حدیث نمبر: 1761
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ: «أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تَزَوَّجِي مُسْلِمًا، وَإِنْ كَانَ أَحْمَرَ رُومِيًّا، أَوْ أَسْوَدَ حَبَشِيًّا»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن مسعود رحمہ اللہ نے اپنے گھر کی ایک عورت سے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کسی مسلمان سے نکاح کرنا، اگرچہ وہ سرخ رومی ہو یا سیاہ حبشی ہو۔“
حدیث نمبر: 1762
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْكَحْتُ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، وَأَنْكَحْتُ الْمِقْدَادَ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؛ لِيَعْلَمُوا أَنَّ أَشْرَفَ الشَّرَفِ لِلْإِسْلَامِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا نکاح سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کیا، اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا نکاح سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سے کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ سب سے بڑی عزت اسلام کی ہے۔“
حدیث نمبر: 1763
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ بِلَالًا خَطَبَ عَلَى أَخِيهِ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالَ: «أَنَا بِلَالٌ وَهَذَا أَخِي، كُنَّا عَبْدَيْنِ فَأَعْتَقَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَكُنَّا ضَالَّيْنِ فَهَدَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کے لیے عرب کے ایک گھرانے میں رشتہ بھیجا اور کہا: ”میں بلال ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، ہم دونوں غلام تھے اللہ عزوجل نے ہمیں آزاد کیا اور ہم گمراہ تھے اللہ عزوجل نے ہمیں ہدایت دی۔“
حدیث نمبر: 1764
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا أَبُو سُفْيَانَ مَوْلَى مُزَيْنَةَ أَنَّ بِلَالًا، قَالَ: «إِنْ أَنْكَحْتُمُونَا فَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَإِنْ رَدَدْتُمُونَا فَاللَّهُ أَكْبَرُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر تم ہمیں نکاح دے دو تو الحمدللہ، اور اگر انکار کرو تو اللہ اکبر۔“
حدیث نمبر: 1765
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يَخْطُبَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَتَاهُمْ فَخَطَبَ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: لَا نُزَوِّجُكَ عَبْدًا وَانْتَفَوْا مِنْهُ. فَقَالَ: لَوْلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي مَا فَعَلْتُ. فَقَالُوا: وَأَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: فَأَمْرُهَا فِي يَدِكَ. فَزَوَّجُوهَا مِنْهُ، فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ ذَهَبٌ، فَأَمَرَ لَهُ بِقِطْعَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُ: «سُقْ هَذَا إِلَى أَهْلِكَ» . وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «اجْمَعُوا لِأَخِيكُمْ فِي وَلِيمَتِهِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو انصار کے کچھ لوگوں کے پاس رشتہ کے لیے بھیجا، جب انہوں نے انکار کیا تو صہیب نے کہا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا۔“ انہوں نے کہا: ”کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ تو انہوں نے نکاح کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا بھیجا اور فرمایا: ”یہ اپنے گھر لے جاؤ۔“ اور صحابہ سے فرمایا: ”اپنے بھائی کے ولیمے میں تعاون کرو۔“
حدیث نمبر: 1766
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَقُلْتُ لَهَا: كَمْ طَلَّقَكِ زَوْجُكِ؟ قَالَتْ: طَلَّقَنِي طَلَاقًا بَائِنًا، وَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً. فَقَالَ: صَدَقَ. وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلٌ يُغْشَى، وَلَكِنِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ فُلَانٍ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي مُعَاوِيَةُ وَأَبُو الْجَهْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مُعَاوِيَةَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ، وَأَبُو الْجَهْمِ رَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَى النِّسَاءِ، وَلَكِنْ أُزَوِّجُكِ مِنْ أُسَامَةَ» . قَالَتْ: فَزَوَّجَنِي أُسَامَةَ، فَبُورِكَ لِي "
مظاہر امیر خان
میں اور سیدنا ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، میں نے پوچھا: ”تمہیں شوہر نے کس طرح طلاق دی؟“ انہوں نے فرمایا: ”طلاق بائن دی، نہ رہائش دی نہ نفقہ، پھر مجھے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”چونکہ ابن ام مکتوم نابینا ہیں، کسی اور گھر میں عدت گزارو۔“ جب عدت پوری ہوئی تو معاویہ اور ابو الجہم نے رشتہ بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ کے پاس مال نہیں اور ابو الجہم عورتوں پر سخت ہے، لیکن میں تمہارا نکاح اسامہ سے کرتا ہوں۔“ کہتی ہیں: ”میرا نکاح اسامہ سے ہوا اور اللہ نے اس میں برکت دی۔“
حدیث نمبر: 1767
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَأَمَانَتَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ وَإِنْ كَانَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور امانت سے تم راضی ہو تو اس سے نکاح کر دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد ہوگا۔“ صحابہ نے پوچھا: ”اگر وہ ویسا نہ ہو جیسا ہم چاہتے ہیں؟“ فرمایا: ”ہاں تب بھی نکاح کر دو۔“
حدیث نمبر: 1768
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ لَنَا أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ: «يَا بَنِيَّ وَبَنِي بَنِيَّ، إِنَّ هَذَا النِّكَاحَ رِقٌّ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ عِنْدَ مَنْ يُرِقُّ كَرِيمَتَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے میرے بیٹو اور بیٹیوں کے بیٹو! نکاح غلامی ہے، ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کس کے نکاح میں دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1769
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ سَلْمَانُ إِلَى أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: يَا هَذِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي، وَقَالَ: «إِنْ قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ أَنْ تَزَوَّجَ فَتَكُونَ أَوَّلَ مَا تَجْتَمِعَانِ عَلَيْهِ طَاعَةُ اللَّهِ» . فَقَالَتْ: إِنَّكَ جَلَسْتَ مَجْلِسَ الْمَرْءِ يُطَاعُ أَمْرُهُ. فَقَالَ لَهَا: قُومِي فَصَلِّي وَنَدْعُو. فَفَعَلَا، فَرَأَى بَيْتًا مُسَتَّرًا، فَقَالَ: مَا بَالُ بَيْتِكُمْ هَذَا، أَمَحْمُومٌ، أَمْ تَحَوَّلَتِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ؟ فَقَالُوا: لَيْسَ بِمَحْمُومٍ، وَلَمْ تُحَوَّلِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ، فَقَالَ: لَا أَدْخُلُهُ حَتَّى يُهْتَكَ كُلُّ سِتْرٍ إِلَّا سِتْرًا عَلَى بَابٍ "
مظاہر امیر خان
جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا نکاح ابی قرہ کندی کے خاندان میں ہوا، جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو کہا: ”اے خاتون! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی: ’جب اللہ عزوجل تمہیں نکاح کی توفیق دے تو تمہارا پہلا عمل اللہ کی اطاعت ہو۔‘“ بیوی نے کہا: ”آپ اس مقام پر ہیں جہاں مرد کا حکم مانا جاتا ہے۔“ تو سیدنا سلمان نے فرمایا: ”اٹھو نماز پڑھو اور دعا کرو۔“ پھر انہوں نے گھر میں پردے دیکھے تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ کیا کوئی بیمار ہے یا کعبہ کندہ میں منتقل ہو گیا ہے؟“ کہا گیا: ”نہ کوئی بیمار ہے نہ کعبہ منتقل ہوا ہے۔“ تو فرمایا: ”میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گا جب تک تمام پردے نہ ہٹا دیے جائیں سوائے دروازے کے پردے کے۔“
حدیث نمبر: 1770
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، قَالَ: خَرَجَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَالُوا: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؛ فَأَنْتَ أَعْلَمُنَا وَأَسَنُّنَا. فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَيْنَا يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ، تَؤُمُّونَنَا وَلَا نَؤُمُّكُمْ، وَتَنْكِحُونَ نِسَاءَنَا وَلَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ. فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ سَلْمَانُ: صَلَّيْتَ أَرْبَعًا، كُنَّا إِلَى الرُّخْصَةِ أَحْوَجَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ صحابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، جب نماز کا وقت آیا تو لوگوں نے کہا: ”آگے بڑھئیے اے ابو عبداللہ! آپ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور بڑے ہیں۔“ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں ہم پر فضیلت دی ہے، اے جماعتِ عرب! تم ہمیں نماز پڑھاتے ہو، ہم تمہیں نماز نہیں پڑھاتے، تم ہماری عورتوں سے نکاح کرتے ہو، ہم تمہاری عورتوں سے نکاح نہیں کرتے۔“ پھر ان میں سے ایک شخص نے آگے بڑھ کر ان کو چار رکعت نماز پڑھائی، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے چار رکعت پڑھائی، حالانکہ ہم رعایت کے زیادہ محتاج تھے۔“
حدیث نمبر: 1771
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ، يَقُولُ: قَالَ سَلْمَانُ: «لَا نَؤُمُّكُمْ، وَلَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم تمہیں نماز نہیں پڑھاتے، اور نہ ہی تمہاری عورتوں سے نکاح کرتے ہیں۔“