حدیث نمبر: 1881
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا دَخَلَتْ عِدَّتَانِ فِي عِدَّةٍ أَجْزَأَتْهَا إِحْدَاهُمَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب دو عدتیں ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو کسی ایک سے عدت پوری ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 1882
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ غَابَ عَنِ امْرَأَتِهِ، فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ جَاءَ الْأَوَّلُ: فَقَالَ: «تَعْتَدُّ عِدَّةً وَاحِدَةً»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے غائب ہو جائے اور عورت نکاح کر لے، پھر پہلا شوہر آ جائے تو عورت ایک عدت ہی گزارے گی۔“
حدیث نمبر: 1883
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فُضَيْلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: «عِدَّتَانِ»
مظاہر امیر خان
حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”دو عدتیں پوری کرے گی۔“
حدیث نمبر: 1884
نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي امْرَأَةٍ نُعِيَ لَهَا زَوْجُهَا فَتَزَوَّجَتْ، ثُمَّ جَاءَ خَبَرٌ أَنَّ زَوْجَهَا الْأَوَّلَ حَيٌّ، فَلَمَّا بَلَغَ زَوْجَهَا الْأَوَّلَ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ «طَلَاقُهُ إِيَّاهَا اخْتِيَارٌ تَعْتَزِلُ هَذَا الْآخَرَ ثَلَاثَةَ أَقْرَاءٍ، ثُمَّ تَزَوَّجُ مَنْ شَاءَتْ، وَإِنْ كَانَتْ حَامِلًا فَوَضْعُهَا حَمْلَهَا قُرْؤُهَا، ثُمَّ تَعْتَدُّ بَعْدَ ذَلِكَ حَيْضَتَيْنِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک عورت کو اس کے شوہر کے فوت ہونے کی خبر ملی، اس نے دوسرا نکاح کر لیا، پھر پہلے شوہر کے زندہ ہونے کا علم ہوا، اس نے تین طلاقیں دیں، تو فرمایا: ”عورت دوسرے شوہر سے علیحدہ ہو کر تین حیض گزارے، پھر جس سے چاہے نکاح کرے، اور اگر حاملہ ہو تو وضع حمل ہی اس کی عدت ہے، پھر دو حیض اور گزارے۔“
حدیث نمبر: 1885
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ غَابَ عَنِ امْرَأَتِهِ، فَتَزَوَّجَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَدِمَ زَوْجُهَا قَالَ: «تَعْتَدُّ مِنَ الْآخَرِ ثُمَّ تُدْفَعُ إِلَى الْأَوَّلِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب پہلا شوہر لوٹے تو عورت دوسرے شوہر سے عدت گزارے، پھر پہلے شوہر کے پاس لوٹے۔“
حدیث نمبر: 1886
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلَّتِي تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا: «يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَتُكْمِلُ مَا بَقِيَ مِنْ عِدَّتِهَا مِنَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ تَعْتَدُّ مِنَ الْآخَرِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں جدائی کر دی جائے، عورت پہلے شوہر کی بچی ہوئی عدت مکمل کرے، پھر دوسرے شوہر کی عدت گزارے۔“
حدیث نمبر: 1887
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي امْرَأَةٍ نُعِيَ إِلَيْهَا زَوْجُهَا، فَتَزَوَّجَتْ رَجُلًا مِنْ بَعْدِهِ، فَمَاتَ فَوَرِثَتْهُ، فَقَدِمَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ، قَالَ: «تُدْفَعُ إِلَيْهِ وَتَرُدُّ إِلَى وَرَثَةِ الْمَيِّتِ مَا أَخَذَتْ مِنْ مِيرَاثِهِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عورت کو پہلے شوہر کے پاس لوٹایا جائے اور دوسرے شوہر سے لی ہوئی وراثت واپس کی جائے۔“
حدیث نمبر: 1888
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هَاشِمٍ، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ، فَوَضَعَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا لِأَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ الزَّوْجُ، فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَسَأَلَ الْمَرْأَةَ فَقَالَتْ: " وَاللَّهِ مَا كَانَ بَيْنَهُمَا رَجُلٌ، وَلَكِنَّ زَوْجِي كَانَ عَهْدُهُ بِي قَبْلَ وَفَاتِهِ بِخَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَهَلَكَ وَكُنْتُ أَرَى الدَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَ: إِنَّ هَذَا يَكُونُ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ الْوَلَدَ لِلْأَوَّلِ "
مظاہر امیر خان
حضرت ولید بن ابی ہاشم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے شوہر کے فوت ہونے کے بعد نکاح کیا اور چار مہینے بعد بچہ پیدا ہوا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ آیا، آپ نے عورتوں سے دریافت کیا تو عورتوں نے بتایا کہ یہ ممکن ہے، چنانچہ آپ نے عورت کو پہلے شوہر کے ساتھ ملحق کیا اور بچہ اسی کا قرار دیا۔
وضاحت:
مستور: یہ اصطلاح ابن حجر کے ہاں خاص ہے، اور وہ ایسے راوی کو "قابل اعتبار نہیں سمجھتے جب تک کوئی مؤید نہ ہو"