حدیث نمبر: 1798
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ عَلَى حُكْمِهَا أَوْ حُكْمِ أَهْلِهَا فَجَارَتْ أَوْ جَارَ الْحَكَمُ رُدَّ ذَلِكَ إِلَى مَهْرِ مِثْلِهَا، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر عورت کسی کے فیصلہ پر یا اپنے اہل کے فیصلہ پر نکاح کرے، پھر وہ یا فیصلہ کرنے والا ظلم کرے تو عورت کو اس جیسا مہر دیا جائے، نہ زیادتی نہ کمی۔“
حدیث نمبر: 1799
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ خَطَبَ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ابْنَتَهُ فَأَبَى أَنْ يُزَوِّجَهُ إِلَّا عَلَى حُكْمِهِ، وَكَرِهَ عَمْرٌو، وَخَافَ أَنْ يَحْكُمَ عَلَيْهِ دَارَهُ أَوْ أَمْرًا يَقْتَطِعُهُ، ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لَهُ أَنْ يُزَوِّجَهُ عَلَى حُكْمِهِ فَقَالَ لَهُ عَدِيٌّ: «لَا أَحْكُمُ حُكْمًا يُسَائِلُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَحَكَمَ عَشَرَةَ أُوقِيَّةٍ أَرْبَعَمِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ عدی نے کہا: ”اپنے فیصلہ پر نکاح دوں گا۔“ عمرو کو یہ ناپسند ہوا کہ وہ کہیں اس پر اس کا مکان یا کوئی چیز مقرر نہ کر دے۔ بعد میں عمرو نے نکاح پر آمادگی ظاہر کی۔ عدی نے کہا: ”میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کروں گا جس پر اللہ عزوجل مجھ سے سوال کرے۔“ چنانچہ اس نے دس اوقیہ یعنی چار سو اسی درہم کا فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 1800
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: «مَا كُنْتُ لِأَحْكُمَ عَلَيْهِ شَيْئًا أَكْثَرَ مِمَّا سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سِيقَ إِلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس سے زیادہ فیصلہ نہ کرتا جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح میں دیا یا آپ کو دیا گیا۔“
حدیث نمبر: 1801
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَدِيًّا لَمَّا حَكَمَ أَرْبَعَمِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا أَرْسَلَ إِلَيْهِ عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَقَسَمَهَا يَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ يَبْرَحَ فِيمَنْ كَانَ عِنْدَهُ، وَعَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ بَتٌّ فَلَمَّا بَلَغَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ أَنَّهُ قَسَمَهَا بَعَثَ إِلَيْهَا بِجَهَازِهَا وَمَا يُصْلِحُهَا وَكَانَ يُقَالُ لَهَا: أُسْدَةُ بِنْتُ عَدِيٍّ "
مظاہر امیر خان
جب سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے چار سو اسی درہم پر فیصلہ کیا تو سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے انہیں تیس ہزار بھیجے۔ عدی نے ان میں سے جو لوگ موجود تھے، ان پر وہ سب تقسیم کر دیے اور ان کے اوپر چادر بھی تھی۔ جب عمرو بن حریث کو معلوم ہوا کہ سب تقسیم ہو گیا ہے تو اس نے بیٹی کا جہیز اور جو اس کی ضرورت کی چیزیں تھیں بھیج دیں۔ اس لڑکی کا نام اسدہ بنت عدی تھا۔
حدیث نمبر: 1802
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: " مَكْتُوبٌ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ: مَهْرُ الْبِكْرِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، وَمَهْرُ الثَّيِّبِ عِشْرُونَ دِرْهَمًا، لِكَيْ لَا يَقُولَ أَحَدٌ: لَا أَجِدُ مَا أَنْكِحُ فَيَزْنِيَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن اسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ کنواری کا مہر چالیس درہم اور بیوہ کا مہر بیس درہم ہے، تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے نکاح کے لیے کچھ نہیں ملتا اور پھر زنا کرے۔“
حدیث نمبر: 1803
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «النِّكَاحُ عَلَى مَا تَرَاضَوْا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ صَدَاقٌ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نکاح جس چیز پر باہمی رضامندی ہو جائے، وہی مہر ہے۔“