: «أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ» [النساء: 3] کو غلط سمجھا، اور تمام شہروں میں لکھ بھیجا کہ ایسی عورتوں پر حد جاری کی جائے۔
حدیث نمبر: 1891
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أُتِيَ بِامْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا فَعَاقَبَهَا وَفَرَّقَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَبْدِهَا، وَحَرَّمَ عَلَيْهَا الْأَزْوَاجَ عُقُوبَةً لَهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسی عورت کو سزا دی، غلام سے نکاح کرنے پر اس پر آئندہ نکاح کرنے کو بھی حرام کر دیا بطور سزا۔