حدیث نمبر: 1731
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا الثَّيِّبُ حَتَّى تُشَاوَرَ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي. قَالَ: «سُكُوتُهَا رِضَاهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری لڑکی کا نکاح بغیر اجازت کے نہ کیا جائے اور بیوہ سے مشورہ کیا جائے، کنواری کی خاموشی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 1732
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیمہ سے نکاح کے لیے اس کی اجازت ضروری ہے، اس کی خاموشی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 1733
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنے نکاح کی خود مالک ہے اور کنواری کی اجازت ضروری ہے، اس کی خاموشی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 1734
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: «تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ رِضَاهَا، وَإِنْ أَنْكَرَتْ لَمْ تُنْكَحْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یتیمہ سے اجازت لی جائے، اگر خاموش رہے تو اجازت ہے، انکار کرے تو نکاح نہ کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1735
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَا تُنْكَحُ الْيَتِيمَةُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَسُكُوتُهَا رِضَاهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یتیمہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ ہو، اس کی خاموشی اس کی رضا ہے۔“
حدیث نمبر: 1736
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُجَالِدٌ، نا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: «لَا تُزَوَّجُ الْيَتِيمَةُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَسُكُوتُهَا رِضَاهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یتیمہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ ہو، خاموشی اس کی رضا ہے۔“
حدیث نمبر: 1737
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «لَا تُنْكَحُ الْيَتِيمَةُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، فَإِنْ سَكَتَتْ أَوْ بَكَتْ فَهُوَ رِضَاهَا، وَإِنْ كَرِهَتْ لَمْ تُنْكَحْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یتیمہ کو نکاح سے قبل اجازت لی جائے، اگر وہ روئے یا خاموش رہے تو یہ رضا ہے، انکار کرے تو نکاح نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 1738
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْيَتِيمَةِ: «لَا تُنْكَحُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ رِضَاهَا، وَإِنْ كَرِهَتْ وَتَعَصَّتْ لَمْ تُنْكَحْ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یتیمہ کا نکاح تب ہو جب وہ خاموشی یا رضا سے قبول کرے، اگر انکار کرے تو نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 1739
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ إِحْدَى بَنَاتِهِ أَتَى الْخِدْرَ، فَقَالَ: «إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں کے نکاح سے پہلے ان کے پاس آتے اور کہتے: ”فلاں تمہارے بارے میں بات کر رہا ہے۔“
حدیث نمبر: 1740
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «نِكَاحُ الْوَالِدِ ابْنَتَهُ، بِكْرًا كَانَتْ أَوْ ثَيِّبًا، جَائِزٌ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باپ کا بیٹی کو نکاح میں دینا جائز ہے، چاہے کنواری ہو یا بیوہ۔“
حدیث نمبر: 1741
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ فَهُوَ جَائِزٌ، بِكْرًا كَانَتْ أَوْ ثَيِّبًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باپ اپنی بیٹی کو نکاح میں دے سکتا ہے، چاہے کنواری ہو یا بیوہ۔“
حدیث نمبر: 1742
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُسْتَأْمَرُ الْأَبْكَارُ فِي أَنْفُسِهِنَّ، فَإِنْ أَبَيْنَ خُيِّرْنَ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواریوں سے نکاح کے لیے اجازت لی جائے، اگر وہ انکار کریں تو انہیں اختیار دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1743
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ أنا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، نا أَبُو سَلَمَةَ " أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يُقَالُ لَهَا خَنْسَاءُ بِنْتُ خِدَامٍ زَوَّجَهَا أَبُوهَا مِنْ رَجُلٍ وَهِيَ كَارِهَةٌ وَكَانَتْ ثَيِّبًا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «الْأَمْرُ إِلَيْكِ» . قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ. فَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، فَجَاءَتْ بِالسَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ "
مظاہر امیر خان
سیدہ خنساء بنت خدام رضی اللہ عنہا کا نکاح باپ نے ان کی مرضی کے خلاف کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اختیار تمہارے ہاتھ میں ہے۔“
حدیث نمبر: 1744
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِدَامٍ زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَقَدْ كَانَتْ مَلَكَتْ أَمْرَهَا، وَأَنَّهَا كَرِهَتْ ذَلِكَ الرَّجُلَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي رَجُلًا وَلَسْتُ أُرِيدُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» . فَخَطَبَهَا أَبُو لُبَابَةَ فَتَزَوَّجَهَا، فَوَلَدَتِ السَّائِبَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ "
مظاہر امیر خان
سیدہ خنساء بنت خدام رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ والد نے ناپسندیدہ شخص سے نکاح کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔“
حدیث نمبر: 1745
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي وَنِعْمَ الْأَبُ هُوَ، خَطَبَنِي إِلَيْهِ عَمُّ وَلَدِي فَرَدَّهُ، وَأَنْكَحَنِي رَجُلًا وَأَنَا كَارِهَةٌ. فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِيهَا، فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ، أَنْكَحْتُهَا وَلَمْ آلُهَا خَيْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ لَكِ، اذْهَبِي فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے والد کے ناپسندیدہ نکاح کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح باطل ہے، جس سے چاہو نکاح کر لو۔“
حدیث نمبر: 1746
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: «إِذَا خُطِبَتِ الْيَتِيمَةُ فَسَكَتَتْ فَهُوَ رِضَاهَا، وَإِنْ كَرِهَتْ فَإِنَّهَا لَمْ تَرْضَ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابو بردہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر یتیمہ خاموش ہو جائے تو یہ رضا ہے، اگر انکار کرے تو نکاح نہیں۔“
حدیث نمبر: 1747
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَأَدْرَكَتْ وَهُيَ تُرِيدُ أَنْ تَحْتَقَّ نَفْسَهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَبْطَلَ نِكَاحَهُ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ایسی لڑکی کا نکاح باطل کر دیا جس کا نکاح اس کی مرضی کے خلاف کیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 1748
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «يُزَوِّجُ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ وَلَا يَسْتَأْمِرُهَا إِذَا كَانَتْ فِي عِيَالِهِ، وَإِذَا كَانَتْ نَائِيَةً بِنَفْسِهَا مَعَ عِيَالِهَا وَوَلَدِهَا اسْتَأْمَرَهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر لڑکی باپ کے ساتھ رہتی ہو تو اس سے مشورہ نہیں لیا جائے، اگر الگ رہتی ہو تو اس سے مشورہ لیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1749
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «إِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ ابْنَهُ وَهُوَ صَغِيرٌ لَا خِيَارَ لَهُ» .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر باپ اپنے چھوٹے بیٹے کا نکاح کرے تو بیٹے کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔“
حدیث نمبر: 1750
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا بَعْضُ أَصْحَابِهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بھی یہی قول مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1751
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْمِلُوا النِّسَاءَ عَلَى مَا كَرِهْنَ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کو ان کی رضا کے بغیر نکاح پر مجبور نہ کرو۔“
وضاحت:
روایت مرسل ہے، عمر بن حوشب مجہول الحال ہے، اسماعیل بن عیاش کی غیر شامی سے روایت ضعیف ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1752
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عُمَيْرٍ ابْنِ أَخِي عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ «رَدَّ نِكَاحَ امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ وَلِيٍّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس عورت کا نکاح باطل کر دیا جو ولی کے بغیر نکاح کر بیٹھی تھی۔
حدیث نمبر: 1753
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: " زَوَّجَ خِدَامٌ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي وَأَنَا كَارِهَةٌ فِي غُرْبَةٍ. فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهَا "
مظاہر امیر خان
سیدہ خنساء بنت خدام رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ان کے والد نے ان کی مرضی کے بغیر نکاح کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فسخ کر دیا۔
حدیث نمبر: 1754
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ امْرَأَةِ بَكْرٍ وَزَوْجِهَا؛ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا بِغَيْرِ إِذْنِهَا " قَالَ: وَحُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُنْكِحَ امْرَأَةً مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ عِنْدَ خِدْرِهَا، فَقَالَ: «إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةَ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت اور اس کے شوہر کے درمیان جدائی کر دی کیونکہ باپ نے نکاح بغیر اجازت کے کر دیا تھا، اور جب اپنی بیٹیوں کا نکاح کرتے تو پردے کے پاس آ کر کہتے: ”فلاں فلاں کا تذکرہ کر رہا ہے۔“
حدیث نمبر: 1755
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، قَالَ: زَوَّجَ امْرَأَةً أَخْوَالُهَا وَهُمْ مِنْ بَنِي عَائِذِ اللَّهِ، وَهِيَ مِنْ بَنِي أَوْدٍ، فَأَتَوْا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لِابْنَتِهِ أُمِّ كُلْثُومٍ: انْظُرِي أَمِنَ النِّسَاءِ هِيَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. فَدَفَعَهَا إِلَى زَوْجِهَا، وَقَالَ: «هُمْ أَكْفَاءٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا نکاح پیش ہوا جسے اس کے ماموؤں نے نکاح دیا تھا، انہوں نے بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے تصدیق کروائی اور نکاح کو جائز قرار دیا اور فرمایا: ”یہ لوگ کفو ہیں۔“
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ عَائِذِ اللَّهِ يُقَالُ لَهَا سَلَمَةُ بِنْتُ عُبَيْدٍ زَوَّجَتْهَا أُمُّهَا وَأَهْلُهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «أَلَيْسَ قَدْ دَخَلَ بِهَا؟ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ آیا جسے اس کی ماں اور رشتہ داروں نے نکاح میں دے دیا تھا، انہوں نے دریافت کیا کہ شوہر نے صحبت کی ہے؟ جب بتایا گیا کہ ہاں، تو فرمایا: ”نکاح درست ہے۔“
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّهُ أَجَازَ نِكَاحَ امْرَأَةٍ زَوَّجَتْهَا أُمُّهَا بِرِضًى مِنْهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی عورت کا نکاح جائز قرار دیا جسے اس کی ماں نے اس کی رضامندی سے نکاح میں دے دیا تھا۔
حدیث نمبر: 1758
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْأَشْجَعِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً أَرَادَتِ التَّزْوِيجَ، فَمَنَعَهَا وَلِيُّهَا، فَاسْتَعْدَتْ شُرَيْحًا، فَقَالَ: «ايْذَنْ فِي نِكَاحِهَا» . فَكَأَنَّهُ تَلَكَّأَ عَلَيْهِ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: ايْذَنْ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ لَكَ إِذْنٌ. فَزَوَّجَهَا شُرَيْحٌ "
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک عورت نکاح کے لیے آئی اور ولی نے انکار کیا، شریح نے کہا: ”ولی کو نکاح کی اجازت دینی چاہیے۔“ اور جب ولی نے ہچکچاہٹ کی تو خود نکاح کرا دیا۔
حدیث نمبر: 1759
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، أَنَّ زِيَادًا، بَعَثَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَاتِ، فَقَالَ لَهُ: « إِنِّي أُنْزِلُكَ وَنَفْسِي مِنْ هَذَا الْمَالِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ، مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا تَأْتِيَنَّ عَلَى شِغَارٍ إِلَّا رَدَدْتَهُ، [6/188] وَلَا امْرَأَةٍ عَضَلَهَا وَلِيُّهَا فَتَبْرَحُ زَائِلَةَ الْعَطَنِ حَتَّى تُزَوِّجَهَا فِي الْكَفَاةِ مِنْ قَوْمِهَا » .
مظاہر امیر خان
زیاد نے سیدنا ابو بردہ بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ کو کچھ صدقات پر بھیجا اور کہا: ”میں تمہیں اور اپنے آپ کو اس مال میں یتیم کے ولی کی جگہ پر رکھتا ہوں، جو غنی ہو وہ بچ کر رہے اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھائے، اور کسی شغار پر پہنچو تو اسے رد کر دو، اور کسی ایسی عورت پر نہ پہنچو جسے اس کا ولی روکے ہوئے ہو یہاں تک کہ اسے اپنی قوم کے ہمسر میں نکاح کر دو۔“
حدیث نمبر: 1760
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، أَنَّ زِيَادًا، بَعَثَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَاتِ، فَقَالَ لَهُ: " إِنِّي أُنْزِلُكَ نَفْسِي مِنْ هَذَا الْمَالِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ، «وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» [النساء: 6]، وَلَا تَأْتِيَنَّ عَلَى شِغَارٍ إِلَّا رَدَدْتَهُ، وَلَا امْرَأَةٍ عَضَلَهَا وَلِيُّهَا فَتَبْرَحُ زَائِلَةَ الْعَطَنِ حَتَّى تُزَوِّجَهَا فِي الْأَكْفَاءِ مِنْ قَوْمِهَا " ¤ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا أَمْرِي وَأَمْرُ يَتِيمَتِي؟ قَالَ: عَنْ أَيِّ بَالِكُمَا تَسْأَلُ؟ ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَمُتَزَوِّجُهَا أَنْتَ غَنِيَّةً جَمِيلَةً؟ قَالَ: نَعَمْ وَالْإِلَهِ. قَالَ: فَتَزَوَّجْهَا ذَمِيمَةً لَا مَالَ لَهَا، خِرْ لَهَا، فَإِنْ كَانَ غَيْرُكَ فَأَلْحِقْهَا بِالْخِيَارِ "
مظاہر امیر خان
زیاد نے سیدنا ابو بردہ بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ کو صدقات پر بھیجا اور کہا: ”میں تمہیں اور اپنے آپ کو یتیم کے ولی کی طرح رکھتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ» [النساء: 6]، کسی شغار پر پہنچو تو رد کر دو، اور ایسی عورت کو نہ چھوڑو جسے اس کا ولی روکے یہاں تک کہ اسے اپنی قوم کے ہمسر میں نکاح کر دو۔“ ایک آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! میرا اور میری یتیمہ کا کیا معاملہ ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”کس بات کے بارے میں پوچھتے ہو؟ کیا تم خود نکاح کرنا چاہتے ہو کسی مالدار اور خوبصورت عورت سے؟“ اس نے کہا: ”ہاں اللہ کی قسم!“ آپ نے فرمایا: ”پھر کسی بدصورت اور بے مال سے نکاح کرو، یہ اس کے لیے بہتر ہوگا، اور اگر (نکاح کرنے والا) کوئی دوسرا ہو تو اسے اختیار دو۔“