حدیث نمبر: 1870
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ «أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمَّا أَصَابَهَا وَجَدَهَا حُبْلَى فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ لَهَا الصَّدَاقَ وَجَلَدَهَا مِائَةً»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عورت سے نکاح کیا، پھر دخول کے بعد اسے حاملہ پایا، معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ نے ان دونوں میں جدائی کروا دی، مہر مقرر کیا اور عورت کو سو کوڑے مارنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1871
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ فِي الَّتِي تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا قَالَ: فَرَّقَ عُمَرُ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ: «كَانَ النِّكَاحُ حَرَامًا فَجَعَلَ الصَّدَاقَ حَرَامًا، فَجَعَلَ الصَّدَاقَ فِي بَيْتِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس عورت نے عدت میں نکاح کیا تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان میں جدائی کروا دی اور فرمایا: ”یہ نکاح حرام تھا، اس لیے مہر بھی حرام ہے۔“ اور مہر بیت المال میں جمع کروا دیا۔
حدیث نمبر: 1872
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَعَاقَبَهَا، وَجَعَلَ الصَّدَاقَ فِي بَيْتِ الْمَالِ عُقُوبَةً لَهَا، وَقَالَ: «لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایسی عورت کا مقدمہ آیا تو آپ نے ان دونوں میں جدائی کروا دی، عورت کو سزا دی اور مہر بیت المال میں جمع کروا دیا اور فرمایا: ”دوبارہ کبھی اکٹھے نہ ہوں۔“
حدیث نمبر: 1873
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا فَضَرَبَهُمَا، وَقَالَ: «لَا تَعُودُ إِلَيْهِ أَبْدَأَ، وَجَعَلَ الصَّدَاقَ فِي بَيْتِ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دونوں کو مارا اور فرمایا: ”آئندہ کبھی اکٹھے نہ ہونا۔“ اور مہر بیت المال میں جمع کروا دیا۔
حدیث نمبر: 1874
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فِي الصَّدَاقِ، وَجَعَلَهُ لَهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا اور عورت کو مہر دے دیا، کیونکہ مرد نے اس سے فائدہ اٹھایا تھا۔
حدیث نمبر: 1875
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِلَّتِي نُكِحَتْ فِي عِدَّتِهَا، فَرِّقَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ: «لَا يَتَنَاكَحَانِ أَبَدًا وَجَعَلَ لَهَا الْمَهْرَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ مِنْ هَذَا وَتَعْتَدَّ مِنْ هَذَا»
مظاہر امیر خان
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان دونوں میں جدائی کر دو، کبھی دوبارہ نکاح نہ کریں، عورت کو مہر دے دو کیونکہ مرد نے اس سے فائدہ اٹھایا، اور عورت کو دونوں کی عدت پوری کرنی ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1876
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ لَهَا الصَّدَاقَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَقَالَ: إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا إِنْ شَاءَتْ تَزَوَّجَتْهُ فَعَلَتْ، قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ عِنْدَنَا "
مظاہر امیر خان
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دونوں میں جدائی کروا دی، عورت کو مہر دلایا اور فرمایا: ”جب اس کی عدت ختم ہو جائے تو اگر وہ چاہے تو دوبارہ اسی شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔“ ہشیم کہتے ہیں: ”یہی قول ہمارے نزدیک بھی درست ہے۔“
حدیث نمبر: 1877
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَيَتَزَّوَجُهَا الْآخَرُ، ثُمَّ تُكْمِلُ مَا بَقِيَ مِنْ عِدَّتِهَا مِنَ الْأَوَّلِ ثُمَّ تَعْتَدُّ مِنَ الْآخَرِ» وَقَالَ الشَّعْبِيُّ «تَعْتَدُّ مِنْ هَذَا الْآخَرِ ثُمَّ تَعْتَدُّ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنَ الْأَوَّلِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان دونوں میں جدائی کر دی جائے، اگر عورت دوسرے شخص سے نکاح کرے تو پہلے کی عدت مکمل کرے پھر دوسرے کی عدت شروع کرے۔“ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پہلے دوسرے شخص کی عدت گزارے، پھر پہلی عدت کی بقیہ مدت پوری کرے۔“
حدیث نمبر: 1878
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ بَيْنَهُمَا فَقَالَ أَحَدُهُمَا: «تَعْتَدُّ مِنَ الْأَوَّلِ»، وَقَالَ الْآخَرُ: «تَبْدَأُ مِنَ الْآخَرِ» فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: «إِنَّكَ إِذَا اتيت اتيت»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ کے درمیان اختلاف ہوا، ایک نے کہا: ”پہلے شوہر کی عدت پوری کرے۔“ دوسرے نے کہا: ”دوسرے شوہر کی عدت پوری کرے۔“ ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر تم یہ بات کہہ دو تو آڑے آ جاؤ گے۔“
حدیث نمبر: 1879
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا ابْنُ شُبْرُمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا فَأَيُّ الْعِدَّتَيْنِ تَبْدَأُ؟ فَقَالَ الشَّعْبِيُّ «تَبْدَأُ بِالْعِدَّةِ مِنْ أَحْدَثِهِمَا بِهَا عَهْدًا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی، وہ عدت میں تھی کہ دوسرے سے نکاح کر لیا، اب کس شوہر کی عدت پوری کرے؟ فرمایا: ”اس کی عدت پوری کرے جس کا تعلق تازہ ہو۔“
حدیث نمبر: 1880
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا بَعْضُ الْكُوفِيِّينَ، أَنَّهُ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ حِينَ قَالَ: «تَبْدَأُ بِالْعِدَّةِ مِنَ الْأَوَّلِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَتْ حَامِلًا مِنَ الْآخَرِ، فَسَكَتَ إِبْرَاهِيمُ فَمَا أَجَابَهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: اگر عورت دوسرے شوہر سے حاملہ ہو جائے تو؟ ابراہیم رحمہ اللہ خاموش ہو گئے اور جواب نہ دیا۔