حدیث نمبر: 1616
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَبَّرَ غُلَامًا لَهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَاعَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ. قَالَ جَابِرٌ: عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
مظاہر امیر خان
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک انصاری نے اپنے غلام کو تدبیر کر دیا (یعنی مرنے کے بعد آزاد کرنے کی وصیت کی)، اور اس کے سوا کوئی مال نہ تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بیچ دیا، اور ابن نحام نے اسے خریدا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ قبطی غلام تھا جو ابن زبیر کے دور میں فوت ہوا۔
حدیث نمبر: 1617
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، نَحْوَهُ، قَالَ: وَاسْمُهُ يَعْقُوبُ الْقِبْطِيُّ
مظاہر امیر خان
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس غلام کا نام یعقوب قبطی تھا۔
وضاحت:
أبو الزبير عن جابر کی روایت محدثین کے نزدیک قابلِ قبول ہے، بشرط کہ تدلیس کا احتمال رفع ہو
◄ یہاں سفیان الثوری نے "عن" سے روایت کی ہے، اور سفیان تشدید فی الرواية کے لیے معروف ہیں
◄ لہٰذا یہ روایت بھی صحیح یا حسن درجے کی ہے، خاص طور پر سابقہ روایت کی متابعت میں
◄ درایت و تقویت: یہ روایت پچھلی روایت (439) کا مؤید ہے، اور حدیث کو مزید تاریخی اور شخصی تفصیل فراہم کرتی ہے کہ غلام کا نام یعقوب تھا اور وہ قبطی (مصری النسل) تھا۔
◄ یہاں سفیان الثوری نے "عن" سے روایت کی ہے، اور سفیان تشدید فی الرواية کے لیے معروف ہیں
◄ لہٰذا یہ روایت بھی صحیح یا حسن درجے کی ہے، خاص طور پر سابقہ روایت کی متابعت میں
◄ درایت و تقویت: یہ روایت پچھلی روایت (439) کا مؤید ہے، اور حدیث کو مزید تاریخی اور شخصی تفصیل فراہم کرتی ہے کہ غلام کا نام یعقوب تھا اور وہ قبطی (مصری النسل) تھا۔
حدیث نمبر: 1618
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ، وَدَعَا الْغُلَامَ فَبَاعَهُ بِسَبْعِمِائَةِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ دَفَعَ الثَّمَنَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «اسْتَنْفِقْهُ» .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو تدبیر کیا اور اس کے سوا اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غضبناک ہو کر اسے سات سو درہم میں فروخت کیا اور اس کی قیمت غلام کو دے کر فرمایا: ”اسے اپنے خرچ میں استعمال کرو۔“
حدیث نمبر: 1619
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ
مظاہر امیر خان
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی طرح کا واقعہ مروی ہے۔
وضاحت:
روایت 441 اور 442 کا تعلق: روایت 441: عطاء عن النبي ﷺ = مرسل
روایت 442: عطاء عن جابر عن النبي ﷺ = متصل، مرفوع
◄ یعنی یہ روایت مرسل حدیث کی تقویت کرتی ہے اور اصل مضمون کو مرفوع اور متصل سند سے بیان کرتی ہے۔
روایت 442: عطاء عن جابر عن النبي ﷺ = متصل، مرفوع
◄ یعنی یہ روایت مرسل حدیث کی تقویت کرتی ہے اور اصل مضمون کو مرفوع اور متصل سند سے بیان کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 1620
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بَاعَ خِدْمَةَ الْمُدَبَّرِ»
مظاہر امیر خان
محمد بن علی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کی خدمت کو فروخت کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 1621
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، «أَنَّهُ كَرِهَ بَيْعَ الْمُعْتَقِ عَنْ دُبُرٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِهِ»
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبر غلام کو بیچنے کو ناپسند کرتے تھے، الا یہ کہ وہ خود بیچنا چاہے۔“
حدیث نمبر: 1622
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُ كَرِهَ بَيْعَهُ، وَرَخَّصَ فِي بَيْعِ خِدْمَتِهِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبر غلام کو بیچنے کو مکروہ سمجھتے تھے، البتہ اس کی خدمت کو بیچنے کی اجازت دیتے تھے۔“
حدیث نمبر: 1623
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُعْتَقِ عَنْ دُبُرٍ: «لَا تَبِعْهُ وَلَا تَهَبْهُ»
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبر غلام کو نہ بیچا جائے، نہ ہبہ کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1624
سَعِيدٌ قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ كَرِهَ بَيْعَهُ
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ مدبر غلام کو بیچنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1625
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُعْتَقِ عَنْ دُبُرٍ: «إِنَّهُ لَا يُبَاعُ» . فَقِيلَ لَهُ: فَإِنِ احْتَاجَ صَاحِبُهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ غَيْرُهُ؟ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى رَخَّصَ لَهُمْ، وَكَانَ قَوْلُهُ أَنْ لَا يُبَاعَ "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبر غلام کو بیچنا جائز نہیں۔ لیکن اگر مالک محتاج ہو اور اس کے پاس کوئی اور مال نہ ہو، تو بیچنے کی اجازت ہے، مگر ان کا اصل قول یہ ہے کہ اسے بیچنا درست نہیں۔“
حدیث نمبر: 1626
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «الْمُدَبَّرَةُ لَا تُبَاعُ، وَلَا تُمْهَرُ، وَلَا تُوهَبُ، وَيَطَؤُهَا سَيِّدُهَا إِنْ شَاءَ، وَوَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا»
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبرہ باندی کو نہ بیچا جائے، نہ اس سے مہر لی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور اس کا مالک اگر چاہے تو ہمبستری کر سکتا ہے، اور اس کی اولاد اس کے حکم میں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1627
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسِ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْأَحْنَفِ النَّخَعِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَلَمَّا طَالَتْ حَيَاةُ مَوْلَاهُ كَاتَبَهُ مِنْ خِدْمَتِهِ عَلَى نُجُومٍ مَعْلُومًا، فَأَدَّى بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ، فَمَاتَ مَوْلَاهُ، فَخَاصَمَهُ وَرَثَتُهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: «أَمَّا مَا أَخَذَ صَاحِبُكُمْ فِي حَيَاتِهِ فَهُوَ لَهُ، وَأَمَّا مَا بَقِيَ فَلَا شَيْءَ لَكُمْ إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ» .
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک شخص نے اپنے غلام کو تدبیر کیا تھا، غلام نے اس کی زندگی میں کچھ رقم ادا کی اور کچھ باقی رہ گئی، جب وہ مر گیا تو ورثاء نے اس سے مطالبہ کیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کچھ مالک نے اپنی زندگی میں وصول کر لیا، وہ اس کا ہے، اور جو باقی رہ گیا اس پر تمہارا کوئی حق نہیں۔“
وضاحت:
دو اساسی علتیں:حجاج بن أرطاة ◄ ضعیف و مدلس، اور یہاں عن سے روایت ہے . "عن جده" ◄ مبہم راوی۔ محمد بن قيس بن كعب النخعي مجہول الحال (بعض نے ذکر کیا مگر توثیق ثابت نہیں)
◄ سند کا حکم: سند ضعیف ہے، اور انقطاع و جہالت راوی کی بنا پر قابلِ احتجاج نہیں۔
◄ سند کا حکم: سند ضعیف ہے، اور انقطاع و جہالت راوی کی بنا پر قابلِ احتجاج نہیں۔
حدیث نمبر: 1628
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْحَجَّاجُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ حُرَيْثٍ الْأَسَدِيُّ، أَنَّهُ شَهِدَ شُرَيْحًا قَضَى بِمِثْلِ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے بھی اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔
حدیث نمبر: 1629
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِذَا بَاعَ خِدْمَةَ الْمُدَبَّرِ مِنْ نَفْسِهِ فَمَاتَ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ فَهُوَ حُرٌّ، وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر مدبر غلام نے خود اپنی خدمت بیچی اور کچھ دین باقی تھا، تو مرنے کے بعد وہ آزاد ہو گا اور اس پر کچھ لازم نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1630
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهُ بِمَا بَقِيَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ان کے لیے جائز ہے کہ وہ باقی رقم کے بدلے میں اسے پکڑ لیں۔“
حدیث نمبر: 1631
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «الْمُدَبَّرُ وَصِيَّةٌ يَرْجِعُ فِيهِ صَاحِبُهُ مَتَى شَاءَ»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبر غلام وصیت ہے، مالک جب چاہے رجوع کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1632
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: «وَلَدُ الْمُعْتَقَةِ عَنْ دُبُرٍ، بِمَنْزِلَتِهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبرہ باندی کی اولاد اس کے حکم میں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1633
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبرہ باندی کی اولاد اس کے حکم میں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1634
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت الشعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبرہ باندی کی اولاد اس کے حکم میں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1635
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: «وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ مَمْلُوكُونَ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابوالشعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبرہ باندی کی اولاد غلام ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1636
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: " وَلَدُ أُمِّ الْوَلَدِ وَالْمُدَبَّرَةِ. قَالَا: يَرِقُّونَ بِرِقِّهِمَا، وَيَعْتِقُونَ بِعِتْقِهِمَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ام ولد اور مدبرہ باندی کی اولاد ان کے حکم میں ہے، ان کے ساتھ آزاد یا غلام ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1637
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الرَّجُلِ يُزَوِّجُ أُمَّ وَلَدِهِ فَتَلِدُ الْأَوْلَادَ قَالَ: «إِذَا أُعْتِقَتْ أُمُّهُمْ فَهُمْ أَحْرَارٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اگر کسی نے اپنی ام ولد سے نکاح کیا اور وہ بچے پیدا کرے، تو جب ماں آزاد ہو جائے گی تو بچے بھی آزاد ہوں گے۔“
وضاحت:
قال يحيى بن معين: "روايات إسماعيل بن عياش عن أهل المدينة، خاصة عن عبيد الله بن عمر — مستقيمة" (الجرح والتعديل 2/204)
قال ابن حجر: هو صدوق في روايته عن أهل الشام، وأما عن غيرهم ففيه ضعف، لكن قد يُستثنى من ذلك بعض المشايخ
إسماعيل بن عياش کا "عبيد الله بن عمر" سے روایت کرنا قابلِ قبول ہے کیونکہ محدثین نے اسماعیل کی غیر شامیوں سے روایت میں نکارت کا ذکر کیا ہے، لیکن عبيد الله بن عمر کے بارے میں کسی خاص ضعف کی مثالیں موجود نہیں، بلکہ بعض محدثین نے اسماعیل کی عبيد الله سے روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
قال ابن حجر: هو صدوق في روايته عن أهل الشام، وأما عن غيرهم ففيه ضعف، لكن قد يُستثنى من ذلك بعض المشايخ
إسماعيل بن عياش کا "عبيد الله بن عمر" سے روایت کرنا قابلِ قبول ہے کیونکہ محدثین نے اسماعیل کی غیر شامیوں سے روایت میں نکارت کا ذکر کیا ہے، لیکن عبيد الله بن عمر کے بارے میں کسی خاص ضعف کی مثالیں موجود نہیں، بلکہ بعض محدثین نے اسماعیل کی عبيد الله سے روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 1638
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَخَّصَ فِي بَيْعِ وَلَدِ الْمُعْتَقَةِ عَنْ دُبُرٍ، وَقَالَ: «لِيَأْخُذْ مِنْ رَحِمِهَا مَا اسْتَطَاعَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مدبرہ باندی کی اولاد کی فروخت کی اجازت دی اور فرمایا: ”رحم کا جو حصہ لے سکے لے لو۔“
حدیث نمبر: 1639
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ مَسْرُوقٌ: «الْمُدَبَّرُ فَارِغٌ مِنَ الْمَالِ»
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مدبر غلام مال سے الگ ہو جاتا ہے۔“