حدیث نمبر: 1602
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَلَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا: ”وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، عورت کی عطیہ شوہر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں، اور بچہ بستر کے حق دار کا ہے۔“
حدیث نمبر: 1603
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ إِلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ»
مظاہر امیر خان
عمرو بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، الا یہ کہ ورثہ اجازت دے دیں۔“
حدیث نمبر: 1604
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ؛ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، لَا تُنْفِقِ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامُ؟ قَالَ: «ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا» . ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةَ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ، وَالزَّعِيمَ غَارِمٌ»
مظاہر امیر خان
ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا: ”سن لو! اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ بچہ بستر والے کا ہے اور بدکار کے لیے پتھر ہے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف نسب کی نسبت کرے یا اپنے غیر موالی کی طرف انتساب کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس سے نہ کوئی نفل قبول ہو گا نہ فرض۔ عورت اپنے گھر سے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے۔“ عرض کیا گیا: ”یا رسول اللہ! کھانے میں بھی؟“ فرمایا: ”یہ تو ہمارے مال کا سب سے افضل حصہ ہے۔“ پھر فرمایا: ”ادھار لوٹانا فرض ہے، عاریت واپس کرنی ہے، قرض ادا کرنا ہے، اور ضمانت دینے والا ضامن ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1605
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا طَلْحَةُ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى بَاهِلَةَ قَالَ: نا قَتَادَةُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ. فَقَالَ: إِنِّي لَبَيْنَ جِرَانِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ. قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ؛ وَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ، أَلَا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، أَلَا مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ»
مظاہر امیر خان
عمرو بن خارجہ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ بچہ بستر والے کا ہے اور بدکار کے لیے پتھر ہے۔ جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے یا اپنے غیر موالی کی طرف انتساب کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اور اس سے نہ کوئی نفل قبول ہو گا نہ فرض۔“
وضاحت:
شهر بن حوشب: کثیر الأوهام، غیر متابع ہو تو ضعیف، طلحة أبو محمد: مجہول الحال (یہ روایت کے پہلے حصے میں علت ہے)
وله شواهد من حديث علي بن أبي طالب، فأما حديث علي بن أبي طالب، «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1870، 3172، 3179، 6755، 7300، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1370»
وله شواهد من حديث علي بن أبي طالب، فأما حديث علي بن أبي طالب، «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1870، 3172، 3179، 6755، 7300، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1370»
حدیث نمبر: 1606
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ»
مظاہر امیر خان
طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔“