حدیث نمبر: 1607
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّ غُلَامًا مِنْ غَسَّانَ مَرِضَ، فَأُخْبِرَ بِهِ عُمَرُ، فَقَالَ: مُرُوهُ فَلْيُوصِ فَأَوْصَى بِبِئْرِ جُشَمَ، فَبِيعَتْ بِثَلَاثِينَ أَلْفًا وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، أَوِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً "
مظاہر امیر خان
عمرو بن سلیم الزرقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک غلام جو قبیلہ غسان سے تھا، بیمار ہوا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی گئی، تو فرمایا: ”اسے کہو وصیت کر لے۔“ اس نے بیئر جشم نامی کنویں کی وصیت کر دی، جسے تیس ہزار میں بیچا گیا، اور وہ صرف دس یا بارہ برس کا تھا۔
حدیث نمبر: 1608
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى لِأَخْوَالٍ لَهُ مِنْ غَسَّانَ بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا بِئْرُ جُشَمَ، قُوِّمَتْ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَجَازَ الْوَصِيَّةَ قَالَ يَحْيَى: وَكَانَ الْغُلَامُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ
مظاہر امیر خان
ابو بکر بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک انصاری لڑکے نے اپنے غسانی ماموؤں کے حق میں بیئر جشم نامی زمین کی وصیت کی، جس کی قیمت تیس ہزار تھی۔ یہ معاملہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا، تو آپ نے وصیت کو نافذ کر دیا۔ اور لڑکے کی عمر دس سال تھی۔
حدیث نمبر: 1609
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَصِيَّةُ جَارِيَةٍ صَغَّرُوهَا وَحَقَّرُوهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ: «مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ أَجَزْنَاهُ»
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کے سامنے ایک لونڈی کی وصیت پیش کی گئی، جسے لوگ کمزور اور حقیر سمجھ رہے تھے۔ عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے حق بات کہی، ہم اس کی وصیت نافذ کریں گے۔“
حدیث نمبر: 1610
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَصِيَّةُ جَارِيَةٍ صَغَّرُوهَا وَحَقَّرُوهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ: «مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ أَجَزْنَا وَصِيَّتَهُ»
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے لونڈی کی وصیت کے بارے میں فرمایا: ”جس نے حق بات کہی، ہم اس کی وصیت نافذ کریں گے۔“
حدیث نمبر: 1611
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى شُرَيْحٍ وَصِيَّةُ غُلَامٍ لَمْ يَحْتَلِمْ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: «مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ أَجَزْنَا وَصِيَّتَهُ»
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک نابالغ لڑکے کی وصیت پیش کی گئی، تو انہوں نے فرمایا: ”جس نے حق بات کہی، ہم اس کی وصیت نافذ کریں گے۔“
حدیث نمبر: 1612
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الْغُلَامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ أَوْ يَحْتَلِمَ لِدَاتُهُ، وَلَا عَتَاقَتُهُ، وَلَا وَصِيَّتُهُ، وَلَا هِبَتُهُ، وَلَا صَدَقَتُهُ» .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لڑکے کا طلاق دینا، آزاد کرنا، وصیت کرنا، ہبہ اور صدقہ درست نہیں جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے یا اس کا ہم عمر بالغ نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 1613
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ إِلَّا الطَّلَاقَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، البتہ انہوں نے طلاق کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1614
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ «بَاعَتْ حُجْرَتَهَا مِنْ مُعَاوِيَةَ بِمِائَةِ أَلْفٍ، وَكَانَ لَهَا أَخٌ يَهُودِيٌّ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ أَنْ يُسْلِمَ فَيَرِثَ، فَأَبَى فَأَوْصَتْ لَهُ بِثُلُثِ الْمِائَةِ»
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے اپنی رہائش معاویہ کو ایک لاکھ میں فروخت کی۔ ان کا ایک یہودی بھائی تھا، انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی تاکہ وہ ان کا وارث بنے، مگر اس نے انکار کر دیا، تو انہوں نے اسے ایک تہائی مال کی وصیت کر دی۔
حدیث نمبر: 1615
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ «أَوْصَى لِأُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی باندیوں کے لیے چار چار ہزار کی وصیت کی۔